Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہوٹل مالکان فوڈ سیفٹی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے پر مجبور

Updated: August 17, 2026, 3:38 PM IST | Inquilab News Network | Pune

ایف ڈی اے کی کارروائیوں سے خوفزدہ ہوکر خامیوں کو درست کرنے کیلئے کوشاں۔ پونے کی فوڈ ٹیکنالوجی فرم ’فوڈکیڑا‘ نے کہا کہ تکنیکی مدد مانگنے والوںکی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

Fearing the suspension of their licenses, hotel owners are trying to rectify shortcomings and deficiencies in their kitchens. Picture: INN
لائسنس معطل ہونے کےڈر سے ہوٹل مالکان اپنے کچن میں کمیوں اور خامیوں کو دورکرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تصویر: آئی این این

فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کمشنر تکارام منڈے کی قیادت میں جس طرح  ہوٹل، ریسٹورنٹ اور کھانے پینے کی دیگر جگہوں  اور چیزوں پر کارروائیاں کررہی  ہے، اس سے خوفزدہ ہوکر ہوٹل اور ریسٹورنٹ مالکان فوڈ سیفٹی قوانین پرعملدرآمد کرنے کی کوشش کررہے ہیں اسی لئے بہت سےفوڈ اسٹیبلشمنٹ   اپنے کچن میں صاف صفائی ، لازمی عملہ اور دیگر ضوابط کے تعلق سے فوڈ  سیفٹی کنسلٹنٹ اور ٹیکنولوجسٹ کی خدمات حاصل کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: بورڈ آف پیس اسرائیل کو غزہ امن منصوبہ قبول کرنے پر مجبور کرے، حماس کا مطالبہ

جب ممبئی کے ایک ہوٹل کو ایف ڈی اے کی جانب لائسنس کی معطلی کا نوٹس موصول ہوا جس میں تقریباً  ۴۰؍ نکات کی تفصیل تھی   جس پر عمل نہیں کیا گیا تھا جس کے بعد اس ہوٹل کے مالک نے پونے میں قائم فوڈ ٹیکنالوجی فرم ’فوڈکیڑا‘ کو اپنے فوڈ سیفٹی مینجمنٹ سسٹم کو ٹھیک کرنے کیلئے کرایہ پر حاصل کیا۔  انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق ’فوڈکیڑا‘ کے بانی آکاش چکور نے اس بات کو نوٹ کیا ہے کہ ہوٹل کاروبار کیلئے تکنیکی مدد  مانگنے والوں میں   اضافہ ہوا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ’’ہمارے ماہرین نے کھانے پینے  کا کاروبار کرنے والےمتعدد   آپریٹرس کو لائسنس کی معطلی منسوخ کرنے اورحکومت کی جانب سے  ان میں بہتری  لانے کے نوٹس کا جواب دینے میں مدد کی ہے۔ ہم فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھاریٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی)  کے ذریعہ بیان کئے گئے حفاظتی آڈٹ، عملے کی تربیت اورکام کے طریقے  سے متعلق فوڈ آپریٹروں کی رہنمائی کرتے ہیں۔ فوڈ سیفٹی کے قوانین کے خلاف ورزی پر ایف ڈی اے  کےکریک ڈاؤن کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ صرف پونے ڈویژن میں  ایف ڈی اے  افسران نے  ۶۰؍ سے زیادہ فوڈ اسٹیبلشمنٹ  کے لائسنس معطلی کرنے کے احکامات جاری کئے گئے۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان کے ۵؍ بڑے تجارتی گھرانوں کا ملک کی کارپوریٹ آمدنی کے ۶۰؍فیصدپر قبضہ

پونے ریسٹورنٹس اینڈ ہوٹلیئرز اسوسی ایشن (پراہا)  جو ۵۰۰؍ سے زیادہ ممبران کی نمائندگی کرتی ہے، کے اندازوں کے مطابق  پونے میں  ۱۰؍ تا ۱۵؍ ہزار ریسٹورنٹ ہیں۔’پراہا‘ کے ایک سینئر عہدیدار نے قوانین کے نفاذ کیلئے کئے جانے والے  اقدامات کا خیرمقدم کیا اور کہاکہ ’’ایف ڈی اے کی کارروائی ضروری ہے کیونکہ وہ ادارے جو اپنے کچن میں بنیادی حفظان صحت کے اصولوں پر عملدرآمد  میں ناکام رہتے ہیں، ان کا جوابدہ ہونا ضروری ہے۔ ۶۰؍  سے زیادہ متاثرہ فوڈ آپریٹرس نےان خامیوںکی نشاندہی کرنے اور اصلاحی اقدامات   کے لئے فوڈ کنسلٹنٹ  کی خدمات حاصل کی ہے۔واضح رہے کہ ممبئی اور دیگر شہروں میں کئی ہوٹلوں اور ریسٹورنٹ کے لائسنس معطل کردیئے گئے تھے جن کے مالکان نے کمیاں اور خامیاں دورکردیں اور حفظان صحت کے اصولوں پر عملدرآمد کرنا شروع کردیا جس کے بعد  ان کے لائسنس بحال کردیئے  گئے۔

یہ بھی پڑھئے: ’ٹرمپ انتظامیہ ایران پر جوہری حملے پر غور کر رہی ہے‘: مارجوری ٹیلر گرین کا بڑا دعویٰ

مالکان فوڈ سیفٹی کے اصولوں پر توجہ دینے لگے
ریسٹورنٹ مالکان جن باتوں پر توجہ دے رہے ہیں، ان میں   حفظان صحت جامع اصولوں اور صاف صفائی کا آڈٹ، باورچی خانے کے عملے کیلئے لازمی فوڈ سیفٹی ٹریننگ اور سرٹیفیکیشن  (ایف او ایس ٹی اے سی )، معمول کے کھانے کے اجزاء اور پانی کے معیار کی جانچ، کمرشیل پیسٹ کنٹرول  کے دستاویزات، ملازموں کا میڈیکل فٹنس سرٹیفیکیشن  اور سیففوڈ ہینڈلنگ کیلئے ’اسٹینڈرڈ  آپریٹنگ پروسیجر(ایس او پی) شامل ہیں۔
اسٹریٹ وینڈرس کی تربیت کا اہتمام
ایف ایس ایس اے آئی نے اسٹریٹ وینڈرس کی جانب توجہ دیتے ہوئے ان کی تربیت کا اہتمام کیا ہے جس کے تحت  اس نے ملک بھر میں سڑکوں پر کھانے پینے کا کاروبار کرنے والے  ۳؍ لاکھ  سے زیادہ ہاکرس کو حفظان صحت، سیف فوڈ  ہینڈلنگ  اور فضلے کو ٹھکانے لگانے کی  تربیت  دی جن میں صرف ممبئی سے ۱۰؍ ہزار سے زیادہ دکاندار تھے۔ ایف ایس ایس اے آئی(ویسٹرن ریجن) کے ریجنل ڈائریکٹر   پریتی چودھری نے کہا کہ حفظان صحت کے اصولوں پر طویل مدتی تعمیل کیلئے تربیت ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا  کہ ہمارا وسیع تر ہدف عملے کی مسلسل تربیت ہے تاکہ فوڈ سیفٹی کے اصولوں پر عملدرآمد کا کلچر بنایا جاسکے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK