لکھنؤ کے اشوک بہار ۳؍ مرتبہ یہ امتحان دے چکے ہیں اور اب ۲۱؍ جون کو چوتھی مرتبہ امتحان دینگے ، وہ اپنی والدہ کی خواہش پوری کرنے کیلئے اس مشکل سے گزررہے ہیں۔
EPAPER
Updated: May 22, 2026, 12:13 PM IST | New Delhi
لکھنؤ کے اشوک بہار ۳؍ مرتبہ یہ امتحان دے چکے ہیں اور اب ۲۱؍ جون کو چوتھی مرتبہ امتحان دینگے ، وہ اپنی والدہ کی خواہش پوری کرنے کیلئے اس مشکل سے گزررہے ہیں۔
نیٹ امتحان کی منسوخی سے متاثر ہونے والے ۲۲؍ لاکھ امیدواروں میں لکھنؤ کے ۷۰؍ سالہ اشوک بہار بھی شامل ہیں، جو اگلے ماہ چوتھی بار یہ امتحان دینے جا رہے ہیں۔ ان کا مقصد اپنی آنجہانی والدہ کی آخری خواہش پوری کرنا ہے، جو انہیں ڈاکٹر بنتے دیکھنا چاہتی تھیں۔ اشوک بہار کے خاندان اور قریبی رشتہ داروں میں تقریباً ۲۰؍ ڈاکٹر ہیں۔ ان کی اہلیہ گائناکولوجسٹ ہیں، دو بہنیں اور بہنوئی بھی ڈاکٹر ہیںجبکہ ان کے مرحوم والد بھی طبی شعبے سے وابستہ تھے۔ ان کی اکلوتی بیٹی امریکہ میں آئی ٹی پروفیشنل کے طور پر کام کر رہی ہے۔اشوک بہار نے بتایا کہ نیٹ امتحان کی منسوخی ان کے لئےشدید صدمے کا باعث بنی۔ انہوں نے کہا کہ ’’امتحان منسوخ ہونے کی خبر میرے لئے بہت بڑا دھچکا تھی۔ یقین کریں، میں اتنے شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوا کہ بیمار پڑ گیا۔ یہ میری تیسری کوشش تھی اور میرے لیے اس میں کامیابی حاصل کرنا بہت اہم تھا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: غیر ملکی دورہ سے لوٹنے کے بعد وزیر اعظم مودی کی صدارت میں کابینہ کی میٹنگ
اشوک بہار کی والدہ، ساوتری دیوی جو۱۹۹۰ء میں انتقال کر گئیں ہمیشہ چاہتی تھیں کہ ان کا بیٹا اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ڈاکٹر بنے۔ بہار نے بتایا کہ انہوں نے پہلی بار۱۹۷۴ءمیں اُس وقت کے میڈیکل انٹرنس امتحان میں شرکت کی تھی، لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ دوسری بار ۲۰۲۳ء میں امتحان دینے گئے، مگر امتحانی مرکز دور دراز علاقے میں ہونے کے باعث تاخیر سے پہنچے اور امتحان دینے کی اجازت نہیں ملی۔ تین سال بعد، مئی ۲۰۲۶ء میں انہوں نے دوبارہ نیٹ دیا۔۱۹۵۷ء میں پیدا ہونے والے اشوک بہار ہمیشہ تعلیم کے شوقین رہے ہیں۔ انہوں نے بی ایس سی (بوٹنی، زولوجی اور کیمسٹری) کے بعد کمپیوٹر ایپلی کیشنز میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ، قانون کی ڈگری اور ایم بی اے بھی کیا ہے ۔ اس کے بعد کئی دہائیوں تک ایک سرکاری پبلک سیکٹر ادارے میں خدمات انجام دیں۔۲۰۰۰ء میں’’ انڈین ڈرگس اینڈفارما سیوٹیکلز ‘‘ میں ہیڈ آف مارکیٹنگ کے عہدے سے ریٹائر ہونے کے بعد وہ مقامی اخبار کے ایڈیٹر بھی رہے اور جزوقتی وکالت بھی کی۔
اپنی تیاری کے حوالے سے اشوک بہار نے کہاکہ ایک عمر کے بعد انسان میں پختگی اور عمومی علم آ جاتا ہے۔ میں نے کسی کوچنگ سینٹر کا سہارا نہیں لیا۔ دوستوں اور خیرخواہوں کے فراہم کردہ اسٹڈی میٹریل سے خود تیاری کی۔امتحان کی منسوخی پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ذرا ان ۲۲؍ لاکھ امیدواروں کی حالت کا تصور کریں، جنہوں نے اس امتحان کی تیاری پر اتنی محنت کی اور سرمایہ لگایا۔اشوک بہار نے اعلان کیا کہ وہ جلد ہی الٰہ آباد ہائی کورٹ میں ایک عرضی دائر کریں گے۔ ان کے مطالبات میں شامل ہے کہ عمر رسیدہ امیدواروں کے لئے خصوصی رعایت کے تحت منسوخ شدہ امتحان کے نمبروں پر غور کیا جائےکیونکہ دوبارہ امتحان دینا بزرگ امیدواروں کے لئے نہایت دشوار ہوگا۔ اس کے علاوہ وہ میڈیکل نشستوں میں سینئر شہریوں کیلئے ایک فیصد ریزرویشن بھی دیا جائے۔
یہ بھی پڑھئے: نیٹ پیپر لیک معاملہ میں لاتور سے ایک ڈاکٹر گرفتار، بیٹے کیلئے پرچہ لیا تھا
امتحان دینے پر لوگوں کے ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہاکہ ہر انسان زندگی کو مختلف انداز سے دیکھتا ہے۔ یہ میرا خواب ہے، اس لیے میں اسے اپنی خاطر پورا کرنے کی کوشش جاری رکھوں گا۔طبی ڈگری حاصل کرنے کے بعد کے منصوبوں پر بات کرتے ہوئے بہار نے کہا کہ ملک میں صحت سے متعلق شعور کی شدید کمی ہے، خصوصاً جگر کی بیماریوں کے حوالے سے۔ ان کا ارادہ طبی علم حاصل کرنے کے بعد سماجی خدمت اور عوام میں بیداری پیدا کرنے کا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ وہ لکھنؤ کے قریب اپنے گاؤں گہرو میں ’’دیویہ پریم آشرم‘‘ تعمیر کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ طبی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہاں رہنے والوں کی بہتر خدمت کر سکیں۔