ایران میں جاری احتجاج اور سکیوریٹی کی بگڑتی صورتحال کے باعث امریکہ نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ انٹرنیٹ بندش، سفری پابندیوں اور بین الاقوامی دباؤ کے ساتھ خطے میں کشیدگی مزید بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔
EPAPER
Updated: January 13, 2026, 5:00 PM IST | Tehran
ایران میں جاری احتجاج اور سکیوریٹی کی بگڑتی صورتحال کے باعث امریکہ نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ انٹرنیٹ بندش، سفری پابندیوں اور بین الاقوامی دباؤ کے ساتھ خطے میں کشیدگی مزید بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔
ایران میں جاری احتجاج اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث امریکہ نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ ایران میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مظاہروں کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے، جو مزید تشدد کی صورت اختیار کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں گرفتاریوں اور زخمی ہونے کے واقعات کا خدشہ ہے۔ امریکی حکام نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ اگر ممکن ہو تو زمینی راستوں کے ذریعے آرمینیا یا ترکی کے راستے ایران سے نکل جائیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کی ویب سائٹ کے مطابق ایران میں سیکوریٹی اقدامات سخت کر دیئے گئے ہیں، کئی سڑکیں بند ہیں، عوامی ٹرانسپورٹ متاثر ہو چکی ہے اور انٹرنیٹ تک رسائی میں شدید رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔
محکمہ خارجہ نے بتایا ہے کہ ایرانی حکومت نے موبائل فون، لینڈ لائن اور قومی انٹرنیٹ نیٹ ورک تک رسائی محدود کر دی ہے۔ اس کے ساتھ متعدد ایئرلائنز نے ایران کیلئے پروازیں محدود یا منسوخ کر دی ہیں، جبکہ کچھ فضائی کمپنیوں نے ۱۶؍جنوری جمعہ تک اپنی سروس معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جو شہری اس وقت ایران چھوڑنے کے قابل نہیں ہیں، وہ اپنے گھروں یا کسی محفوظ عمارت میں رہیں اور پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء اپنے پاس رکھیں۔ اس کے علاوہ امریکی اداروں نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ امریکہ اور ایران کی دوہری شہریت رکھنے والے افراد ایران سے روانگی کے وقت ایرانی پاسپورٹ استعمال کریں۔ محکمہ خارجہ کے مطابق ایرانی حکومت دوہری شہریت کو تسلیم نہیں کرتی اور ایسے افراد کو صرف ایرانی شہری سمجھا جاتا ہے۔ بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ امریکی شہریوں کو ایران میں پوچھ گچھ، گرفتاری اور حراست کا سنگین خطرہ لاحق ہے، جبکہ امریکی پاسپورٹ دکھانا یا امریکہ سے تعلق ظاہر کرنا بھی گرفتاری کی وجہ بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: نیتن یاہو کو تمام الزامات سے بری کرنے کیلئے اتحاد کی قانون سازی
ایران نے پابندیاں نرم کر دیں، بیرونِ ملک کالز کی اجازت، ہلاکتوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ
ایران نے منگل کو اپنے شہریوں پر عائد کچھ پابندیاں نرم کر دیں اور کئی دنوں بعد پہلی بار انہیں موبائل فون کے ذریعے بیرونِ ملک کال کرنے کی اجازت دی۔تاہم، انٹرنیٹ پر عائد پابندیاں نرم نہیں کی گئیں اور نہ ہی ٹیکسٹ میسجنگ کی خدمات بحال کی گئیں، جبکہ ریاست کے خلاف کئی دنوں سے جاری خونریز احتجاج کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد کم از کم ۶۴۶؍تک پہنچ چکی ہے۔اگرچہ ایرانی شہری بیرونِ ملک کال کرنے کے قابل تھے، لیکن ملک سے باہر موجود لوگ انہیں کال نہیں کر سکتے تھے۔ دارالحکومت تہران میں موجود کئی افراد نے اسوسی ایٹڈ پریس کو یہ بات بتائی۔ان گواہوں نے، جو ممکنہ انتقامی کارروائی کے خوف سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بولے، کہا کہ ایس ایم ایس ٹیکسٹ میسجنگ اب بھی بند ہے اور ایران کے اندر انٹرنیٹ صارفین بیرونِ ملک کسی بھی چیز تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے، اگرچہ حکومت کی منظور شدہ ویب سائٹس تک مقامی رسائی موجود ہے۔یہ واضح نہیں تھا کہ آیا مزید پابندیاں نرم کی جائیں گی یا نہیں، کیونکہ حکام نے جمعرات کی رات ملک کے اندر اور بیرونی دنیا سے تمام مواصلاتی رابطے منقطع کر دیئے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ایڈیلیڈ فیسٹیول، آسٹریلیا: فلسطینی مصنفہ پر پابندی کیخلاف درجنوں مصنفین کا بائیکاٹ
ایران میں ۱۰۰؍ گھنٹے سے زائد وقت سے انٹرنیٹ بند
لندن میں قائم انٹرنیٹ مانیٹرنگ گروپ نیٹ بلاکس نے پیر کو بتایا کہ ایران میں گزشتہ۱۰۰؍ گھنٹوں سے زیادہ وقت سے انٹرنیٹ منقطع ہے۔ گروپ کے مطابق، امریکی سوشل میڈیا کمپنی ایکس پر کی گئی ایک پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں قومی سطح پر انٹرنیٹ کنیکٹیوٹی معمول کے مقابلے میں تقریباً صرف ایک فیصد رہ گئی ہے۔
ٹرمپ سفارت کاری کے ذریعے مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں، فضائی حملہ آخری آپشن ہے: وہائٹ ہاؤس
وہائٹ ہاؤس نے پیرکو کہا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ سفارتکاری کے امکانات تلاش کرنے میں ’دلچسپی رکھتے ہیں۔ ‘وہائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا کہ اگر مظاہرین پر سکیوریٹی فورسیز کی جانب سے حملے کئے گئے تو ٹرمپ ایرانی اہداف کے خلاف فوجی طاقت استعمال کرنے کی اپنی دھمکیوں پر عمل کرنے سےنہیں گھبراتے، تاہم، ان کی ترجیح تہران کے ساتھ سفارتکاری کو آگے بڑھانا ہے۔ انہوں نے وہائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ایک بات جس میں صدر ٹرمپ بہت ماہر ہیں وہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے تمام آپشنز کھلے رکھتے ہیں۔ اور فضائی حملے ان بہت سے آپشنز میں سے ایک ہوں گے جو بطور کمانڈر ان چیف میز پر موجود ہیں۔ صدر کیلئے سفارتکاری ہمیشہ پہلا آپشن ہوتی ہے۔ ‘‘لیویٹ نے مزید کہا، ’’ایرانی حکومت کی جانب سے جو باتیں عوامی طور پر سننے کو مل رہی ہیں وہ ان پیغامات سے بالکل مختلف ہیں جو انتظامیہ کو نجی طور پر موصول ہو رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ صدر ان پیغامات کو جانچنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ تاہم، اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ صدر نے یہ ثابت کیا ہے کہ جب اور جہاں وہ ضروری سمجھیں، فوجی آپشن استعمال کرنے سے نہیں گھبراتے، اور اس بات کو ایران سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: ایران : احتجاج میں کمی ، حکومت حامی عوام سڑکوں پراُترے
جلا وطن شہزادے رضا پہلوی کی مظاہرین کو مسلسل بھڑکانے کی کوشش، امریکی مداخلت کا مطالبہ
ایران میں شدت اختیار کرتی احتجاجی تحریک کے دوران امریکہ کی مداخلت کیلئےڈونالڈ ٹرمپ کو قائل کرنے کی کوشش میں، ایران کے جلاوطن ولی عہد رضا پہلوی نے پیر کو امریکی صدر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’’صدر ٹرمپ اوباما نہیں ہیں ‘‘ اور مظاہرین کیلئے ان کے حمایتی بیانات اس بات کا ثبوت ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ’’صدر ایک عملی انسان اور امن کے داعی ہیں ‘‘ اور انہیں چاہئے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی حکومت کے خلاف فوری کارروائی کریں تاکہ ’’دنیا میں اب تک کا سب سے بڑا امن‘‘ قائم ہو سکے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا:’’صدر ایک عملی انسان اور امن کے داعی ہیں۔ اب وہ ایسا اقدام کر سکتے ہیں جو دنیا میں اب تک کا سب سے بڑا امن لا سکے۔ ایرانیوں کی مدد کر کے اس مجرمانہ حکومت کا خاتمہ کرائیں۔ ‘‘ پہلوی نے زور دیا کہ یہ حکومت کمزور ہو چکی ہے اور آخری سانسیں لے رہی ہے اور ایرانی عوام اسے گرانےکیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے ڈونالڈ ٹرمپ سے اپیل کی کہ وہ اس ’’مجرمانہ حکومت‘‘ سے مذاکرات نہ کریں۔
رضا پہلوی نے یہ بیانات امریکی ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم کی پوسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے دیے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ کو ایرانی حکومت کے وحشیانہ جبر کے خاتمےکیلئے مداخلت کرنی چاہئے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران نے جوہری مذاکرات کیلئے رابطہ کیا اور بات چیت کرنا چاہتا ہے: ٹرمپ
ایران نے مظاہروں کی حمایت پر یورپی سفیروں کو طلب کیا
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق ایران نے تہران میں فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کی نمائندگی کرنے والے سفارت کاروں کو طلب کیا ہے تاکہ ان ممالک کی جانب سے اسلامی جمہوریہ کواحتجاجی مظاہروں کی مبینہ حمایت پر احتجاج کیا جا سکے۔ پیر کو ایران کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ سفارت کاروں کو ’’شرپسندوں ‘‘کی جانب سے کی گئی توڑ پھوڑ کی ویڈیو دکھائی گئی اور ان سے کہا گیا کہ وہ اپنی حکومتوں کو ہدایت دیں کہ مظاہرین کی حمایت میں دیئےگئے ’’سرکاری بیانات واپس لئے جائیں۔ ‘‘پیرس میں فرانسیسی وزارتِ خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایران کی جانب سے یورپی سفیروں کو طلب کیا گیا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پیر کو ایران کے مختلف علاقوں میں حکومت کی حمایت میں مظاہرے کئے گئے۔