ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز پر امریکہ کے محصول عائد کرنے کے فیصلے کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہا کہ امریکی محصول زیادہ ہے، اس کے مقابلے میں ایرانی محصول زیادہ معقول ہے، ساتھ ہی اس اہم گزرگاہ پر تہران کے کنٹرول کا اعادہ کیا۔
EPAPER
Updated: July 14, 2026, 10:12 PM IST | Tehran
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز پر امریکہ کے محصول عائد کرنے کے فیصلے کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہا کہ امریکی محصول زیادہ ہے، اس کے مقابلے میں ایرانی محصول زیادہ معقول ہے، ساتھ ہی اس اہم گزرگاہ پر تہران کے کنٹرول کا اعادہ کیا۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پیر کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ان مطالبات کا مذاق اڑایا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام کارگو پر محصولات عائد کیے جائیں، اور کہا کہ تہران کم شرح وصول کرے گا۔جبکہ بڑھتی ہوئی کشیدگی جنگ کی طرف واپسی کا خطرہ پیدا کر دیاٹرمپ نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ امریکی فوج ہرمز میں ایران کی بحری ناکہ بندی بحال کرے گی اور اس اہم آبی گزرگاہ سے بھیجے جانے والے تمام کارگو پر محصول عائد کرے گی۔لیکن تہران نے دہرایا کہ وہ آبنائے کو کنٹرول کرتا ہے۔ایکس پر ایک پوسٹ میں عراقچی نے لکھا، ’’امریکی صدر بالکل درست کہہ رہے ہیں۔ جو بھی آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی جہازوں کی محفوظ اور بلا خطر آمدورفت فراہم کرتا ہے، اسے اس خدمت کا معاوضہ ملنا چاہیے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: نیپال: نوجوان کی خودسوزی کے بعد بالین شاہ حکومت کیخلاف مظاہرے، استعفیٰ کا مطالبہ
بعد ازاں وزیر خارجہ نے ایران کی دائمی نگرانی پر زور دیا، انہوں نے کہا ،’’ایران ہمیشہ سے آبنائے کا نگران رہا ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ ۲۰؍صد یقیناً بہت زیادہ ہے۔ تاہم روایتی آزادانہ بحری پالیسیوں سے رخ موڑ کرامریکہ اب تک کہتا رہا تھا کہ آبنائے سب کے لیے کھلی رہنی چاہیے اور کوئی ٹول عائد نہیں ہونا چاہیے، جیسا کہ فروری میں امریکہ-اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں سے پہلے تھا۔‘‘ یاد رہے کہ ٹرمپ نے اس سے قبل ٹروتھ سوشل پر لکھا تھا، ہم ایرانی ناکہ بندی بحال کر رہے ہیں۔ تمام ممالک کو آبنائے کا منصفانہ اور کھلا استعمال حاصل ہوگا۔امریکہ کو کارگو کی مالیت کا ۲۰؍ معاوضہ دیا جائے گا تاکہ حفاظت اور سلامتی فراہم کرنے کے کام کے لیے درکار تمام اخراجات کو پورا کرنے میں مدد مل سکے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ایران اور امریکہ میں پھر ٹھن گئی، ایک دوسرے پر شدید حملے
دریں اثنا، ایران نے عہد کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک، بشمول امریکہ، ہرمز میں ٹریفک کے انتظام اور کنٹرول میں مداخلت کرتا ہے تو ایران جوابی کارروائی کرے گا۔تہران نے زور دیا ہے کہ اسے آبنائے کے ذریعے جہاز رانی کا انتظام کرنے اور گزشتہ ماہ دستخط کردہ عبوری امن معاہدے کے مطابق ممکنہ طور پر فیس وصول کرنے کا حق حاصل ہے۔ جبکہ اقوام متحدہ کی ایجنسی، انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (IMO) نے بین الاقوامی آبی گزرگاہوں سے گزرنے والے جہازوں پر ٹولز کے نفاذ کی مخالفت کی ہے۔آئی ایم او نے ایک بیان میں کہا، ’’محض آبنائے سے گزرنے کے لیے لازمی ٹول متعارف کرانے کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔‘‘