سینٹرل ریلوے نے۸۰؍ہزارمسافروں کی رقم لوٹائی تو ویسٹرن ریلوے نے۸؍ہزار مسافروں کے ٹکٹ کے پیسے واپس کئے۔
ویرار اسٹیشن پر طویل مسافتی ٹرینیں اور مسافر نظر آرہے ہیں۔(تصویر:آئی این این
تیز بارش کی وجہ سے کئی طویل مسافتی ٹرینیں رد کئےجانے سے ریلویز نے تقریباً ۹۰؍ ہزار مسافروں کو ساڑھے ۶؍ کروڑ روپے لوٹائے۔ اس میں سینٹرل ریلوے نے ۸۰؍ ہزار مسافروں کی رقم لوٹائی تو ویسٹرن ریلوے نے ۷؍ہزار سے زائدمسافروں کے ٹکٹ کے پیسے واپس کئے۔ اتنی بڑی تعداد میںمسافر سفر کرنے سےمحروم رہ گئے۔ یہ محض ایک دن یعنی ۶؍جولائی کی صورتحال تھی۔
سینٹرل ریلوے میں لوناولہ اورکرجت سیکشن پر تودہ گرنے کےسبب کئی طویل مسافتی ٹرینیں رد کردی گئی تھیں، کچھ کوجزوی طور پرمنسوخ کیا گیا تھا۔اس کے نتیجے میں۷۹؍ لاکھ ۷۴۷؍ مسافر اپنی منزل تک نہیںپہنچ سکے ، انہیںاپنا ٹکٹ رد کرانا پڑا تھا۔ریلوے نےان مسافروں کو ۵؍ کروڑ۹۱؍ لاکھ روپے واپس کئے۔ سینٹر ل ریلوے کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ اتفاق سے اسی دن یعنی ۶؍ جولائی ۲۰۲۵ء کو اسی طرح کے حالات کے سبب ۳۸؍ ہزار ۶۸۷؍ مسافروں کو ٹکٹ واپسی کے عوض ۳؍کروڑ ایک لاکھ روپے لوٹائے گئے تھے۔ اس طرح ۶؍ جولائی ۲۰۲۶ء میں ٹکٹ واپسی کی رقم پانےوالے مسافروں کی تعداد میں ۱۰۱؍ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ریلوے نے بڑی چالاکی سےیہ توبتادیا کہ ریفنڈ میں۱۰۱؍ فیصد کااضافہ ہواہے لیکن یہ نہیںکہا کہ اتنی بڑی تعداد میں مسافر اپنی منزل تک پہنچنے سے محروم رہے۔
اسی طرح ویسٹرن ریلوے میں۶؍جولائی کو منسوخ کی جانے والی ٹرینوں کے سبب ۷۱۳۵؍ مسافرو ں نےاپنے ٹکٹ رد کروائے۔ اس کے عوض ریلوے کے ضابطے کے تحت انہیں ۵۲؍ لاکھ ۶۵؍ ہزار ۲۱۲؍ روپے لوٹائے گئے۔ اس تعلق سے مسافروں کوحالات سے مطلع کرنے کیلئے ۹۹؍ ٹرینوں کے ایک لاکھ ۲۷؍ہزار ۸۹۲؍ ایس ایم ایس بھیجے گئے۔