Updated: January 07, 2026, 9:30 PM IST
| Abu Dhabi
یو اے ای کے دارالحکومت ابوظہبی میں ۴؍ جنوری کی علی الصبح پیش آنے والے دلخراش سڑک حادثے میں کیرالا سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان کے چار کمسن بچوں اور گھریلو ملازمہ بشریٰ جاں بحق ہو گئے ہیں جبکہ والدین اوربچی زخمی ہیں۔ خاندان لیوا فیسٹیول سے واپس جا رہا تھا کہ کار بے قابو ہو کر پلٹ گئی۔
عبداللطیف اور رخسانہ اپنے بچوں کے ساتھ۔ تصویر: ایکس
۴؍ جنوری کو صبح ابوظہبی دبئی شاہراہ پر پیش آنے والے خوفناک سڑک حادثے میں کیرالا کے ایک خاندان کے چار بچوں اور گھریلو ملازمہ بشریٰ فیاض (۴۹؍ سال) کی موت ہو گئی جبکہ تین افراد شدید زخمی ہیں۔ حادثہ شہامہ کے قریب اُس وقت پیش آیا جب عبداللطیف اور رخسانہ اپنے خاندان کے ساتھ ابوظہبی کے مشہور لیوا فیسٹیول سے دبئی واپس آ رہے تھے۔ گاڑی راستے میں اچانک بے قابو ہو گئی اور زور دار دھچکے سے الٹ گئی، جس کے نتیجے میں کار میں سوار سات افراد میں سے چار جائے وقوعہ ہی پر فوت ہوگئے۔ ان میں شامل ہیں: آشاز (۱۴؍ سال)، عمار (۱۲؍ سال)، عیاش (۵؍ سال) اور گھریلو ملازمہ بشریٰ۔ پولیس اور ایمبولینس عملے نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو شیخ شخبوت میڈیکل سٹی اسپتال منتقل کیا، جہاں ۷؍ سالہ عظام جو حادثے میں بری طر زخمی تھا، دورانِ علاج زخموں کی تاب نہ لا کر ۵؍ جنوری کی شام انتقال کر گیا، جس سے مجموعی ہلاکتوں کی تعداد پانچ ہو گئی۔
یہ بھی پڑھئے: شریف عثمان ہادی کو عوامی لیگ کے لیڈروں کے حکم پر قتل کیا گیا: بنگلہ دیش پولیس
حادثے میں عبداللطیف، رخسانہ اور ان کی ۱۰؍ سالہ بیٹی عزہ شدید زخمی ہوئے ہیں، جن کا اسپتال میں علاج جاری ہے، جبکہ والد کی حالت بہتر بتائی جارہی ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق ماں رخسانہ کو کندھے اور ٹانگ میں چوٹیں آئی ہیں اور وہ فی الحال اسپتال میں ہیں۔ گھریلو ملازمہ بشریٰ فیاض کی لاش ۵؍ جنوری کی رات کے قریب کیرالا روانہ کی گئی جہاں ۶؍ جنوری کو ان کی تدفین عمل میں آئی۔ خاندان کے بچوں کو ۶؍ جنوری جنوری کی دوپہر دبئی کے ال قُصَیس قبرستان میں سوگوار ماحول میں ان کے عزیز و اقارب کی موجودگی میں ایک ساتھ سپردِ خاک کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: نیویارک: میئر ظہران ممدانی کا عملی اقدام، پل کے متنازع ’ابھار‘ کی مرمت کی
اس واقعے نے نہ صرف خاندان بلکہ پوری کمیونٹی کو شدید صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ اسپتال کے باہر اور قبرستان میں لوگوں کی بڑی تعداد نے غم میں شریک ہو کر مہلوکین کیلئے دعائیں کیں۔ سماجی کارکنان اور مقامی کمیونٹی ممبران نے زخمی خاندان کی ہر ممکن مدد کا وعدہ کیا ہے۔ ہندوستانی اور پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے بھی زخمیوں کو سہولتیں فراہم کرنے کیلئے مقامی حکام سے تعاون کیا جا رہا ہے جبکہ واقعے کی مزید قانونی تحقیقات جاری ہیں۔