• Fri, 09 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

شریف عثمان ہادی کو عوامی لیگ کے لیڈروں کے حکم پر قتل کیا گیا: بنگلہ دیش پولیس

Updated: January 07, 2026, 8:05 PM IST | Dhaka

بنگلہ دیشی اخبار دی بزنس اسٹینڈرڈ کے مطابق پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ کارکن شریف عثمان ہادی کو کالعدم سیاسی جماعت عوامی لیگ اور اس کے طلبہ ونگ چھاترا لیگ سے وابستہ لیڈروں کی ہدایت پر قتل کیا گیا۔ پولیس کے مطابق یہ قتل سیاسی انتقام کا شاخسانہ ہے، جبکہ واقعے میں ملوث ۱۷؍ افراد کے خلاف چارج شیٹ داخل کی جا چکی ہے۔

Sharif Osman Hadi. Picture: INN
شریف عثمان ہادی۔ تصویر: آئی این این

بنگلہ دیشی اخبار دی بزنس اسٹینڈرڈ کی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش پولیس نے منگل کو الزام عائد کیا کہ کارکن شریف عثمان ہادی کو کالعدم سیاسی جماعت عوامی لیگ اور اس کے طلبہ ونگ چھاترا لیگ سے منسلک لیڈروں کی ہدایت پر قتل کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ قتل واضح طور پر ’’سیاسی انتقام‘‘ کا نتیجہ ہے۔ ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس کی جاسوسی شاخ کے ایڈیشنل کمشنر محمد شفیق الاسلام کے مطابق ہادی نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی قیادت میں عوامی لیگ اور چھاترا لیگ کی ماضی کی سرگرمیوں پر کھل کر تنقید کی تھی۔ اسلام کے حوالے سے بتایا گیا کہ ہادی کے واضح بیانات نے چھاترا لیگ اور اس سے وابستہ تنظیموں کے لیڈروں اور کارکنوں کو شدید ناراض کیا۔ پولیس کے مطابق ملزمان کی سیاسی شناخت اور مقتول کے سابقہ سیاسی بیانات کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیقات سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ہادی کو سیاسی انتقام کے تحت گولی مار کر قتل کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: ایران میں کریک ڈاؤن پر ٹرمپ کی سپریم لیڈر کو قتل کی دھمکی: امریکی سینیٹر

واضح رہے کہ شریف عثمان ہادی ۲۰۲۴ء کے طلبہ احتجاج کے نمایاں لیڈروں میں شامل تھے، جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی سربراہی میں سابق حکومت کا خاتمہ ہوا تھا۔ وہ فروری میں ہونے والے انتخابات میں حصہ لینے کی تیاری بھی کر رہے تھے۔ ہادی کو ۱۲؍ دسمبر کو اس وقت گولی ماری گئی جب وہ ڈھاکہ میں ایک مسجد سے باہر آ رہے تھے۔ بعد ازاں انہیں علاج کیلئے سنگاپور منتقل کیا گیا، جہاں ۱۸؍ دسمبر کو ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کی موت کے بعد بنگلہ دیش کے بعض علاقوں میں بدامنی پھیلی، جس کے دوران اقلیتی برادریوں کے خلاف تشدد کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔ منگل کو پولیس نے بتایا کہ ڈھاکہ کے چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کی عدالت میں ۱۷؍ افراد کو نامزد کرتے ہوئے چارج شیٹ داخل کی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق اب تک ۱۲؍  ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ پانچ تاحال مفرور ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ گرین لینڈ پر قبضے کیلئے فوج کے استعمال سمیت دیگر متبادلات پر تبادلہ خیال کررہے ہیں: وہائٹ ہاؤس

اسلام نے مزید بتایا کہ ملزمان میں سے ایک فیصل کریم مسعود کا تعلق چھاترا لیگ سے تھا، جبکہ ایک اور ملزم تیج الاسلام چودھری بپی نے واقعے کے بعد مسعود اور مرکزی ملزم عالمگیر شیخ کو فرار ہونے میں مدد فراہم کی۔ اس سے قبل بنگلہ دیش پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ مسعود اور شیخ ہندوستانی شہریوں کی مدد سے ہلوگھاٹ سرحدی علاقے کے راستے بھارتی ریاست میگھالیہ پہنچے اور وہاں پناہ لی۔ تاہم، ۲۹؍ دسمبر کو بارڈر سیکوریٹی فورس نے اس دعوے کو مسترد کر دیا تھا۔ میگھالیہ میں بی ایس ایف کے انسپکٹر جنرل او پی اپادھیائے نے کہا تھا کہ یہ الزامات ’’مکمل طور پر جھوٹے، من گھڑت اور گمراہ کن‘‘ ہیں اور ان کے حق میں کوئی ثبوت موجود نہیں۔ ان کے مطابق میگھالیہ سیکٹر سے کسی قسم کی سرحد پار نقل و حرکت نہیں ہوئی، اور بنگلہ دیش بارڈر گارڈ نے بھی ایسے کسی واقعے کی اطلاع نہیں دی۔ منگل کو پولیس نے واضح کیا کہ حوالگی کا عمل عدالت کی جانب سے باضابطہ طور پر الزامات طے کیے جانے کے بعد شروع کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK