ابوظہبی بین الاقوامی کتاب میلہ کا آغاز ۱۳؍ ستمبر سے ہوگا، جس میں ۹۵؍ ممالک کے نمائندگان شرکت کررہے ہیں، اس میں ۱۵۰۰؍ تقریبات منعقد کی جائیں گی، اس کے علاوہ بلقان ثقافت کو بطور خاص پیش کیا جائے گا۔
EPAPER
Updated: September 12, 2026, 10:04 PM IST | Abu Dhabi
ابوظہبی بین الاقوامی کتاب میلہ کا آغاز ۱۳؍ ستمبر سے ہوگا، جس میں ۹۵؍ ممالک کے نمائندگان شرکت کررہے ہیں، اس میں ۱۵۰۰؍ تقریبات منعقد کی جائیں گی، اس کے علاوہ بلقان ثقافت کو بطور خاص پیش کیا جائے گا۔
ابوظہبی بین الاقوامی کتاب میلے کا ۳۵؍واں ایڈیشن، جو ابوظہبی عربی زبان مرکز کی طرف سے منعقد ہو رہا ہے، جو محکمہ ثقافت و سیاحت ابوظہبی سے وابستہ ہے، ۱۳؍ تا ۱۸؍ ستمبر کو ایڈنیک ابوظہبی میں ’’صفحہ پلٹیں اور دنیا پڑھیں‘‘ کے موضوع کے تحت منعقد ہوگا۔میلے میں ۹۵؍ ممالک کے نمائندگان شرکت کریں گے اور تقریباً ۱۵۰۰؍ تقریبات منعقد ہوں گی۔ بلقان ثقافت مہمان خصوصی ہوگی، جبکہ نامور عالم الخلیل بن احمد الفرایدی کو میلے کی مرکزی شخصیت کے طور پر خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔ میگوئل ڈی سروانتس کے مشہور ناول ڈان کوئکسوٹ کو ’’عالمی کتاب‘‘ منتخب کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: حوثیوں کا بحیرۂ احمر کے پورے ساحلی علاقے پرقبضہ
میلے کی کہانی ۱۹۸۱ء سے شروع ہوتی ہے، جب مرحوم شیخ زاید بن سلطان آل نہیان نے ابوظہبی کی ثقافتی بنیاد میں ’’اسلامی کتاب میلہ‘‘کے نام سے اس کے پہلے ایڈیشن کا افتتاح کیا۔ افتتاحی ایڈیشن میں ۵۰؍ ناشرین جمع ہوئے، جس نے ایک ایسی ثقافتی تقریب کا آغاز کیا جو مقامی اجتماع سے بین الاقوامی پلیٹ فارم تک طویل سفر طے کرے گی۔۱۹۸۶ء میں اس تقریب کا نام ’’ابوظہبی کتاب میلہ‘‘ رکھا گیا، اور شرکت کرنے والے ناشرین کی تعداد ۷۰؍ تک پہنچ گئی۔ ۱۹۸۸ء کے ایڈیشن میں ۱۰؍ عرب ممالک کے ۸۰؍ ناشرین شامل تھے۔ایک بڑا سنگ میل ۱۹۹۳ء میں آیا، جب میلہ سالانہ تقریب بن گیا اور اس نے عرب و بین الاقوامی اشاعتی اداروں اور ثقافتی شخصیات کے لیے اپنے دروازے مزید کھول دیے۔۱۹۹۰ء کی دہائی کے دوسرے نصف میں میلے نے اپنی تیز رفتار توسیع جاری رکھی۔ ۱۹۹۶ء میں اس نے ۳۰؍ ممالک کے تقریباً ۲۰۰؍ ناشرین کو متوجہ کیا، جبکہ ۱۹۹۷ء کے ایڈیشن میں ۲۰۰؍ اشاعتی اداروں نے شرکت کی۔ جبکہ ۱۹۹۸ء تک نمائش کے لیے رکھی گئی کتابوں کی تعداد تقریباً ۶۰۰۰۰؍ تک پہنچ گئی۔
یہ بھی پڑھئے: نیویارک: نائن اِلیون کی ۲۵؍ ویں برسی، مسلمانوں کے خلاف مارچ
نئی صدی کے آغاز کے ساتھ میلہ توسیع کے نئے مرحلے میں داخل ہوا۔ ۲۰۰۱ء میں ۵۱۴؍ اشاعتی اداروں نے شرکت کی، جو ۲۰۰۲ء میں ۶۰۰؍ اور ۲۰۰۴ء میں ۸۰۰؍ تک بڑھ گئی۔۲۰۰۷ء میں میلے نے ۴۶؍ ممالک کے تقریباً ۳۹۹؍ ناشرین کے ساتھ ۱۰۰۰؍ ثقافتی شخصیات کو متوجہ کیا۔ اگلے سالوں میں بھی ترقی جاری رہی، اور ۲۰۰۸ء میں ۴۸۲؍ ناشرین نے شرکت کی۔ ۲۰۰۹ء کے ایڈیشن میں ’’عربوں کی الیکٹرانک لائبریری‘‘ کا آغاز ہوا، جبکہ ۲۰۱۰ء میں شرکا کی تعداد بڑھ کر ۶۸؍ ممالک کے تقریباً ۸۰۰؍ ناشرین اور ۱۲۰۰؍ ثقافتی شخصیات تک پہنچ گئی۔۲۰۱۱ء سے ۲۰۱۴ء کے عرصے میں میلے نے اپنی بین الاقوامی موجودگی کو مزید مستحکم کیا۔ ۲۰۱۱ء میں فرانس کو مہمان خصوصی بنایا گیا، جس کے بعد ۲۰۱۲ء میں برطانیہ اور ۲۰۱۴ء میں سویڈن مہمان خصوصی رہا۔اسی دور میں میلے نے ’’عرب ادب کے حقوق‘‘کے اقدام کا آغاز کیا اور ’’مرکزی شخصیت‘‘کا پروگرام متعارف کرایا، جس کا آغاز نامور عرب شاعر المتنبی کے انتخاب سے ہوا۔
ابوظہبی عربی زبان مرکز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور ابوظہبی بین الاقوامی کتاب میلے کے ڈائریکٹر سعید حمدان الطنیجی نے ایک میڈیا بیان میں کہا کہ اپنے پورے سفر کے دوران میلے نے خود کو عالمی علمی معاشرے کی تعمیر کے لیے ایک مثالی نمونے کے طور پر قائم کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ۳۵؍ویں ایڈیشن کا موضوع ’’صفحہ پلٹیں اور دنیا پڑھیں‘‘ متحدہ عرب امارات کے اس تہذیبی کردار کا مظہر ہے جو انسانی رابطے کے پل بنانے، فکری کشادگی اور علم کے تبادلے کو فروغ دینے، اور تجدید و مسلسل ترقی کے لیے مستقل تیاری کو ظاہر کرتا ہے۔ان کے مطابق یہ موضوع جغرافیائی حدود سے آگے بڑھ کر خیالات کے دروازے سے دنیا کی تہذیبوں سے رابطہ قائم کرنے کی دعوت بھی ہے۔