لاکھوں روپے جرمانہ عائد کیا۔ قواعد کی خلاف ورزی پر اومنی وین مالکان اور ڈرائیوروں کیخلاف بھی کارروائی۔ والدین سے اومنی وین میں بچوں کو نہ بھیجنے کی اپیل کی۔
EPAPER
Updated: April 10, 2026, 12:23 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai
لاکھوں روپے جرمانہ عائد کیا۔ قواعد کی خلاف ورزی پر اومنی وین مالکان اور ڈرائیوروں کیخلاف بھی کارروائی۔ والدین سے اومنی وین میں بچوں کو نہ بھیجنے کی اپیل کی۔
بارہا ہدایات اور شکایتوں کے بعدکی جانے والی کارروائیوں کے باوجود اسکول بسوں میں محکمہ ٹرانسپورٹ کی جاری کردہ ہدایتوں پر عمل نہیں کیا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ روز ریاستی محکمہ ٹرانسپورٹ کے حکم پر وڈالا اور ممبئی سینٹرل ریجنل ٹرانسپورٹ آفس نے شہر اور مضافات میں ۱۰۰؍ سے زائداسکول بسوں کے مالکان اور ڈرائیوروں کے خلاف نہ صرف کارروائی کی ہے بلکہ لاکھوں روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔اس کے علاوہ غیر قانونی طو رپر چلائی جانے والی کئی اسکول وین کے ڈرائیوروں اور مالکان کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ساتھ ہی اسکول انتظامیہ کو اسکول بس کے تعلق سے جاری کردہ ہدایتوں پر عمل نہ کرنے پر سخت کارروائی کا انتباہ دیا گیا ہے۔ اسی طرح طلبہ کی حفاظت کے پیش نظر والدین سے بھی درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اسکول وین کے نام سے چلائی جانے والی اومنی وین میں اسکول نہ بھیجیں۔
یہ بھی پڑھئے: اوبی سی کے حقوق اوران کی ترقی کیلئے شبیر احمدانصاری کی خدمات ناقابل فراموش ہیں
ریاستی محکمہ ٹرانسپورٹ کی ہدایت پر وڈالا اور ممبئی سینٹرل آر ٹی او نے ایک ماہ تک شہر اور مضافات کے اسکولوں میں طلبہ کو لانے لے جانے والی بسوں کا جائزہ لیا تھا۔ اس جائزہ کے دوران ۴۰۲؍ اسکول بسوں کا معائنہ کیا گیا۔ اس دوران ۱۳۹؍ بسوں میں طلبہ کی حفاظت سے متعلق دی گئی ہدایات اوراحتیاطی تدابیر کو عمل میں نہیں لایا گیا تھا۔ ساتھ ہی کئی بسوں میں جس میں صرف طالبات سفر کرتی ہیں ، خاتون اٹینڈ کونہیں رکھا گیا تھا۔اس کے علاوہ بھی دیگر کئی احکامات کی خلاف ورزی کی گئی تھی جس پر دونوں آر ٹی اوز نے ۱۳۹؍ بسوں کے مالکان پر ۷؍ لاکھ جرمانہ عائد کیا ہے۔
آر ٹی او نے اسکول بسوںکے علاوہ غیر قانونی طور پر اومنی وین میںبنا کسی احتیاطی تدابیر کے ۱۲؍ سے ۱۵؍ بچوں کوبیک وقت لانے لے جانے والے وین مالکان اور ان کےڈرائیوروںکیخلاف کیجانےوالی کارروائیوں سے متعلق بھی تفصیلات فراہم کیں۔اسکول بسوں سے متعلق ممبئی سینٹرل کے ایک آر ٹی او افسر نے بتایا کہ ’’کئی اسکول بسیں رجسٹرڈ تو کی گئی ہیں لیکن نہ تو اسکول بس کو پیلے رنگ میں تبدیل کیا گیا ہے اورنہ ہی اس پر اسکول بس تحریر کیا گیا ہے۔ کئی بسوں میں جس میں طالبات سفر کرتی ہیں یا چھوٹے بچے ہوتے ہیں ، ان میں خاتون اٹینڈ کو بھی نہیں رکھا گیا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: مدرسہ ماڈرنائزیشن اسکیم کےتحت انتہائی معمولی فنڈ، ذمہ دارانِ مدارس حیرت زدہ
اسی طرح وڈالا آرٹی او نے بتایا کہ ’’اسکول بس اسوسی ایشن کی شکایت پر غیر قانونی طور پر چلائی جانے والی اومنی وین کےڈرائیوروں اورمالکان کیخلاف کارروائی کی گئی ہے۔اکثر و بیشتر اومنی وین میں بچوں کو گاڑی میں رکھے سی این جی سلنڈر پربٹھایا جاتا ہے اوران کی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی احتیاطی تدابیر نہیں کی جاتی ہے۔آرٹی اوافسر کے بقول ’’اومنی وین کے ذریعہ اسکولی طلبہ کو لانے لے جانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے، اس کے باوجود بعض اسکول اومنی وین میں طلبہ کو لانے لے جانے کی اجازت دیتے ہیں۔ اکثر و بیشتر والدین بھی اومنی وین میںسفر کے دوران حادثات کاخدشہ لاحق ہونے کے باوجود اپنے بچوں کو بھیجنے سے نہیں کتراتے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اسکول بسوں کے لئے جاری کردہ ہدایات اور قواعد کی خلاف ورزی کرنے پر جہاں گزشتہ دنوں سو سے زائد بسوں کے مالکان اور ڈرائیوروں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے اور ۷؍ لاکھ جرمانہ وصول کیا گیا ہے وہیں اسکول انتظامیہ کو بھی جاری کردہ ہدایت پر عمل نہ کرنے کی پاداش میں کارروائی کا اشارہ دیا ہے۔اسی طرح والدین سے بھی درخواست کی گئی ہے کہ وہ کم پیسے دینے کے چکر میں اپنے بچوں کو خطرے میں نہ ڈالیں۔
آر ٹی او نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اومنی وین میں اسکول نہ بھیجیں۔آر ٹی او اور ریاستی محکمہ ٹرانسپورٹ نے ایک بار پھر اسکول انتظامیہ اور اسکول بس اسوسی ایشن کو متنبہ کیا ہے کہ کارروائی کا یہ سلسلہ جاری رہے گااور طلبہ کی حفاظت سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔