Inquilab Logo Happiest Places to Work

مدرسہ ماڈرنائزیشن اسکیم کےتحت انتہائی معمولی فنڈ، ذمہ دارانِ مدارس حیرت زدہ

Updated: April 10, 2026, 11:58 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

حسبِ اعلان فوری طور پر ۱۰؍ لاکھ روپے دینے کامطالبہ کیابصورت دیگر اسے مدارس کے ساتھ مذاق قرار دیا ۔ ذمہ داران مدارس کا باہم مشورہ۔ضلع کلکٹر سےجلد ہی ملاقات کرکے تحریری شکایت دی جائے گی۔

Twelve madrasas in Mumbai are benefiting from the Dr. Zakir Hussain Madrasa Modernization Scheme. (File photo)
ممبئی میں واقع ۱۲؍ مدارس ڈاکٹر ذاکرحسین مدرسہ ماڈرنائزیشن اسکیم سے استفادہ کررہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

ڈاکٹرذاکر حسین مدرسہ ماڈرنائزیشن اسکیم کے تحت۲۶- ۲۰۲۵ ء کیلئے انتہائی معمولی فنڈ مختص کئے جانے پر ممبئی شہر اورمضافات کے ذمہ داران ِ مدار س حیرت زدہ ہیں۔ ان کومحسوس ہورہا ہےکہ شاید افسران سے سہو ہوا ہے۔ اس لئے کہ گزشتہ سال اس مد میں فنڈ ۴؍لاکھ روپے سے بڑھاکر۱۰؍ لاکھ روپے فی مدرسہ کردیا گیا تھا۔ اس لئے اگر غلطی سے ایسا ہوا ہے توا س کی فوری اصلاح کی جائے اور حسب اعلان ۱۰؍ لاکھ روپے دیئے جائیں ورنہ اس طرح کا مذاق نہ کیاجائے۔ اس لئے کہ جو فنڈ مختص کیا گیا ہے اس حساب سےممبئی میں فی مدرسہ ۱۶؍ہزار ۲۰۳؍ روپے ہوتے ہیں،اتنی مختصر ترین رقم سے تو ایک استاد کی تنخواہ بھی ادا نہیںکی جاسکتی چہ جائیکہ طلبہ کو عصری علوم سے آراستہ کیا جائے اور حکومت کے اعلان کے مطابق طلبہ ترقی کی دوڑ میں شامل ہوکرنمایاں مقام حاصل کرسکیں اور قومی دھارے میں اپنی جگہ بناسکیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’پیٹ‘ امتحان کے پرچوں کی کمی کے سبب طلبہ کو پریشانیوں کا سامنا

مدارس کے ذمہ داران نے کیاکہا؟

محمد شاہد عرشی (الجامعہ فقیہۃ البنات،مالونی) نے بتایا کہ ’’۲۶- ۲۰۲۵ ء کے لئے ممبئی کے مضافات میں واقع ۱۲؍ مدارس جو اس اسکیم سے استفاد ہ کررہےہیں، ان کےلئے ایک لاکھ ۹۴؍ہزار روپے مختص کئےگئے ہیں جبکہ ممبئی شہر و مضافات میں۲۴؍ایسے مدرسے ہیں۔ اس اعتبار سے اگر ایک لاکھ ۹۴؍ہزار روپے کو ۱۲؍ مدرسوں میں تقسیم کیا جائے تو محض ۱۶؍ہزار ۲۰۳؍ روپے ایک مدرسے کوملتے ہیں۔سوال یہ ہےکہ کیا ۱۶؍ ہزار روپے میں ہم سال بھر مدرسہ چلا سکیں گے،طلبہ کو عصری تعلیم دے سکیں گے اور ان بچوں کو پڑھانے والے ٹیچر کو تنخواہ دے سکیں گے۔ اس لئے اتنی مختصر رقم کس کام میں آئے گی، یہ سمجھ سے بالاتر ہے۔‘‘ انہوں نےیہ بھی بتایا کہ ’’ہمارے یہاں ۲؍ اداروں کو۱۴-۲۰۱۳ ء سے اس اسکیم کے تحت مالی مدد دی جاری ہے۔ جامعہ صابریہ جو کہ رضا مسجد ٹرسٹ کے زیر اہتمام جاری ہے،۲۵-۲۰۲۴ ء میں۱۰؍ لاکھ ۳۲؍ہزارروپے دیا گیا تھا اور الجامعہ فقیہۃ البنات کو گزشتہ سال ۴؍ لاکھ روپےملے تھےلیکن اس دفعہ سب کچھ ختم کردیا گیا۔ ‘‘ شاہد عرشی نےمزیدبتایا کہ ’’ مضافات کے ۱۲؍ اداروں کے ذمہ داران سے باہم مشورہ کیا گیا اورسبھی نے اتفاق کیا کہ بلاتاخیر ضلع کلکٹرسےملاقات کی جائے اوران کو تحریری شکایت دے کرپوچھا جائے کہ آخر یہ کیا ہورہا ہے، کس بنیاد پرفنڈ انتہائی معمول کردیا گیا،کیا یہ طلبہ کےمستقبل کے ساتھ کھلواڑ نہیں ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: کارپوریٹر اور معاون میونسپل کمشنر کے درمیان تکرار، رشوت کے الزامات

 ذمہ داران مدارس کا باہم مشورہ

جامعہ تجوید القرآن نور مہر چیریٹیبل ٹرسٹ کے سربراہ سید علی حسین نے بھی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ’ ’ ایسا محسوس ہوتا ہےکہ افسران سے کچھ غلطی ہوئی ہے کیونکہ ۱۶؍ ہزارروپے سے تو ایک ٹیچر کی تنخواہ بھی نہیںدی جاسکتی چہ جائیکہ طلبہ کے مستقبل کو سنواراجائے۔اس لئے ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ فوری طور پر اس جانب توجہ دے اور حسبِ اعلان ۱۰؍ لاکھ روپے کی گرانٹ فی مدرسہ جاری کی جائے تاکہ طلبہ کوعصری علوم سےآراستہ کرنے کا جو مشن چلایا جارہا تھا ، وہ بغیرکسی رکاوٹ کے پوری طرح جاری رہ سکے۔ ‘‘ انہوں نے یہ بھی کہاکہ ’’ ہمارا ادارہ بھی مسلسل اس اسکیم سے فائدہ اٹھا رہا ہے اور طلبہ کو اس کا فائدہ مل رہا ہے۔اس سلسلے میںایک دو دن کے اندر ہی ضلع کلکٹر سے ملاقات کی جائے گی اوران کے سامنے صورتحال پیش کرتے ہوئے اجتماعی طور پر ذمہ داران ِ مدارس کی جانب سے گفت وشنید کی جائے گی۔‘‘

یاد رہے کہ اس تعلق سے ریاستی حکومت کی جانب سے ۳۱؍ مارچ کو ’جی آر‘ میگھنا گورو شندے (سیکریٹری) کی دستخط سے جاری کیاگیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: لوکل ٹرینوں میں ہاکرس کو کار و بار کی اجازت سے مسافروں کی تنظیمیں ناراض

فنڈ مختصر کئے جانے کےباوجود جی آر میںریاستی حکومت کی جانب اس اسکیم کا مقصد مدارس میں زیر تعلیم طلبہ کو دینی تعلیم کے ساتھ جدید مضامین جیسے سائنس، ریاضی، سماجی علوم، ہندی، مراٹھی، انگریزی اور اردو کی تعلیم فراہم کرانا بتایا گیا ہے تاکہ وہ طلبہ قومی دھارے میں شامل ہو سکیں۔ یہ بھی یاد رہےکہ ریاستی سطح پر۳۰۸؍ ایسے مدارس کےلئے مجموعی طورپر۵۰؍لاکھ روپے کا فنڈ مختص کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK