مالی سال ۲۶-۲۰۲۵ء میں ۵۵ء۵۲؍ ارب امریکی ڈالر ہوگئیں، زرعی برآمدات میں ۸ء۲؍ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔
EPAPER
Updated: June 12, 2026, 1:31 PM IST | Kochi
مالی سال ۲۶-۲۰۲۵ء میں ۵۵ء۵۲؍ ارب امریکی ڈالر ہوگئیں، زرعی برآمدات میں ۸ء۲؍ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔
ہندوستان کی زرعی برآمدات نے ایک تاریخی سنگ میل عبور کرتے ہوئے مالی سال۲۶-۲۰۲۵ءمیں ۵۲ء۵۵؍ ارب امریکی ڈالر کا ریکارڈ ہدف حاصل کر لیا ہے، جو کہ مالی سال۱۵-۲۰۱۴ء میں۳۲ء۰۸؍ارب امریکی ڈالر تھا۔ یہ کامیابی ایک دہائی سے زیادہ کی مسلسل ترقی اور عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی موجودگی کی عکاسی کرتی ہے۔
اس کامیابی کو وزارت تجارت و صنعت کے محکمہ تجارت نے جنوبی خطے کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ایک تبادلہ خیال کے سیشن کے دوران اجاگر کیا۔اس میٹنگ میں محکمہ تجارت، ایکسپورٹ انسپکشن کونسل، ایکسپورٹ پروموشن کونسلز کے حکام اور زرعی برآمدات سے وابستہ برادری کے اراکین نے شرکت کی۔میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے محکمہ تجارت کے جوائنٹ سیکریٹری اجول کمار گھوش (آئی اے ایس) نے کہا کہ مالی سال ۲۶-۲۰۲۵ء کے دوران زرعی برآمدات میں ۲ء۸؍ فیصد کا اضافہ ہوا ہے جو گزشتہ مالیاتی سال کے۵۱ء۱۲؍ ارب امریکی ڈالر سے بڑھ کر ۵۲ء۵۵؍ ارب امریکی ڈالر ہو گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسپیس ایکس کا تاریخی کارنامہ، ۷۵؍ارب ڈالر کا سب سے بڑا امریکی آئی پی او
ان کے مطابق چاول ہندوستان کی سب سے بڑی زرعی برآمداتی شے رہا جس نے اس مالی سال کے دوران۱۱ء۵؍ارب ڈالر کی برآمداتی آمدنی حاصل کی۔سمندری مصنوعات کی برآمدات میں ۱۳ء۴؍ فیصد کی شاندار ترقی دیکھی گئی جو مالی سال۲۵-۲۰۲۴ءکے۷ء۴؍ ارب ڈالر سے بڑھ کر مالی سال۲۶-۲۰۲۵ء میں۸ء۴؍ ارب ڈالر ہو گئی۔ مسالوں کی برآمدات نے بھی مضبوط کارکردگی برقرار رکھی اور اس کا حصہ۴ء۳؍ ارب ڈالر رہا۔
گھوش نے کہا کہ یہ ترقی ہندوستان کے زرعی شعبے کی لچک کو ظاہر کرتی ہے اور مصنوعات کے معیار کو بہتر بنانے، برآمداتی انفراسٹرکچر کو وسعت دینے، مارکیٹ تک رسائی بڑھانے اور زرعی مصنوعات کو فروغ دینے کی کوششوں کی کامیابی کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستانی برآمد کنندگان نے عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال، تجارتی اتار چڑھاؤ اور معیار کے بدلتے ہوئے اصولوں کے مطابق خود کو کامیابی سے ڈھالا ہے جس سے دنیا بھر میں ایک قابل اعتماد زرعی فراہم کنندہ کے طور پر ہندوستان کی ساکھ مزید مضبوط ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ برطانیہ، یورپی یونین، نیوزی لینڈ، عمان، آسٹریلیا، متحدہ عرب امارات اور ’افٹا ‘ممالک کے ساتھ طے پانے والے یا زیر غور آزاد تجارتی معاہدوں سے زرعی برآمدات کو بڑھانے اور متنوع بنانے کے اہم مواقع پیدا ہونے کی امید ہے۔
انہوں نے ایکسپورٹ پروموشن مشن کے تحت شروع کئے گئے دوہرے اقدامات ’نِریات پروتساہن‘ اور ’نِریات دیشا ‘کو اجاگر کیا جن کا مقصد برآمدات کی ترقی کو تیز کرنا اور ایم ایس ایم ایز کو بااختیار بنانا ہے۔ جہاں’نِریات پروتساہن‘ سستے تجارتی مالیات اور کریڈٹ سپورٹ پر توجہ مرکوز کرتا ہے، وہیں’نیریات دیشا‘ مارکیٹ تک رسائی، ایکریڈیٹیشن، تعمیل (کمپلائنس)، برانڈنگ اور لاجسٹکس میں مدد فراہم کرتا ہے۔
جوائنٹ سیکریٹری نے اس بات پر زور دیا کہ سینیٹری اینڈ فائٹو سینیٹری معیارات کی تعمیل برآمدات کی ترقی کو برقرار رکھنے کے لئے انتہائی اہم ہوگی کیونکہ درآمد کرنے والے ممالک خوراک کی حفاظت اور معیار کے سخت تقاضوں کو اپنا رہے ہیں۔ایکسپورٹ انسپکشن کونسل کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے گھوش نے کہا کہ اس ادارے نے ہندوستان کے برآمداتی معیار کی یقین دہانی کے فریم ورک کو مضبوط کرنے اور درآمد کنندہ ممالک میں اعتماد پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ریلائنس میٹا کے اشتراک سے جام نگر میں اے آئی سے لیس ڈیٹا سینٹر قائم کریگی
تسلیم شدہ لیبارٹریوں کی تعداد مالی سال ۱۵-۲۰۱۴ء میں۲۲؍ سے بڑھ کر مالی سال ۲۶-۲۰۲۵ء میں۸۹؍ ہو گئی ہے۔ منظور شدہ برآمداتی اداروں کی تعداد اسی مدت کے دوران ۶۴۵؍ سے بڑھ کر ایک ہزار۴۹۹؍ہو گئی۔
اس دوران اجول کمارگھوش کا یہ بھی کہنا تھاکہ درآمد کرنے والے ممالک کی طرف سے قبول کئے جانے والے برآمداتی سرٹیفکیٹس کی تعداد بھی نمایاں طور پر بڑھ کر ۶۰؍ہزار ۹۷۸؍ سے ۱ء۷؍ لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے جو ہندوستان کے معائنہ اور سرٹیفیکیشن کے نظام پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی اعتماد کو ظاہر کرتی ہے۔