اتوار کی شب ۶ء۰؍شدت کے زلزلے کے بعد ۶؍آفٹر شاکس بھی محسوس کئے گئے۔زلزلے مرکز جلال آباد سے ۲۷؍کلومیٹر دورتھا۔
EPAPER
Updated: September 02, 2025, 12:54 PM IST | Kabul
اتوار کی شب ۶ء۰؍شدت کے زلزلے کے بعد ۶؍آفٹر شاکس بھی محسوس کئے گئے۔زلزلے مرکز جلال آباد سے ۲۷؍کلومیٹر دورتھا۔
افغانستان کےکونر صوبے میں اتوار کی رات گئے تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں کم از کم ۸۱۲؍ افراد جاں بحق اور تقریباً تین ہزار افراد زخمی ہوگئے، صرف صوبہ کونر میں ۸۰۰؍ افراد جاں بحق ہوئے اور کئی گاؤں مٹی تلے دب گئے، صوبہ ننگرہار اور لغمان میں بھی جانی نقصان ہوا۔ ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں پریس کانفرنس کی اور بتایا کہ طاقتور زلزلے کے نتیجے میں بیشتر جانی نقصان صوبہ کونر میں ہوا جہاں۸۰۰؍ سے زائد افراد جاں بحق اور۲۸۰۰؍ سے زائد زخمی ہوئے جبکہ صوبہ ننگرہار میں۱۲؍ افراد جاں بحق اور۲۵۵؍ زخمی ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق زلزلے کے جھٹکے کابل سے لے کر پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد تک محسوس کیے گئے، کونر صوبے میں سب سے زیادہ تباہی ہوئی، جہاں سیکڑوں مکانات تباہ ہو گئے۔ طالبان حکام اور اقوامِ متحدہ نے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں، اقوامِ متحدہ نے ایک بیان میں کہا کہ’’افغانستان میں آنیوالے اس تباہ کن زلزلے پر ہم گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہیں، ہماری ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی امداد اور جان بچانے والی سہولیات فراہم کر رہی ہیں۔‘‘
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز ننگرہار صوبے کے شہر جلال آباد سے۲۷؍ کلومیٹر کے فاصلے پر تھا اور اس کی گہرائی صرف۸؍کلومیٹر تھی، ماہرین کے مطابق کم گہرائی والے زلزلے زیادہ نقصان دہ ہوتے ہیں، رات بھر کم ازکم۵؍آفٹر شاکس بھی آئے، جن میں ایک۵ء۲؍ شدت کا طاقتور جھٹکا شامل تھا۔
یہ بھی پڑھئے:۴۴؍ ممالک ، ۳۰۰؍ رضاکار،۵۰؍ کشتیاں، غزہ کامحاصرہ توڑنے کا عزم
زلزلے نے مٹی اور پتھروں سے بنے دیہات کو زمین بوس کر دیا، لینڈ سلائیڈنگ کے باعث اہم راستے بند ہو گئے جبکہ مواصلاتی نظام کی خرابی نے امدادی کارروائیوں کو مزید مشکل بنا دیا۔ انادولو کے مطابق افغان حکام نے کہا کہ جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کی تعداد حتمی نہیں ہے کیونکہ حکام اب بھی کئی دور دراز علاقوں کے مقامی باشندوں سے رابطے میں ہیں اور امدادی ٹیمیں متاثرہ مقامات کی جانب روانہ ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:مصنوعی ذہانت کو اپنائیں یا زمانے سے پیچھے رہ جائیں: گوگل کے سی ای او سندر پچائی
حکام کے مطابق ضلع سواکئی کے علاقے دیوہ گل اور ضلع نورگل کے علاقے مزار درہ جانے والی سڑکیں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند ہو گئی ہیں، جس سے امدادی ٹیموں کیلئے متاثرہ علاقوں تک پہنچنا مشکل ہو گیا ہے۔ مقامی باشندوں نے اس زلزلے کو ملک میں آنے والے سب سے طاقتور زلزلوں میں سے ایک قرار دیا ہے، افغانستان کی عبوری حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے تصدیق کی ہے کہ زلزلے سے جانی نقصان ہوا ہے۔ ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ مقامی حکام اور عوام امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں جبکہ مرکزی اور قریبی صوبوں سے امدادی ٹیمیں علاقے کی جانب روانہ ہو رہی ہیں۔ خیال رہے کہ افغانستان میں زلزلے معمول کی بات ہیں، خاص طور پر ہندوکش پہاڑی سلسلے میں، جہاں یوریشین اور انڈین ٹیکٹونک پلیٹیں آپس میں ملتی ہیں۔