• Mon, 07 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کی افغانستان کی امداد میں تخفیف کے سبب خواتین اور بچوں کی اموات قابل تدارک

Updated: September 07, 2026, 9:04 AM IST | Kabul

ٹرمپ کے ذریعے افغانستان کی امداد میں تخفیف کے سبب خواتین اور بچوں کی اموات قابل تدارک ہیں، لز کک مین کی رپورٹ کے مطابق، ان میں سے نصف خواتین حمل یا زچگی کے دوران انتقال کرگئیں، اور۳۰؍ نوزائیدہ اموات تھیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

نئی تحقیق کے مطابق، امریکی امداد میں تخفیف کے بعد پیدا ہونے والی رکاوٹوں سے کم از کم۱۶۱؍ اموات منسلک ہیں، جیسا کہ لز کک مین رپورٹ کرتی ہیں، ان میں سے نصف خواتین حمل یا زچگی کے دوران انتقال کرگئیں، اور۳۰؍ نوزائیدہ اموات تھیں۔گزشتہ سال فروری میں مشرقی افغانستان کے ننگرہار مقامی اسپتال میں ایک نوزائیدہ کو سیپسس اور پیدائشی دم گھٹنے (birth asphyxia) کی وجہ سے داخل کیا گیا تھا، جسے زندہ رہنے کے لیے آکسیجن کی مسلسل فراہمی درکار تھی۔ تاہم وہ آکسیجن پلانٹ جو۵۰؍ بچوں کے بستروں کو پائپ کے ذریعے آکسیجن فراہم کرتا تھا، کام کرنا بند کر چکا تھا۔ جبکہ اس سے ایک ماہ قبل ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی غیر ملکی امداد پر پابندی کا حکم دیا تھا۔اس کے علاوہ علاقے میں امریکی فنڈنگ سے چلنے والے ایک اہم صحت پروجیکٹ کے کم از کم۱۸۰؍طبی کارکن کو بے روزگار کر دیا گیا تھا، ڈاکٹر شاہ محمد قاضی زادہ، جو ایک ڈاکٹر اور امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (USAID) کے سابق پروجیکٹ مینیجر ہیں، دی انڈیپنڈنٹ کو بتاتے ہیںکہ آکسیجن پلانٹ جیسے اہم آلات کی دیکھ بھال بھی رک گئی تھی۔ایک شدید بیمار بچہ مر گیا۔یہ المناک موت ان کم از کم ۱۶۱؍ اموات میں سے صرف ایک ہے جو گزشتہ ۱۸؍مہینوں میں افغانستان میں امریکی امداد میں تخفیفکے بعد پیدا ہونے والی رکاوٹوں سے منسلک ہیں، ریفیوجیز انٹرنیشنل کی نئی تحقیق کے مطابق، ان میں سے نصف خواتین حمل یا زچگی کے دوران انتقال کرگئیںاور۳۰؍ نوزائیدہ یا جنینی اموات تھیں۔

یہ بھی پڑھئے: میرے جانے کے بعد کوئی یہ کام نہیں کریگا اسلئے ہر جگہ خود اپنا نام لگا رہا ہوں: ٹرمپ

پریالی دیپتی سر، ریفیوجیز انٹرنیشنل کی سینئر فیلو، نے اس رپورٹ کے لیے ملک بھر میں تقریباً۵۵۰؍ ہیلتھ کیئر ورکرز سے انٹرویو کیے، جن میں سے اکثر مڈوائف (قابلائی) تھیں۔ وہ بند ہونے والے صحت مراکز اور اموات کی کہانیاں دستاویز کرتی ہیں جنہیں وہ USAID کی تخفیفکے اثرات سے منسوب کرتی ہیں۔‘‘ وہ کہتی ہیں،’’یہ اموات سو فیصد قابلِ روک تھام ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’میرے خیال میں لوگوں کو واقعی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب ان تنظیموں، ان شعبوں، ان اسپتالوں میں پیسہ نہیں جاتا تو خواتین، بچے اور نوزائیدہ مرتے ہیں۔‘‘ واضح رہے کہ امریکی انتظامیہ نے جنوری۲۰۲۵ء میں ڈونالڈ ٹرمپ کے وہائٹ ہاؤس واپس آنے کے تقریباً فوری بعد اپنا غیر ملکی امدادی پروگرام ختم کرنا شروع کر دیا، جس سے اربوں ڈالر کی امداد منجمد کر دی گئی اور USAID کو بند کرنے کی کارروائی کی گئی۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ: ملبے میں بچوں کیلئےعارضی سنیما، کارٹون دیکھ کر چہروں پر مسکراہٹ لوٹی

بعد ازاں افغانستان طویل عرصے سے بین الاقوامی امداد پر بہت زیادہ انحصار کرتا تھا اور سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں سے ایک تھا، جہاںایک اعشاریہ ۷؍ بلین ڈالر سے زیادہ کی امداد یکدم ختم کر دی گئی۔ اس نے پورے ملک میں خواتین اور بچوں کو خطرے میں ڈال دیا کیونکہ زچگی اور اطفال کے وارڈ سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں شامل تھے۔اس کے بعد سے زچگی کی دیکھ بھال میں نمایاں کمی آئی ہے۔  وزارت صحت عامہ کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکی حمایت یافتہ فیملی ہیلتھ ہاؤسیزمیں دستیاب محفوظ وضع حمل کی خدمات بند کر دی گئی ہیں، جس سے ماہانہ تقریباً۳۵۰؍ بچوں کی پیدائش متاثر ہوئیں۔کیونکہ سینکڑوں ہیلتھ کیئر سینٹرز جو ملک کے دور دراز علاقوں میں اہم لائف لائن تھے بند ہو چکے ہیں، حاملہ خواتین کو علاج معالجے کے لیے گھنٹوں ضلعی اسپتالوں کا سفر کرنا پڑ رہا ہے۔ دیپتی کے دستاویز کردہ کچھ معاملات میں، ماں اور بچہ اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی فوت ہوچکے تھے۔ کچھ کو اسپتال لے جانے کے لیے گاڑی بھی نہیں مل سکی، جبکہ صحت کی سہولیات کی کمی کا مطلب ہے کہ خواتین بغیر کسی طبی مداخلت کے گھر میں بچے کی پیدائش کا خطرہ مول لے رہی ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: نیپال کو۲۰؍ ہزار نئے گھر تعمیر کرنے ہوں گے

دیپتی کہتی ہیں،اگر واشنگٹن ڈی سی یا لندن میں کسی خاتون کو نفلی خون بہنے (postpartum haemorrhage) کا مسئلہ ہو، تو اسے ڈاکٹر اور صحت کی خدمات تک رسائی حاصل ہے اور وہ شاید بچ جائے گی، لیکن بلخ میں کسی کے پاس وہ سہولت نہیں، وہ نہیں بچتی۔‘‘اس کے علاوہ  دیپتی کے مطابقبے روزگار ہیلتھ ورکرز، جن میں سے کچھ اپنے خاندانوں کے لیے واحد کفیل تھے، نے بھی خودکشی کی ہے۔ڈاکٹر قاضی زادہ کے امریکی امدادی شہری صحت پروگرام سے، جو غیر منافع بخش تنظیم جھپیگو کے زیرِ انتظام تھا، تقریباً۱۵۰۰؍ افراد نے ملک کے پانچ صوبوں میں اپنی نوکریاں کھوئیں۔ تاہم ننگرہاراسپتال دیگر امدادکے سبب دوبارہ فعال ہو گیا، لیکن وسائل محدود ہیں۔ ڈاکٹر قاضی زدہ کہتے ہیں کہ نوزائیدہ اموات میں تقریباً۳؍ سے ۴؍ فیصد اضافہ ہوا، اور دوسری جگہوں پر اس سے بھی زیادہ۔
افغانستان میں صحت کی صورتحال دن بہ دن بگڑ رہی ہے، وہ کہتے ہیں،’’اس وقت امریکی امداد میں تخفیف کے اثرات کو پورا کرنے کے لیے کوئی مناسب متبادل وسائل موجود نہیں ہیں۔ اگر یہ خلا جاری رہا تو نتائج بھی تیزی سے سنگین ہوتے جائیں گے۔‘‘دی انڈیپنڈنٹ نے تبصرے کے لیے امریکی محکمہ خارجہ سے رابطہ کیا ہے۔مارچ میں بی ایم جے گلوبل ہیلتھ میں شائع ہونے والی تحقیق میں پایا گیا کہ افغانستان کا صحت نظام۲۰۲۱ء میں طالبان کے قبضے سے بچ گیا، لیکن اسے ادویات، آلات اور تربیت یافتہ عملے کی کمی کا سامنا جاری ہے۔ اب ملک شدید صحت اور غذائیت کے بحران کا سامنا کر رہا ہے۔اس کی دنیا میں نوزائیدہ اور زچگی کی اموات کی شرح سب سے زیادہ ہے، اور’’ سیو دی چلڈرن‘‘ کے مطابق، ہر دس میں سے ایک بچہ شدید طور پر غذائی قلت کا شکار ہے، جبکہ تقریباً۶۰۰؍ صحت کی سہولیات بند ہو چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ میں اپنا پاؤں گنوانے والا اسرائیلی فوجی،ادیداس کی ”سنگل شو سروس“ مہم کا حصہ، شدید تنقیدیں

علاوہ ازیں دیپتی نے ۳۲۰؍ اسپتالوں سے صحت عامہ کا ڈیٹا بھی اکٹھا کیا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ ۲۰۲۴ءسے ۲۰۲۵ء تک اور۲۰۲۶ء کے پہلے نصف تک مجموعی اموات میں نمایاں اضافہ ہوا۔ ان اموات کو براہِ راست امدادی تخفیفسے جوڑنا مشکل ہے، لیکن اعداد و شمار واضح طور پر بتاتے ہیں کہ کچھ غلط ہے۔انہوں نے ایلون مسک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا،’’ گزشتہ سال ٹرمپ کی لاگت میں کمی کی مہم کا انچارج بنایا گیا، دنیا کا امیر ترین شخص USAID کو ختم کرنے کی کوشش میں مرکزی کردار ادا کرتا رہا۔اس کے بعد اس نے ناقدین کو چیلنج کیا کہ وہ تخفیفکے نتیجے میں مرنے والے کسی ایک شخص کا نام بتائیں، اور ایکس پر کہا کہ وہ کوئی نام نہیں بتا سکتے۔ تاہم ایک حاملہ خاتون کی کہانی سناتے ہوئے جو علاج کے لیے ضلعی اسپتال منتقلی کے دوران مر گئی، دیپتی کہتی ہیں،’’اس کا نام حلیمہ تھا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK