اسرائیل نے تقریباً ۱۸سال سے غزہ کی مکمل ناکہ بندی کر رکھی ہے جس کی وجہ سے محصور فلسطینی علاقے میں امدادی سامان کی ترسیل اور لوگوں کی نقل و حمل محدود ہوکر رہ گئی ہے۔
EPAPER
Updated: October 03, 2025, 9:02 PM IST | Rome
اسرائیل نے تقریباً ۱۸سال سے غزہ کی مکمل ناکہ بندی کر رکھی ہے جس کی وجہ سے محصور فلسطینی علاقے میں امدادی سامان کی ترسیل اور لوگوں کی نقل و حمل محدود ہوکر رہ گئی ہے۔
”فریڈم فلوٹیلا کولیشن“ (ایف ایف سی) نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اسرائیل کے ذریعے کئی برسوں سے جاری، غزہ پٹی کی ناکہ بندی توڑنے کیلئے مزید ۱۱؍ کشتیاں روانہ ہو رہی ہیں۔ اسرائیلی محاصرے کو چیلنج کرنے کیلئے کمربستہ گروپ کے مطابق، اطالوی اور فرانسیسی پرچم والی دو کشتیاں ۲۵ ستمبر کو اٹلی کے اوٹرانٹو سے روانہ ہوچکی ہیں۔ ۳۰ ستمبر کو ایک اور جہاز ”کونشئنس“ بھی ان کے ساتھ شامل ہو گیا ہے۔ یہ تینوں کشتیاں، ”تھاؤزنڈ میڈیلینز ٹو غزہ (غزہ کی طرف ہزاروں میڈیلین)“ کے فلوٹیلا میں شامل ہوگی جس میں پہلے ہی ۸ کشتیاں موجود ہیں۔ نیا فلوٹیلا اب کریٹ کے ساحل سے دور سفر کر رہا ہے۔ ان کشتیوں پر تقریباً ۱۰۰ رضاکار سوار ہیں۔
واضح رہے کہ ۲۰۰۸ء میں اپنے قیام کے بعد سے، ایف ایف سی نے فلسطینیوں کیلئے امداد پہنچانے اور غزہ کے انسانی بحران کو اجاگر کرنے کیلئے اسی طرح کے درجنوں مشنز کا اہتمام کیا ہے۔ ۱۱ کشتیوں پر مشتمل یہ نیا فلوٹیلا، حال ہی میں اسرائیلی بحریہ کی جانب سے ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ کی غزہ جانے والی ۴۲ کشتیوں کو روکنے اور ان پر سوار ۴۵۰ سے زائد رضاکاروں کو حراست میں لینے کے ایک دن بعد غزہ کی طرف روانہ ہوا ہے۔ اسرائیل نے اس سے قبل بھی ایسے مشنز پر اکثر حملہ کرکے غزہ پہنچنے سے روکا ہے، کارگو ضبط کیا ہے اور ان پر سوار شرکاء کو ملک بدر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کا گلوبل صمود فلوٹیلا کی آخری فعال کشتی’’مارینیٹ‘‘ پر حملہ، عملہ گرفتار
اسرائیل نے تقریباً ۱۸سال سے غزہ کی مکمل ناکہ بندی کر رکھی ہے جس کی وجہ سے محصور فلسطینی علاقے میں امدادی سامان اور لوگوں کی نقل و حمل محدود ہے۔ مارچ میں سرحدی گزرگاہوں کو بند کرنے اور خوراک اور ادویات کی ترسیل کو روک کر اسرائیل نے اس محاصرے کو مزید سخت کردیا گیا تھا جس کے بعد علاقے کی ۲۴ لاکھ فلسطینیوں پر مشتمل آبادی میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کرگیا ہے۔ اقوام متحدہ نے غزہ کی شدید صورتحال کو قحط قرار دیا ہے۔
غزہ نسل کشی
غزہ میں تاحال جاری اسرائیل کی تباہ کن فوجی کارروائیوں میں اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اب تک ۶۵ ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں بیشتر تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ فلسطین کی سرکاری نیوز ایجنسی ’وفا‘ کے مطابق، تقریباً ۱۱ ہزار فلسطینی تباہ شدہ گھروں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اموات کی اصل تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے اور ممکنہ طور پر ۲ لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیل کی کارروائی ’’بحری دہشت گردی‘‘ ہے: حماس
اس نسل کشی کے دوران، اسرائیل نے محصور علاقے کے بیشتر حصے کو کھنڈر میں تبدیل کر دیا ہے اور اس کی تمام آبادی کو بے گھر کر دیا ہے۔ اسرائیلی قابض افواج کی مسلسل بمباری کے باعث غزہ پٹی میں خوراک کی شدید قلت اور بیماریوں کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کا ارتکاب کر رہا ہے۔
گزشتہ سال نومبر میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو اور سابق اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف اسرائیل کی غزہ پر جنگ کے دوران مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا حوالہ دیتے ہوئے گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے تھے۔ اس کے علاوہ، اسرائیل بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں بھی نسل کشی کے مقدمے کا سامنا کر رہا ہے۔