• Sun, 30 November, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیل کی کارروائی ’’بحری دہشت گردی‘‘ ہے: حماس

Updated: October 02, 2025, 4:17 PM IST | New York

اسرائیل کی جانب سے غزہ جانے والی گلوبل صمود فلوٹیلا کو بین الاقوامی پانی میں روکنے اور کارکنان و صحافیوں کو حراست میں لینے پر حماس اور اسلامی جہاد نے اسے ’’بحری قزاقی‘‘ اور ’’دہشت گردی‘‘ قرار دیا ہے۔ اس اقدام پر اقوام متحدہ اور یورپی ممالک سمیت ترکی و اسپین نے بھی شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کیا ہے۔

Israel has detained 24 Turkish nationals on the Global Sumud flotilla. Photo: INN
گلوبل صمود فلوٹیلا پر ۲۴؍ ترک شہریوں کو اسرائیل نے حراست میں لیا ہے۔ تصویر: آئی این این

ترکی نے اسرائیلی بحری کارروائی کو ’’دہشت گردانہ فعل‘‘ قرار دیا

حماس نے غزہ جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کو روکنے پر اسرائیل کی کارروائی کو ’’شہریوں کے خلاف قزاقی اور بحری دہشت گردی کا جرم‘‘ قرار دیتے ہوئے دنیا کے ’’تمام آزادی کے حامیوں ‘‘ سے اس حملے کی مذمت کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم نے کہا کہ بین الاقوامی پانی میں یہ روک تھام، ساتھ ہی کارکنان اور صحافیوں کی گرفتاری، ’’ایک غدارانہ جارحیت‘‘ ہے جو اسرائیل کے ’’جرائم کے سیاہ ریکارڈ میں اضافہ‘‘ کرتی ہے۔ فلسطینی اسلامی جہاد نے بھی اسی طرح کا بیان جاری کرتے ہوئے اس کارروائی کو ’’بحری قزاقی اور بین الاقوامی و انسانی کنونشنز کی کھلی خلاف ورزی‘‘ قرار دیا اور اسرائیل کو جہاز پر سوار تمام شرکا کی حفاظت کا ’’مکمل طور پر ذمہ دار‘‘ ٹھہرایا۔ 

یہ بھی پڑھئے: مشہورماہر حیوانات اور ماحولیاتی کارکن جین گوڈال کا ۹۱؍ برس کی عمر میں انتقال

بین الاقوامی مذمت
اقوام متحدہ میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کیلئے خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے فلوٹیلا کے کارکنان کی گرفتاری ’’غیر قانونی‘‘ ہے اور اس کیلئے مغربی حکومتیں بھی اپنی ’’شراکت‘‘ کی وجہ سے قصوروار ہیں۔ یورپی ممالک کی حکومتوں نے بھی تشویش کا اظہار کیا۔ 

فرانس نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ ’’شرکا کی سلامتی کو یقینی بنائے اور انہیں قونصلر تحفظ فراہم کرے‘‘۔ سوئٹزرلینڈ نے کہا کہ فلوٹیلا کے خلاف کوئی بھی کارروائی ’’ضرورت اور تناسب کے اصولوں کے مطابق ہونی چاہئے اور اس دوران سوار افراد کی حفاظت کو یقینی بنایا جانا چاہئے۔ ‘‘ترکی کی وزارتِ خارجہ نے اسرائیلی بحریہ کی کارروائی کو ’’دہشت گردانہ فعل‘‘ قرار دیتے ہوئے ’’شدید ترین الفاظ میں ‘‘ مذمت کی۔ اسپین نے کہا کہ وہ صورتِ حال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے اور اس کے خطے میں موجود قونصل خانے ’’الرٹ‘‘ پر ہیں۔ 

ترکی نے اسرائیل کے حملے میں گرفتار اپنے شہریوں کی حراست کی تحقیقات شروع کر دی ہیں 

استنبول کے چیف پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی بحریہ کے عناصر کے حملے کے بعد ۲۴؍ ترک شہریوں کی حراست کے معاملے کی تحقیقات شروع کی گئی ہیں۔ یہ فلوٹیلا انسانی امداد پہنچانے کیلئےغزہ جا رہی تھی۔ تحقیقات اقوام متحدہ کے سمندری قوانین، ترک فوجداری ضابطہ کے آرٹیکل۱۵؍ کے دائرہ اختیار کے اصول، اور آرٹیکل۱۲؍اور۱۳؍ کے قواعد کے تحت کی جا رہی ہیں، جن میں الزامات شامل ہیں : ’’آزادی سے محروم کرنا‘‘، ’’ٹرانسپورٹ کے ذرائع کی ہائی جیکنگ یا قبضہ‘‘، ’’چوری‘‘، ’’املاک کو نقصان پہنچانا‘‘ اور ’’تشدد۔ ‘‘

گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملہ: جنوبی امریکی ممالک کا شدید ردعمل

جنوبی امریکہ کے مختلف ممالک کی حکومتوں نےبدھ کو غزہ کیلئے انسانی ہمدردی کی امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کو روکنے کے اسرائیلی اقدام کی مذمت کی ہے۔ یہ واقعہ بین الاقوامی پانی میں پیش آیاجس نے سخت سفارتی ردعمل اور جہاز پر سوار افراد کی سلامتی کے مطالبات کو جنم دیا۔ کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے سوشل میڈیا پر انتباہ دیا کہ فلوٹیلا کی نگرانی ’’اسرائیلی نسل کش قوتیں ‘‘ کر رہی ہیں، جب یہ خبر ملی کہ دو کولمبیائی شہریوں کو جہاز سے حراست میں لیا گیا ہے۔ پیٹرو نے اسرائیلی سفارتی مشن کو کولمبیا سے بے دخل کرنے کا حکم دیا اور خبردار کیا کہ اگر یہ رپورٹس درست ہیں تو یہ (اسرائیلی وزیر اعظم) بنجامن نیتن یاہو کا ایک نیا بین الاقوامی جرم ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’اسرائیل کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ فوری طور پر منسوخ کیا جاتا ہے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: گلوبل صمود فلوٹیلا کی ۲۰؍کشتیاں اسرائیلی افواج نے غیرقانونی طور پر روک لیں

برازیل کے وزیر خارجہ ماؤرو ویئیرا نے تصدیق کی کہ برازیل نے فلوٹیلا پر موجود اپنے۱۵؍ شہریوں، جن میں ایک رکنِ پارلیمان بھی شامل ہیں، کی سلامتی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ صدر لولا ڈا سلوا کی حکومت نے کہا کہ یہ اقدام اس ضرورت کو اجاگر کرنے کیلئے تھا کہ ’’فلسطینی عوام جو غزہ میں محصور اور مصیبت میں ہیں، انہیں انسانی امداد فراہم کی جائے۔ ‘‘ حکومت نے یہ بھی کہا کہ ’’اس فلوٹیلا پر موجود افراد کی سلامتی کی ذمہ داری اسرائیل پر ہے۔ ‘‘
وینیزویلا کی حکومت نے اس کارروائی کو’’بزدلانہ قزاقی کا عمل‘‘ قرار دیا۔ ایک پریس ریلیز میں، اس نے ’’صہیونی حکومت کی مجرمانہ فطرت ‘‘کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انسانی امداد پر اسرائیلی پابندی’’جنگ کا ایک دانستہ ہتھیار‘‘ ہے جس کا مقصد ’’آبادی کو بھوک سے ختم کرنا ہے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: امریکہ میں شٹ ڈاؤن کا اعلان،سرکاری دفاتر بند

یوراگوئے کی حکومت نے اسرائیل کی اس مداخلت پر ’’شدید تشویش‘‘ کا اظہار کیا اور اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سرگرم کارکنوں کی جسمانی سلامتی اور بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام کرے۔ 
بولیویا کے صدر لوئس آرسے نے کہا کہ بولیویا ’’اس وحشیانہ حملے کی سخت مذمت کرتا ہے، ‘‘جسے انہوں نے ’’ناقابل قبول تشدد‘‘ اور ’’بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیتن یاہو کی’’ریاستی دہشت گردی کی پالیسی‘‘ بے گناہ شہریوں پر حملے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ 
چلی کے صدر گیبریل بورک کی حکومت نے فلوٹیلا کی حمایت کا اعلان کیا، جس میں دو چلی کے شہری بھی شامل ہیں۔ حکومتی ترجمان کامیلا والیخو نے تصدیق کی کہ گلوبل صمود فلوٹیلا کو’’چلی کی ریاست کی مکمل حمایت حاصل ہے‘‘اور وزارت خارجہ اپنے شہریوں کے تحفظ کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK