Inquilab Logo Happiest Places to Work

طلبہ اور نوجوانوں کے بعد اب کسان بھی احتجاج پر اُترے

Updated: July 22, 2026, 9:55 AM IST | New Delhi

مجوزہ ہند،امریکہ تجارتی معاہدے کیخلاف دہلی کوچ کا نعرہ دیا تھا لیکن انہیں شمبھو بارڈر پر روک دیا گیا، سیکوریٹی کے سخت انتظامات نے ۲۰۲۴ء کے احتجاج کی یاد تازہ کردی۔

The tractor protest by farmers from Punjab has once again put the government in fear (Photo: PTI)
پنجاب سے نکلنے والے کسانوں کے ٹریکٹر احتجاج نے ایک بار پھر حکومت کو خوف میں مبتلا کردیا ہے (تصویر: پی ٹی آئی)

ملک کے طلبہ اور نوجوانوں کے اب کسانوں نے بھی حکومت نے دو دو ہاتھ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دہلی میں طلبہ پر کریک ڈاؤن کے ایک دن بعد پنجاب  کےکسانوں نے دہلی کوچ کا نعرہ دیا جنہیں سیکوریٹی فورسیز نے شمبھو بارڈر پر روک  دیا۔ ان کسانوں نے مجوزہ  ہند،امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف بطور احتجاج ’دہلی چلو‘ کانعرہ دیا تھا۔اس دوران ہریانہ پولیس نے ناکہ بندی کر کے کسانوں کو ریاست میں داخل ہونے سے روک دیا۔ یہ کسان’دیش بچاؤ مورچہ‘ کے بینر تلے منعقدہ `’کسان مہاپنچایت‘ کیلئے قومی راجدھانی میں کسان گھاٹ جا رہے تھے، جہاں کسانوں اور کئی کسان تنظیموں کے نمائندوں نے مجوزہ تجارتی معاہدے کی مخالفت کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔کسان مزدور مورچہ کے لیڈر سرون سنگھ پنڈھیر نے کہا کہ اس اجلاس میں پنجاب، ہریانہ، راجستھان اور ہماچل پردیش سے کسانوں کے شامل ہونے کی امید تھی۔ ان کے مطابق اس مظاہرے کا مقصد مجوزہ  معاہدے کے سبب زرعی شعبے اور دیہی معیشت پر پڑنے والے دور رس نتائج کو اجاگر کرنا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: سی جے پی مظاہرہ؛ یہ ہمارے مستقبل کی لڑائی ہے: ریپیڈو ڈرائیور

کسان تنظیموں کا استدلال ہے کہ مجوزہ تجارتی نظام کے تحت زرعی درآمدات پر رکاوٹوں کو کم کرنے سے ہندوستانی کسانوں کو سستی غیر ملکی مصنوعات کا مقابلہ کرنا پڑے گا، جس سے کسانوں، زرعی مزدوروں، ڈیری کسانوں، مویشی پالنے والوں اور چھوٹے تاجروں پر اثر پڑے گا۔ انہیں یہ بھی ڈر ہے کہ یہ معاہدہ صرف زراعت تک محدود نہ رہ کر ڈیری، مینوفیکچرنگ، ڈیجیٹل کامرس، ای کامرس، سرکاری خریداری،  املاک دانش  کے حقوق اور سروس سیکٹر تک بھی پھیل سکتا ہے۔کسانوں نے مرکزی سرکار سے التجا کی ہے کہ وہ مجوزہ تجارتی معاہدے کو آگے نہ بڑھائےکیونکہ یہ زراعت پر منحصر لاکھوں لوگوں کے روزگار کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سرکار مجوزہ معاہدے کو منسوخ کرے اور کسانوں نیز عام شہریوں کے مفادات کو ترجیح دے۔

مجوزہ تجارتی معاہدے کی مخالفت گزشتہ کئی ہفتوں سے پنجاب میں بڑھ رہی ہے، جہاں کئی کسان یونینوں نے معاہدے کے خلاف حمایت حاصل کرنے کیلئے مظاہروں اور موٹر سائیکل ریلیوں کا اہتمام کیا ہے۔شمبھو بارڈر پر سیکوریٹی کے انتظامات نے فروری ۲۰۲۴ء کی یادیں تازہ کر دیں، جب ہریانہ پولیس نے تمام فصلوں پر کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کی قانونی ضمانت کے مطالبے کے حق میں کسان یونینوں کے ذریعے شروع کیے گئے ’دہلی چلو‘مارچ کو روکنے کیلئے کئی جگہوں پر بیری کیڈ لگا کر پنجاب ہریانہ سرحد کو سیل کر دیا تھا۔ اس تعطل کی وجہ سے بالآخر کسان ایک سال سے زیادہ عرصے تک شمبھو اور کھنوری سرحدوں پر ڈٹے رہے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: دہلی احتجاج: ملکی اخبارات میں پولیس کریک ڈاؤن نمایاں، مظاہرین کا مؤقف محدود

کسانوں کو روکنے اور سرحد پر بھاری تعداد میں فورس تعینات کرنے پر کسان تنظیموں کےساتھ ہی اپوزیشن جماعتوں نے شدید رد عمل کااظہار کیا ہے۔ کانگریس لیڈر کماری شیلجا نے الزام عائد کیا کہ حکومت ملک کے مسائل پر جواب دینے سے بچ رہی ہے اور پارلیمنٹ میں مہنگائی، بے روزگاری اور دیگر عوامی مفاد کے موضوعات پر بحث نہیں ہونے دے رہی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس طلبہ، نوجوانوں، کسانوں اور عام شہریوں کے حقوق کی لڑائی پارلیمنٹ کے اندر اور باہر پوری مضبوطی سے لڑتی رہے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK