Inquilab Logo Happiest Places to Work

توانائی کے بحران کےبعد انٹر نیٹ بھی خطرہ میں!

Updated: April 01, 2026, 9:55 AM IST | Agency | Tehran

مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث جہاں عالمی توانائی بحران شدت اختیار کر گیا ہے وہیں اب ایک نیا خطرہ سامنے آ رہا ہے،عالمی انٹرنیٹ سروسیز کی رفتار متاثر ہونے کا۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز نہ صرف تیل اور گیس کی ترسیل کے لئے ایک اہم راستہ ہے بلکہ یہ عالمی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کا بھی ایک حساس مرکز بن چکا ہے۔

Iran War.Photo:INN
ایران جنگ۔ تصویر:آئی این این

مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث جہاں عالمی توانائی بحران شدت اختیار کر گیا ہے  وہیں اب ایک نیا خطرہ سامنے آ رہا ہے،عالمی انٹرنیٹ سروسیز کی رفتار متاثر ہونے کا۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز نہ صرف تیل اور گیس کی ترسیل کے  لئے ایک اہم راستہ ہے بلکہ یہ عالمی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کا بھی ایک حساس مرکز بن چکا ہے۔ اس سمندری راستے کے نیچے فائبر آپٹک کیبلوں کا جال بچھا ہوا ہے، جن کے ذریعے دنیا کا تقریباً ۹۵؍ فیصد انٹرنیٹ ڈیٹا منتقل ہوتا ہے۔اگر جنگ کے باعث ان کیبلز کو نقصان پہنچتا ہے یا ان علاقوں تک مرمت کرنے والی ٹیموں کی رسائی محدود ہو جاتی ہے تو اس کے اثرات پوری دنیا پر پڑ سکتے ہیں، خاص طور پر  ہندوستان جیسے ممالک پر جو اپنی بین الاقوامی انٹرنیٹ کنکٹی ویٹی کے  لئے انہی راستوں پر انحصار کرتے ہیں۔
 رپورٹس کے مطابق  ہندوستان کا بہت سا  بین الاقوامی ڈیٹا ٹریفک بحرعرب اور آبنائے ہرمز کے راستوں سے گزرتا ہے۔اگر ان میں سے کسی ایک کو بھی نقصان پہنچتا ہے تو ملک میںانٹرنیٹ کی رفتار میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ویڈیو اسٹریمنگ  جیسے یوٹیوب اور نیٹ فلکس کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے اور ویڈیو کالز اور کلاؤڈ سروسیز میں بھی رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔اگر خلیجی راستے متاثر ہوتے ہیں تو ڈیٹا کو متبادل اور طویل راستوںجیسے پیسفک روٹس سے گزارنا پڑے گا، جس سے ’’لیٹنسی‘‘ یعنی ڈیٹا کے سفر کا وقت بڑھ جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ انٹرنیٹ تو چلتا رہے گا مگر سست ہو جائے گا۔  ماہرین کا کہنا ہے کہ فی الحال مکمل عالمی انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کا امکان کم ہے۔

یہ بھی پڑھئے:غزہ میں شہیدوں کی تعداد ۷۲؍ ہزار ۳۰۰؍ سے تجاوز، اسرائیلی جارحیت جاری


 ایران  نے ۳۰؍ ملین ڈالرس کا امریکی ڈرون مار گرایا
 مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران ایرانی فضائی دفاعی نظام نے اصفہان کے قریب ایک جدید ترین امریکی ساختہ ڈرون کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس ڈرون کی قیمت ۳۰؍ ملین ڈالرس بتائی جارہی ہے۔تہران سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، ایرانی فوج نے اصفہان کی فضائی حدود میں ایک جدید ترین ایم کیو نائن ریپر ڈرون کو مار گرایا ہے۔ اس ڈرون کی قیمت تقریباً  ۳۰؍ملین ڈالرس بتائی جاتی ہے۔ یہ ڈرون نگرانی اور ہدف کو درست نشانہ بنانے کے  لئے استعمال ہوتا ہے۔ ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ موجودہ تنازع کے دوران وہ اب تک مجموعی طور پر  ۱۴۶؍ڈرونز مار گرا چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:کسانوں کے احتجاج پر سرکار گھٹنے ٹیکنے پر مجبور،ٹکیت کی رہائی


تل ابیب پر میزائلوں کی بارش
ایران کی جانب سے وسطی اسرائیل پر میزائلوں کی برسات کر دی گئی۔ اس حملے کے نتیجے میں اسرائیل کے متعدد شہر لرز اٹھےجبکہ دوسری جانب عرب اور اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایرانی میزائلوں کا ملبہ گرنے سے تل ابیب اور اس کے گردونواح میں شدید نقصان ہوا ہے۔ اسرائیلی ایمبولینس سروسیز نے تصدیق کی ہے کہ گُش دان کے علاقے میں ملبہ گرنے سے ۶؍ افراد زخمی ہوئے جبکہ بنی براک میں میزائل حملوں کے نتیجے میں ۳؍ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK