Updated: January 03, 2026, 9:02 PM IST
| Agartala
تریپورہ کی راجدھانی اگرتلا میں ایک مسلم رکشا ڈرائیورکو نامعلوم افراد نے انتہائی سفاکانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور اسے زندہ جلانے کی کوشش کی۔ یہ واقعہ نہ صرف سنگین فرقہ وارانہ تشدد کی طرف اشارہ کرتا ہے بلکہ علاقے میں اقلیتوں کے تحفظ پر بھی سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔
تریپورہ کی راجدھانی اگرتلا میں ایک مسلم رکشا ڈرائیور کو قتل کرنے کی ایک نہایت سفاکانہ کوشش کے دوران، نامعلوم حملہ آوروں کے ایک گروہ نے مبینہ طور پر اسے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا، آدھا ریت میں دفن کیا اور اسے زندہ جلانے کی کوشش کی۔ یہ واقعہ جمعرات کو پیش آیا۔ متاثرہ شخص دیدار حسین، جو پیشے کے اعتبار سے رکشہ ڈرائیور ہیں اور اگرتلا کے علاقے ابھے نگر کے رہائشی ہیں، پر یکم جنوری کو شام تقریباً ساڑھے۶؍ بجے گنگائل نیویدیتا کلب کے قریب چار سے پانچ نامعلوم افراد نے حملہ کیا۔ حملے میں زندہ بچ جانے کے بعد حسین نے درگا چوموہنی آؤٹ پوسٹ میں تحریری شکایت درج کرائی۔ اپنی شکایت میں حسین نے بتایا کہ چار سے پانچ نامعلوم شرپسندوں نے اچانک اس کا راستہ روک لیا اور بے رحمی سے اس پر حملہ کیا۔ ایف آئی آر، جس تک ’مکتوب میڈیا‘ کو رسائی حاصل ہوئی، میں درج ہے:’’بعد میں انہوں نے زبردستی مجھے ریت کے ایک ڈھیر میں دھکیل دیا اور واضح طور پر مجھے قتل کرنے کی نیت سے آگ لگا کر مارنے کی کوشش کی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ’ ’کیاجان سے جانیوالا میرا نواسہ معاوضہ سےلوٹ آئیگا؟‘‘
حسین نے کہا کہ اس حملے میں اسے شدید جسمانی اور ذہنی چوٹیں آئیں اور وہ صرف اس وقت بچ سکا جب اس کی چیخ و پکار سن کر حملہ آور وہاں سے فرار ہو گئے۔ شکایت کے مطابق، وہ اس وقت طبی علاج کے مراحل سے گزر رہا ہے۔ ایک مقامی رہائشی، حبیب الرحمان، نے’مکتوب‘ کو بتایا کہ حسین کو اس کا نام پوچھنے کے بعد نشانہ بنایا گیا جس کے بعد حملہ آوروں نے بنگلہ دیش میں اقلیتوں کے خلاف تشدد سے متعلق سوالات اٹھائے۔ رحمان نے مزید کہا، ’’اطلاع ہے کہ حسین نے اپنے حملہ آوروں سے پوچھا کہ اس کا قصور کیا ہے، جس پر انہوں نے سرحد پار’اقلیتوں‘ پر ہونے والے حملوں کا حوالہ دیا۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: اندور : اپوزیشن کیساتھ ساتھ عدالت بھی برہم
اپنی شکایت میں حسین نے اس واقعے کو’’سنگین، انتہائی خطرناک اور ناقابلِ ضمانت جرم‘‘ قرار دیا ہے۔ پولیس نے نامعلوم ملزمان کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہیتا (BNS) کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے، جن میں دفعہ ۱۰۹؍(قتل کی کوشش)، دفعہ ۱۱۵؍(۲) (شدید چوٹ پہنچانا)، اور دفعہ۳۲۶؍ (آگ لگا کر قتل کرنے یا اس کی کوشش) شامل ہیں۔ اس واقعے کے بعد اگرتلا میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے، جہاں ملزمان کی فوری گرفتاری اور سخت کارروائی کے مطالبے کے ساتھ بڑی تعداد میں لوگوں نے احتجاجی مارچ میں شرکت کی۔ کانگریس کے ایم ایل اے سدپ رائے برمن اور ٹی آئی پی آر اے موتھا کے لیڈر شاہ عالم ان لیڈروں میں شامل تھے جنہوں نے اس مظاہرے کی قیادت کی۔ ’مکتوب‘ سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ عالم نے کہا، ’’شکایت درج کرنے کے علاوہ پولیس نے اب تک کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔ اور اقلیتوں سے متعلق دیگر معاملات میں بھی یہی صورتحال ہے۔ ‘‘