• Sat, 21 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آگرہ کے شاہی قبرستان میں قبروں کی مبینہ مسماری، کشیدگی

Updated: February 21, 2026, 9:07 PM IST | Agra

اتر پردیش کے آگرہ میں واقع تاریخی شاہی قبرستان میں مبینہ طور پر پرانی قبروں کو راتوں رات ہٹانے اور دیوار تعمیر کرنے کے الزام کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔ مسلم کمیونٹی نے اسے زمین پر قبضے کی کوشش قرار دیتے ہوئے فوری قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

Symbolic image. Photo: INN
علامتی تصویر۔ تصویر : آئی این این

آگرہ کے مڈیہ کٹرا روڈ پر واقع شاہی قبرستان آگرہ علاقے میں اس وقت کشیدگی پیدا ہو گئی جب مقامی افراد نے الزام لگایا کہ رات کے وقت بھاری مشینری کے ذریعے متعدد پرانی قبروں کو ہٹا کر نئی باؤنڈری وال تعمیر کی گئی۔ باشندوں کے مطابق، جب وہ صبح قبرستان پہنچے تو کئی قبریں غائب تھیں۔ ایک مقامی شخص نے کہا کہ ’’جب قبرستان بھی محفوظ نہ رہے تو عام لوگ خود کو کیسے محفوظ سمجھیں؟ یہ صرف زمین نہیں، ہمارے لیے مقدس مقام ہے۔‘‘ کمیونٹی کے ارکان کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر جے سی بی مشینوں کے ذریعے رات کی تاریکی میں کام کیا گیا اور اطراف کے باشندوں کو اس بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا۔ خبر پھیلتے ہی بڑی تعداد میں لوگ موقع پر جمع ہو گئے اور احتجاج شروع کر دیا، جس میں فوری پولیس کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: جبل پور، کرناٹک اور حیدرآباد میں فرقہ وارانہ تصادم، پولیس فورس تعینات

تحریری شکایت درج کرانے کے بعد پولیس اور محکمہ ریونیو کی مشترکہ ٹیم موقع پر پہنچی اور معائنہ کیا۔ ایک سرکاری اہلکار نے کہا کہ ’’سرکاری زمین اور مذہبی مقامات پر قبضہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اگر غیر قانونی تعمیر ثابت ہوئی تو اسے ہٹا دیا جائے گا۔‘‘ ذرائع کے مطابق، بغیر اجازت تعمیر کی گئی باؤنڈری وال کو منہدم کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔حکام نے بتایا کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی۔پولیس نے ابھی تک یہ تصدیق نہیں کی کہ کتنی قبریں متاثر ہوئیں یا تعمیر کس نے کروائی۔ ریونیو محکمہ زمین کے ریکارڈ کا جائزہ لے رہا ہے تاکہ جائیداد کی قانونی حیثیت واضح ہو سکے۔

یہ بھی پڑھئے: حیدرآباد: امبرپیٹھ میں تراویح کی نماز کے دوران ، مسجد کے قریب نعرے بازی کے بعد کشیدگی

مقامی مسلم نمائندوں کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صرف زمین تک محدود نہیں بلکہ مذہبی جذبات اور احترام سے جڑا ہوا ہے۔ کمیونٹی لیڈروں نے قانونی کارروائی کے ساتھ ساتھ اس بات کی یقین دہانی بھی طلب کی ہے کہ آئندہ ایسے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK