Updated: March 08, 2026, 8:14 PM IST
| New Delhi
اے آئی ہندوستان کے مینوفیکچرنگ سیکٹر کے مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایم ایس ایم ای) کے لیے ایک بڑا تبدیلی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اندازہ ہے کہ ۲۰۳۵ء تک اے آئی اس سیکٹر کی ویلیو کریشن میں۶ء۱۳۵؍ سے۹ء۱۴۹؍ ارب ڈالر تک کا اضافہ کر سکتی ہے۔
مینوفیکچرنگ۔ تصویر:آئی این این
اے آئی ہندوستان کے مینوفیکچرنگ سیکٹر کے مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایم ایس ایم ای) کے لیے ایک بڑا تبدیلی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اندازہ ہے کہ ۲۰۳۵ء تک اے آئی اس سیکٹر کی ویلیو کریشن میں۶ء۱۳۵؍ سے۹ء۱۴۹؍ ارب ڈالر تک کا اضافہ کر سکتی ہے۔ یہ تخمینہ اس صورت میں لگایا گیا ہے جب ہندوستان کی کل مینوفیکچرنگ ویلیو ایڈیڈ میں ایم ایس ایم ای کی حصہ داری ۵۰؍ فیصد تک پہنچ جائے۔ یہ بات ہفتے کو جاری ہونے والی پی ڈبلیو سی انڈیا اور آبرزور ریسرچ فاؤنڈیشن کی مشترکہ رپورٹ میں کہی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اگر ہندوستان اپنے جی پی ڈی میں مینوفیکچرنگ کی حصہ داری۲۵؍ فیصد تک بڑھانے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور ایم ایس ایم ای کی حصہ داری مالی سال۲۴۔۲۰۲۳ءکے۴ء۳۵؍ فیصد سے بڑھ کر۲۰۴۷ء تک۵۰؍ فیصد ہو جاتی ہے، تو یہ سیکٹر ۱۳ء۳؍ سے۲۱ء۳؍ ٹریلین ڈالر تک کی ترقی کی امکانات کھول سکتا ہے۔
پی ڈبلیو سی انڈیا کے چیئرپرسن سنجے کرشن نے کہا کہ اب اے آئی صرف بڑی کمپنیوں تک محدود نہیں رہی۔ اگر اسے معاون ٹیکنالوجی کے طور پر استعمال کیا جائے تو یہ ایم ایس ایم ای کو کم پیداواری صلاحیت کے جال سے نکلنے اور معیار، رفتار اور جدت کے بنیاد پر مقابلہ کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی کو اس طرح بنایا جانا چاہیے کہ یہ ہر سائز کے کاروبار کے لیے دستیاب، سستا اور مفید ہو۔ اس سے ایم ایس ایم ای اپنی ساختی حدود کو عبور کر سکتے ہیں اور عالمی ویلیو چین میں بہتر طریقے سے شامل ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:’’رامائن‘‘ پر مغربی ایشیا جنگ کا اثر، رنبیر کپور کی فلم کی اہم تقریب ملتوی
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اے آئی مینوفیکچرنگ ایم ایس ایم ای کی پوری ویلیو چین کو بدل سکتا ہے۔ اس میں مشینوں کی پیشگی مرمت کی پیش گوئی، توانائی کی اصلاح، کیمرہ بیسڈ معیار کی جانچ، اے آئی بیسڈ قرضہ کا جائزہ، کثیر لسانی کسٹمر سروس، قوانین کی پابندی اور جنریٹیو ڈیزائن جیسے متعدد استعمال شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:رونالڈو کی غیر موجودگی میں سیماکان کا جادو، النصر ٹاپ پر قابض
اے آئی سے تکنیکی صلاحیت کی رکاوٹیں کم ہوں گی اور بڑے پیمانے پر پیداوار کی لاگت بھی گھٹے گی۔ اس سے چھوٹے صنعتکار بہتر معیار، عالمی معیار اور تیز پیداوار حاصل کر سکیں گے۔ رپورٹ کے مطابق، آنے والے وقت میں ڈیٹا سینٹر اور سیمی کنڈکٹر صنعت میں بڑے سرمایہ کاری کے امکانات ہیں۔ اس سے ایم ایس ایم ای کو بھی موقع ملے گا کیونکہ وہ کولنگ آلات، ہارنس اور صنعتی پرزہ جات جیسے غیر تکنیکی سرمایہ جاتی سامان فراہم کر سکتے ہیں۔