Inquilab Logo Happiest Places to Work

تخلیقی کام میں اے آئی کا کوئی کردار نہیں: سلمان رشدی

Updated: July 09, 2026, 10:23 PM IST | London

معروف برطانوی ہندوستانی ناول نگار سلمان رشدی نے تخلیقی شعبوں میں مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادب، کہانی نویسی اور سنیما کی اصل طاقت تخلیقی جدت (Originality) میں ہے، جسے اے آئی کبھی نقل نہیں کر سکتا۔ لندن میں Liberatum Cultural Honors سے قبل ایک انٹرویو میں رشدی نے کہا کہ انہیں تخلیقی کام میں اے آئی سے ’’صفر بلکہ صفر سے بھی کم دلچسپی‘‘ ہے۔

Salman Rushdie. Image: X
سلمان رشدی۔ تصویر: ایکس

بکر انعام یافتہ مصنف سلمان رشدی نے تخلیقی صنعتوں میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence - AI) کے بڑھتے ہوئے استعمال پر واضح اور سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادب، کہانی نویسی، فلم اور فنونِ لطیفہ کی بنیاد اصل تخلیقی صلاحیت پر ہوتی ہے، جو اے آئی کے لیے ممکن نہیں۔ ۸؍ جولائی کو لندن میں منعقد ہونے والے Liberatum Cultural Honors کی تقریب سے قبل ورائٹی کو دیے گئے انٹرویو میں سلمان رشدی سے جب تخلیقی کام میں اے آئی کے کردار کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے دوٹوک جواب دیا کہ ’’کچھ نہیں، صفر۔‘‘ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت معلومات جمع کرنے اور موجودہ مواد کے مختلف ورژن تیار کرنے کی صلاحیت تو رکھتی ہے، لیکن وہ ایسی کوئی نئی چیز تخلیق نہیں کر سکتی جو اس سے پہلے کبھی وجود میں نہ آئی ہو۔

یہ بھی پڑھئے: ’’مسلم ڈلیوری بوائے نہ بھیجنا‘‘ لکھنے والے گاہک کو شرمندہ کردینے پر آفتاب کی پزیرائی

رشدی نے کہا کہ ’’اے آئی تخلیقی کام کے لیے مفید نہیں کیونکہ اس کے پاس Originality پیدا کرنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ یہ صرف پہلے سے موجود معلومات کو اکٹھا کر کے اس کے مختلف ورژن بنا سکتی ہے، لیکن یہ وہ چیز پیدا نہیں کر سکتی جو پہلے کسی نے نہ کی ہو۔ یہی اصل فن ہے، یعنی ایسی چیز تخلیق کرنا جو پہلے کبھی نہ دیکھی گئی ہو۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’مجھے اے آئی میں صفر سے بھی کم دلچسپی ہے۔‘‘ سلمان رشدی نے فن اور ادب کے مقصد پر بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ تخلیقی کام کا مقصد صرف لوگوں کو محظوظ کرنا نہیں بلکہ انہیں سوچنے، سوال اٹھانے اور نئے زاویوں سے دنیا کو دیکھنے پر مجبور کرنا بھی ہے۔ ان کے مطابق ’’بہترین فن صرف تفریح نہیں ہوتا، بلکہ وہ چیلنج بھی کرتا ہے۔ کبھی لوگ اسے پسند نہیں کرتے، لیکن یہی اس کا مقصد ہوتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی تخلیق صرف پسند کیے جانے کے لیے بنائی جائے تو وہ اپنی اصل روح کھو دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: قبول ِاسلام پر ریزرویشن سے محرومی کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں پٹیشن

رشدی نے اپنے مشہور ناولMidnight’s Children کی مجوزہ ٹیلی ویژن موافقت پر بھی بات کی، جس پر معروف ہندوستانی فلم ساز وشال بھردواج کام کر رہے تھے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ یہ منصوبہ مکمل نہیں ہو سکا۔ رشدی نے کہا کہ ’’ہاں، یہ منصوبہ ختم ہو گیا۔ اس کی وجوہات مالی معاملات بھی تھے اور اسکرپٹ سے متعلق اختلافات بھی۔ میرے خیال میں نیٹ فلکس کو اسکرپٹ کی سمت پسند نہیں آئی۔ ایسا کبھی کبھی ہو جاتا ہے۔ وشال بھردواج ایک نہایت باصلاحیت فلم ساز ہیں، لیکن یہ منصوبہ آگے نہ بڑھ سکا۔‘‘ انہوں نے اس کے باوجود امید ظاہر کی کہ ان کے دیگر ادبی کاموں، خصوصاً ‘Midnight’s Children’ اور ‘The Ground Beneath Her Feet’ کی نئی فلمی یا ٹی وی موافقت پر اب بھی مختلف سطحوں پر بات چیت جاری ہے، اگرچہ کسی منصوبے کو حتمی شکل ملنے تک وہ اس بارے میں کوئی پیش گوئی نہیں کرنا چاہتے۔ رشدی نے ۲۰۱۲ء میں ریلیز ہونے والی دیپا مہتا کی فلم ‘Midnight’s Children’ کا بھی ذکر کیا، جس کی اسکرپٹ انہوں نے خود دیپا مہتا کے ساتھ مل کر لکھی تھی۔ 

یہ بھی پڑھئے: بابائے انٹرنیٹ وِنٹ سرف ریٹائر، اے آئی کے مستقبل پر اہم انتباہ جاری

رشدی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ اپنے نئے ناول پر کام کر رہے ہیں، تاہم انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، اس لیے اس کی کہانی یا موضوع کے بارے میں مزید تفصیلات شیئر کرنا قبل از وقت ہوگا۔ سلمان رشدی کے تازہ ترین بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب دنیا بھر میں تخلیقی صنعتیں، پبلشنگ، فلم سازی اور میڈیا میں اے آئی کے استعمال پر شدید بحث جاری ہے، اور متعدد معروف ادیب، فنکار اور فلم ساز اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت انسانی تخلیقی صلاحیت کا متبادل نہیں بن سکتی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK