غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں نے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں دھاوا بول دیا، وہاں انہوں نے تلمودی رسومات ادا کیں، اسرائیلی پولیس کی حفاظت میں اس کے صحن کا چکر بھی لگایا۔
EPAPER
Updated: July 01, 2026, 9:56 PM IST | Jerusalem
غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں نے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں دھاوا بول دیا، وہاں انہوں نے تلمودی رسومات ادا کیں، اسرائیلی پولیس کی حفاظت میں اس کے صحن کا چکر بھی لگایا۔
فلسطینی نیوز ایجنسی وفا کے مطابق، غیر قانونی اسرائیلی آبادکاروں نے بدھ کو مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مسجد اقصیٰ کے احاطے میں اسرائیلی پولیس کی تحفظ کے تحت دھاوا بول دیا۔وفا نے یروشلم گورنریٹ کے حوالے سے بتایا کہ درجنوں غیر قانونی آبادکار احاطے میں داخل ہوئے، اس کے صحن کا طواف کیا اور اسرائیلی پولیس کی نگرانی میں تلمودی رسومات ادا کیں۔ واضح رہے کہ مسجد اقصیٰ مسلمانوں کے لیے دنیا کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔یہودی اس علاقے کو ’’ٹیمپل ماؤنٹ‘‘ کہتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ دو قدیم یہودی عبادت گاہ کی جگہ تھی۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ: امن بورڈ کی پہلی حکمت عملی پر مبنی گاڑیاں بین الاقوامی فوجی اڈے پر پہنچی
بعد ازاں فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل مقبوضہ مشرقی یروشلم بشمول مسجد اقصیٰپر قبضہ کرنے اور اس کی عرب اور اسلامی شناخت مٹانے کی کوششیں کر رہا ہے۔ جبکہ فلسطینی مشرقی یروشلم کو اپنی مستقبل کی ریاست کے دارالحکومت کے طور پر دیکھتے ہیں، جو بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق ہے جو ۱۹۶۷ء میں اسرائیل کے شہر پر قبضے یا۱۹۸۰ء میں اس کی بعد میں ہونے والی الحاق کو تسلیم نہیں کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: بدعنوانی کے معاملے میں عدالت کی نیتن یاہو کو بچانے کی کوشش
یہ بھی ذہن نشین رہے کہ اسرائیلی وزیر بین گویر بھی اس سے قبل اپنے سینکڑوں حامیوں کے ساتھ مسجد اقصیٰ میں دراندازی کرچکا ہے، ساتھ ہی وہ مسلمانوں کے اس مقدس مقام میں یہودیوں کو بھی اپنے مذہبی رسومات ادا کرنے کی پرزور وکالت کرتا رہا ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیلی حکومت نے مسجد اقصیٰ تک مسلمانوں کی رسائی کو محدود کرنے کیلئے متعدد پابندیاں عائد کی ہیں، جن میں عمر کی قید بھی شامل ہے۔ جبکہ غیر قانونی یہودی آبادکار اسرائیلی پولیس اور فوج کے تحفظ میں اس طرح کی شرانگیزی کرتےرہتے ہیں۔ان کا حالیہ عمل اسی شرانگیز سلسلے کی ایک تازہ کڑی ہے۔