اراکین اسمبلی روہت پوار اور آدتیہ ٹھاکرے متاثرہ ڈاکٹروں اور نرسنگ اسٹاف سے اظہاریکجہتی کے لئے ڈومبیولی پہنچے، فوری طور پر کارروائی کامطالبہ کیا۔
روہت پوار اسپتال کے ڈاکٹروں اور عملے سے بات چیت کرتے ہوئے۔تصویر:آئی این این
شاستری نگر سرکاری اسپتال میں ڈاکٹروں اور نرسنگ عملے پر شیوسینا (شندے) کے کارپوریٹر رمیش مہاترے کے مبینہ حملے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔واقعہ نے نہ صرف طبی برادری میں شدید غم و غصہ پیدا کیا بلکہ اپوزیشن جماعتوں نے بھی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ اور عوامی ردِعمل کے پیش نظر وشنو نگر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئےکلیدی ملزم رمیش مہاترے اور اس کےتین ساتھیوں کو گرفتار کرلیا ہے۔ اپوزیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ صرف گرفتاری کافی نہیں بلکہ ملزم کارپوریٹر کو عہدے سے بھی برطرف کیا جائے تاکہ آئندہ کوئی عوامی نمائندہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی جرأت نہ کرسکے۔
اپوزیشن کے شدید دباؤ اور ریاست بھر میں بڑھتے احتجاج کے بعد کلیان کے ڈی سی پی اتل جھینڈے نے بدھ کی شام ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وشنو نگر پولیس نے شاستری نگر سرکاری اسپتال میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کے ساتھ مبینہ مارپیٹ اور ہنگامہ آرائی کے الزام میں شندے سینا کے کارپوریٹر رمیش مہاترے کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ ان کے۳؍ ساتھیوں کو پہلے ہی حراست میں لیا جا چکا تھا۔ شیوسینا (ادھو) کے نوجوان لیڈر آدتیہ ٹھاکرے متاثرہ ڈاکٹروں اور نرسنگ اسٹاف سے اظہاریکجہتی کے لئے ڈومبیولی پہنچے اور شاستری نگر اسپتال کا دورہ کیا۔ انہوں نے طبی عملے سے ملاقات کے بعد ریاستی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مطالبہ کیا کہ رمیش مہاترے کی رکنیت فوری طور پر منسوخ کی جائے۔ آدتیہ ٹھاکرے نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر حکومت واقعی قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتی ہے تو اسے اپنے ہی نمائندے کے خلاف ایسی کارروائی کرنی چاہئے جو دوسروں کے لئے مثال بن جائے۔
دوسری جانب راشٹروادی کانگریس پارٹی (شرد پوار) کے رکن اسمبلی روہت پوار بھی واقعہ کی اطلاع ملتے ہی لوکل ٹرین کے ذریعہ ڈومبیولی پہنچے۔انہوں نے شاستری نگر اسپتال کا دورہ کرکے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹرسعدیہ پنجاری، متاثرہ ڈاکٹروں اور نرسنگ اسٹاف سےملاقات کی۔ اسپتال کے دورے کے بعد میڈیا اور پولیس کے اعلی حکام سے گفتگو کرتے ہوئے روہت پوار نے حکومت اور پولیس کو سخت انتباہ دیا کہ اگر بدھ کی شام تک ملزم کارپوریٹر کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو جمعرات سے مہاوکاس اگھاڑی میں شامل این سی پی (شرد)، شیوسینا (ادھو) اور کانگریس ریاست گیر احتجاج شروع کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی خدمت میں مصروف ڈاکٹروں کو گالیاں دینا، ان پر حملہ کرنا اور اسپتال جیسے مقام کے تقدس کو پامال کرنا ناقابلِ معافی جرم ہے لہٰذا صرف رسمی کارروائی کافی نہیں بلکہ ایسے عناصر کے خلاف سخت ترین قانونی اقدام کیا جانا چاہئے تاکہ مستقبل میں کوئی بھی عوامی نمائندہ یا بااثر شخص قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی جرأت نہ کر سکے۔ ادھر مختلف طبی تنظیموں اور ڈاکٹر اسوسی ایشن نے بھی اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کی حفاظت کے لئے فوری اور مؤثر حفاظتی انتظامات کئے جائیں تاکہ آئندہ اس نوعیت کے افسوسناک واقعات کی مکمل روک تھام کی جاسکے۔