Inquilab Logo Happiest Places to Work

الہ آباد ہائی کورٹ کا حکم: پولیس، جوڑوں کی نجی زندگی میں مداخلت سے باز رہے

Updated: April 25, 2026, 7:15 PM IST | Allahabad

الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں پولیس کے ’’جوڑوں کا پیچھا کرنے‘‘ اور شادیوں کی چھان بین کے رجحان پر سخت اعتراض کیا۔ عدالت نے ایک نوجوان شادی شدہ جوڑے کے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کرتے ہوئے کہا کہ کسی بالغ کو یہ بتانے کا حق کسی کو نہیں کہ وہ کس سے شادی کرے یا کہاں رہے۔ عدالت نے ریاستی حکام کو اصلاحی اقدامات کی ہدایت بھی دی۔

Allahabad High Court. Photo: INN
الہ آباد ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این

اتر پردیش میں ایک اہم عدالتی پیش رفت میں الہ آباد ہائی کورٹ نے پولیس کے رویے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اصل جرائم پر توجہ دینے کے بجائے غیر ضروری طور پر جوڑوں کی ذاتی زندگی میں مداخلت کر رہے ہیں۔ یہ تبصرے جسٹس جے جے منیر اور جسٹس ترون سکسینہ کی بنچ نے ۲۱؍ اپریل کے فیصلے میں کئے، جب وہ ایک نوجوان شادی شدہ جوڑے کی درخواست پر سماعت کر رہے تھے۔ یہ درخواست خاتون کے والد کی جانب سے درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کے لیے دائر کی گئی تھی۔ عدالت نے واضح طور پر کہا کہ اگر دونوں افراد بالغ ہیں، تو کسی کو بھی ان کی زندگی کے فیصلوں میں مداخلت کا حق نہیں۔ بنچ نے مشاہدہ کیا کہ حالیہ دنوں میں ایک ’’پریشان کن رجحان‘‘ سامنے آیا ہے جہاں پولیس غیر ضروری طور پر ایسے معاملات میں ایف آئی آر درج کر رہی ہے اور جوڑوں کا پیچھا کر رہی ہے، جو کہ قانون کے دائرے سے باہر ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مساجد میں خواتین کے داخلے پر پابندی نہیں لیکن...: مسلم پرسنل لاء بورڈ

عدالت نے اپنے تبصرے میں کہا کہ پولیس کی یہ کارروائیاں نہ صرف غیر قانونی ہیں بلکہ بعض صورتوں میں خود جرم کے زمرے میں آ سکتی ہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ پولیس جوڑوں کو زبردستی الگ کر کے خاتون کو اس کے خاندان کے حوالے کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ایسے اقدامات عدالتی نظام پر غیر ضروری بوجھ ڈال رہے ہیں کیونکہ یہ مقدمات بلاوجہ عدالتوں تک پہنچ رہے ہیں۔ عدالت نے نہ صرف ایف آئی آر کو کالعدم قرار دیا بلکہ تھانے کی جنرل ڈائری میں کی گئی اندراج کو بھی منسوخ کرنے کا حکم دیا۔ علاوہ ازیں، خاتون کے والد اور دیگر افراد کو جوڑے کی ازدواجی زندگی میں مداخلت سے روکا۔ عدالت نے ریاستی حکام، بشمول ڈائریکٹر جنرل آف پولیس اور ایڈیشنل چیف سکریٹری (ہوم)، کو فوری اصلاحی اقدامات کرنے کی ہدایت دی۔ بنچ نے خبردار کیا کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو عدالت کو مزید سخت مداخلت کرنی پڑ سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اتر پردیش :۱۲؍ ہزار سے زائد وقف جائیدادوں کا رجسٹریشن منسوخ

خیال رہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف انفرادی آزادی اور بالغوں کے ازدواجی حقوق کو مضبوط کرتا ہے بلکہ پولیس کے اختیارات کی حد بھی واضح کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ حکم مستقبل میں ایسے کیسز کے لیے ایک اہم نظیر بن سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK