Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ: عرب نژاد نئے ارب پتی امجد مسعد جنہوں نے خود پروگرامنگ سیکھی

Updated: July 22, 2026, 7:02 PM IST | New York

اردن میں پیدا ہونے والے خود تعلیم یافتہ پروگرامر امجد مسعد نے محض ایک پرانے کمپیوٹر سے کوڈنگ سیکھ کر ایسی کامیابی حاصل کی کہ آج وہ امریکہ کے نئے عرب نژاد ارب پتی بن گئے ہیں۔ ان کی مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی کمپنی Replit کی مالیت حالیہ سرمایہ کاری کے بعد ۹؍ ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جس کے نتیجے میں امجد مسعد کی ذاتی دولت بھی ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی۔

Software engineer and entrepreneur Amjad Masad. Photo: X
سافٹ ویئر انجینئر اور کاروباری شخصیت امجد مسعد۔ تصویر: ایکس

اردن میں پیدا ہونے والے سافٹ ویئر انجینئر اور کاروباری شخصیت امجد مسعد نے ثابت کر دیا ہے کہ غیر معمولی کامیابی کے لیے روایتی راستہ اختیار کرنا ضروری نہیں۔ خود سے پروگرامنگ سیکھنے والے امجد مسعد آج امریکہ کے نئے عرب نژاد ارب پتیوں میں شامل ہو گئے ہیں۔ ان کی قائم کردہ مصنوعی ذہانت پر مبنی کمپنی Replit کی مالیت حالیہ فنڈنگ راؤنڈ کے بعد تقریباً ۹؍ ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جس سے ان کی ذاتی دولت ایک ارب ڈالر سے زیادہ ہو گئی۔ امجد مسعد کی کہانی کا آغاز اردن سے ہوا، جہاں انہوں نے کم عمری میں ایک پرانے IBM PC پر خود سے کوڈنگ سیکھنی شروع کی۔ انٹرنیٹ اور کتابوں کی مدد سے انہوں نے پروگرامنگ میں مہارت حاصل کی اور بعد ازاں امریکہ منتقل ہو گئے، جہاں انہوں نے جدید سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پر کام جاری رکھا۔ ان کا مقصد ایسا پلیٹ فارم بنانا تھا جو دنیا بھر میں ہر شخص کے لیے کوڈنگ کو آسان اور قابلِ رسائی بنا سکے۔ 

یہ بھی پڑھئے: نئے برطانوی وزیراعظم برنہم نے اپنی کابینہ کی ٹاپ ٹیم تشکیل دینا شروع کر دی

اسی سوچ کے تحت انہوں نے Replit کی بنیاد رکھی، جو ایک کلاؤڈ بیسڈ پروگرامنگ پلیٹ فارم ہے۔ اس پلیٹ فارم پر صارفین ویب براؤزر کے ذریعے مختلف پروگرامنگ زبانوں میں کوڈ لکھ سکتے ہیں، اس کی جانچ کر سکتے ہیں اور دوسروں کے ساتھ مل کر منصوبوں پر کام کر سکتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں کمپنی نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایسے فیچرز بھی متعارف کرائے ہیں جو صارفین کو صرف ہدایات لکھ کر کوڈ تیار کرنے میں مدد دیتے ہیں، جس سے Replit کی مقبولیت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق حالیہ سرمایہ کاری کے نئے مرحلے کے بعد کمپنی کی قدر ۹؍ ارب ڈالر تک جا پہنچی۔ اسی وجہ سے امجد مسعد کا کمپنی میں موجود حصص کا حصہ انہیں ارب پتیوں کی فہرست میں لے آیا۔ ٹیکنالوجی کی دنیا میں انہیں ایسے کاروباری لیڈر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو مصنوعی ذہانت کو صرف ماہر پروگرامرز تک محدود رکھنے کے بجائے عام صارفین کے لیے بھی قابلِ استعمال بنانا چاہتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: فرانس: یورپی یونین سے مقبوضہ مغربی کنارے سے مصنوعات کی درآمد بند کرنے کا مطالبہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ امجد مسعد کی کامیابی دنیا بھر کے نوجوان پروگرامرز اور اسٹارٹ اپ بانیوں کے لیے ایک اہم مثال ہے۔ ایک ایسے نوجوان کی کہانی، جس نے روایتی تعلیمی راستے کے بغیر اپنی محنت، خود سیکھنے کی صلاحیت اور جدید ٹیکنالوجی پر یقین کے ذریعے عالمی سطح پر اربوں ڈالر مالیت کی کمپنی قائم کی، یہ ظاہر کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت اور سافٹ ویئر کی دنیا میں نئے خیالات آج بھی غیر معمولی کامیابی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK