Updated: July 22, 2026, 1:39 PM IST
| Paris
فرانس نے یورپی یونین سے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی غیر قانونی بستیوں سے مصنوعات کی درآمد بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے، فرانس کے وزیر خارجہ نے کہا کہ فرانس اور یورپ یہ قبول نہیں کر سکتے کہ یورپ اپنی تجارت کے ذریعے ان غیر قانونی سرگرمیوں کی حمایت کرے جو اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کے امکان کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل باروٹ نے آئس لینڈ کے دارالحکومت ریکیاوک میں آئس لینڈ کی وزیر خارجہ تھورگیردور کاترین گونارسدوتیر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’’فرانس یورپی یونین میں غیر قانونی بستیوں سے مصنوعات کی درآمدات کے خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ’’فرانس اور یورپ یہ قبول نہیں کر سکتے کہ یورپ اپنی تجارت کے ذریعے ان غیر قانونی سرگرمیوں کی حمایت کرے جو اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کے امکان کو نقصان پہنچاتی ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ہند رجب فاؤنڈیشن نے بیلجیم میں اسرائیلی فوجی کے خلاف مجرمانہ درخواست دائر کی
باروٹ نے آئس لینڈ کے دورے کے دوران اسرائیل-فلسطین تنازع پر فرانس کے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے یہ باتیں کہیں۔ بعد ازاں انہوں نے دو ریاستی حل کے لیے فرانس کی حمایت کا بھی اعادہ کیا اور بتایا کہ آئس لینڈ نے۱۵؍ سال قبل ریاستِ فلسطین کو تسلیم کیا تھا جبکہ فرانس نے گزشتہ سالہی فلسطینی ریاست تسلیم کی۔باروٹ نے کہا کہ فلسطین میں۲۸؍ نومبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات فلسطینی پارلیمان کی قانونی حیثیت اور صدارتی انتخابات کی راہ ہموار کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: کیئر اسٹارمر مستعفی، اینڈی برنہم برطانیہ کے نئے وزیرِ اعظم مقرر
واضح رہے کہ تمام مخالفت کے باوجود اسرائیل مغربی کنارے پر غیر قانونی یہودی بستیوں کی توسیع جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ اقوام متحدہ نے ان بستیوں کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ ان غیر قانونی بستیوں میں قیام پذیر یہودیوں کے فلسطینی علاقوں پر حملوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، ان میں لوٹ، زمینوں پر قبضے ، منظم حملے، آگ زنی، اور قتل شامل ہیں۔ جس پر بیشتر ممالک کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جارہاہے۔ اسرائیل کو ان بستیوں کی آباد کاری سے روکنے اور دباؤ بڑھانے کے مقصد سے فرانس نے یہ مطالبہ اہم مانا جارہا ہے۔