Inquilab Logo Happiest Places to Work

شاہ چارلس سوم کا امریکہ دورہ؛ طنز و مزاح اور سفارت کاری ساتھ ساتھ

Updated: May 01, 2026, 9:01 PM IST | Washington

برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم نے اپنے حالیہ امریکی دورے میں مزاح اور تاریخ کے امتزاج سے سفارتی پیغام دیا۔ امریکی کانگریس سے خطاب اور ڈونالڈ ٹرمپ کی میزبانی میں وہائٹ ہاؤس عشائیے کے دوران ان کے لطیف انداز نے سیاسی تناؤ کے باوجود برطانیہ اور امریکہ کے تعلقات کو مثبت رنگ دیا۔ تقاریر میں نیٹو، ایران اور دفاعی پالیسی جیسے حساس موضوعات پر محتاط توازن بھی نمایاں رہا۔

King Charles met with Trump during his visit to the US. Photo: X
شاہ چارلس نے امریکی دورے پر ٹرمپ سے ملاقات کی۔تصویر: ایکس

برطانوی بادشاہ چارلس سوم نے اپنے امریکی دورے کے دوران نہ صرف سفارتی گفتگو کو آگے بڑھایا بلکہ مزاح اور تاریخی حوالوں کے ذریعے ایک نرم مگر مؤثر پیغام بھی دیا۔ ان کا انداز اس وقت خاص طور پر نمایاں ہوا جب انہوں نے امریکی کانگریس سے خطاب کیا اور ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے دیے گئے ریاستی عشائیے میں شرکت کی۔

وہائٹ ہاؤس میں مزاحیہ انداز
وہائٹ ہاؤس میں خطاب کے دوران بادشاہ نے تاریخ کو ہلکے پھلکے انداز میں چھیڑا۔ انہوں نے کہا کہ ’’مجھے یہ کہتے ہوئے افسوس ہے کہ ہم برطانویوں نے ۱۸۱۴ء میں وہائٹ ہاؤس کو ’’خوبصورت بنانے‘‘ کی ایک چھوٹی سی کوشش کی تھی۔‘‘ یہ بیان ۱۸۱۲ء کی جنگ کے دوران برطانوی افواج کے ہاتھوں واشنگٹن اور وہائٹ ہاؤس کو نذر آتش کیے جانے کے تاریخی واقعے کی طرف اشارہ تھا، جس پر حاضرین نے قہقہے لگائے۔ 
اسی تقریب میں انہوں نے ایک اور تاریخی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’اگر برطانیہ نہ ہوتا تو شاید آج امریکی فرانسیسی بول رہے ہوتے۔‘‘ یہ جملہ سات سالہ جنگ (۱۷۵۶ء سے ۱۷۶۳ء) کی طرف اشارہ تھا، جس کے نتیجے میں برطانیہ نے شمالی امریکہ میں فرانسیسی اثر کو محدود کر دیا۔

یہ بھی پڑھئے: واشنگٹن: انتخابی مہم میں اپنی’ ذات ‘ کے استعمال پرمیئر امیدوار رینی سمپت پرتنقید

کانگریس میں تاریخی ربط
امریکی کانگریس سے خطاب میں بادشاہ نے برطانیہ اور امریکہ کے مشترکہ ماضی کو ادبی انداز میں بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ شہر ہماری مشترکہ تاریخ کے ایک دور کی علامت ہے، جسے چارلس ڈکنز ‘دو جارجز کی کہانی’ کہہ سکتے تھے۔‘‘ یہ حوالہ جارج واشنگٹن اور شاہ جارج سوم کے دور کی طرف تھا، جب دونوں ممالک کے تعلقات تاریخی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہے تھے۔

حساس موضوعات پر محتاط پیغام
اگرچہ تقریر میں مزاح نمایاں رہا، بادشاہ نے کئی سنجیدہ موضوعات پر بھی محتاط انداز میں بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمارے معاشروں کی طاقت ان کی آزادی اور تنوع میں ہے… یہاں تک کہ جب ہمیں ان مسائل کا سامنا ہو جو ہمارے دونوں معاشروں میں موجود ہیں۔‘‘ یہ بیان اندرونی سماجی چیلنجز کی طرف اشارہ سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ انہوں نے کسی خاص تنازع کا براہ راست ذکر نہیں کیا۔

دفاع، نیٹو اور ایران پر اشارے
بادشاہ نے اپنی تقریر میں برطانیہ کے دفاعی عزم اور تاریخی اتحاد کو بھی اجاگر کیا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب نیٹو اور ایران سے متعلق پالیسیوں پر اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’۱۱؍ ستمبر ۲۰۰۱ء کے حملوں کے بعد، ہم نے مل کر جواب دیا — جیسا کہ ہمارے لوگ ایک صدی سے زیادہ عرصے سے کرتے آئے ہیں۔‘‘ یہ بیان امریکہ اور برطانیہ کے دیرینہ دفاعی تعاون کو یاد دلانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سیکوریٹی معاملات پر اختلافات موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: شاہ چارلس سے کہوں گا کہ کوہ نور واپس کریں: ظہران ممدانی کا رپورٹر کو جواب

سفارتی توازن کی مثال
بادشاہ کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب عالمی سیاست میں تناؤ بڑھ رہا ہے، خاص طور پر مشرق وسطیٰ، نیٹو اتحاد اور دفاعی اخراجات کے حوالے سے۔ اس پس منظر میں، ان کا مزاحیہ مگر محتاط انداز ایک اہم سفارتی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا مقصد ہے، تاریخی تعلقات کو اجاگر کرنا، موجودہ اختلافات کو نرم انداز میں پیش کرنا، اور عوامی سطح پر مثبت تاثر قائم کرنا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK