Updated: July 27, 2026, 6:05 PM IST
| Washington
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ایک نئے امریکی سروے میں اکثریت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ جنگ مہینوں بلکہ برسوں تک جاری رہ سکتی ہے۔ دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ اگرچہ امریکہ کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، لیکن باضابطہ مذاکرات کے لیے حالات سازگار نہیں۔ ادھر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے لبنان میں اسرائیلی حملے روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے حزب اللہ کی حمایت کا اعادہ کیا، جبکہ اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو واشنگٹن روانہ ہو گئے جہاں وہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے خطے کی صورتحال پر بات چیت کریں گے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے آثار فی الحال نظر نہیں آ رہے۔ سی بی ایس نیوز نے ’’یو گو‘‘ کے تازہ سروے کے مطابق امریکی عوام کی بڑی تعداد کا خیال ہے کہ یہ تنازع جلد ختم نہیں ہوگا۔ سروے میں ۳۷؍ فیصد شرکاء نے کہا کہ جنگ مزید کئی ماہ جاری رہ سکتی ہے، جبکہ ۲۱؍ فیصد کے مطابق یہ تنازع کئی برس تک بھی چل سکتا ہے۔ صرف ۹؍ فیصد افراد نے امید ظاہر کی کہ جنگ آئندہ چند ہفتوں میں ختم ہو جائے گی۔ اسی سروے میں ۵۸؍ فیصد افراد نے صورتحال پر غیر یقینی جبکہ ۵۷؍ فیصد نے مایوسی کا اظہار کیا، اور ۷۵؍ فیصد کا کہنا تھا کہ جنگ ٹرمپ انتظامیہ کی توقعات سے زیادہ مشکل ثابت ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کویت میں حکومت نے پینے کے پانی کی حد مقرر کر دی
امریکہ کے ساتھ بالواسطہ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے:ایران
ادھر ایران نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ بالواسطہ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے، تاہم موجودہ حالات میں باضابطہ مذاکرات کے لیے مناسب ماحول موجود نہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق سفارتی رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے، لیکن جب تک موجودہ کشیدگی اور دباؤ برقرار رہے گا، براہ راست مذاکرات آگے بڑھنا مشکل ہوگا۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران سفارتی راستہ بند نہیں کرنا چاہتا، تاہم وہ اسے موجودہ حالات میں قابل عمل بھی نہیں سمجھتا۔
ایران کا حزب اللہ کی حمایت کا اعادہ
اسی دوران ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے لبنان کی صورتحال پر بیان دیتے ہوئے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے حملے فوری طور پر بند کرے۔ انہوں نے کہا کہ ایران حزب اللہ کی حمایت جاری رکھے گا اور لبنان کے خلاف جاری فوجی کارروائیاں خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ ان کے بیان کو ایران کی اس پالیسی کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کے تحت تہران خطے میں اپنے اتحادی گروپوں کی سیاسی اور سفارتی حمایت کرتا رہا ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر کے خاندانی ذرائع نے بھی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ خامنہ ای اس وقت کسی سے براہ راست ملاقات یا رابطہ نہیں کر رہے اور محدود حلقے کے ذریعے ہی ریاستی امور انجام دیے جا رہے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے مزید سرکاری تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی میزائل کے ذخائر میں کمی، ٹرمپ کا اپنی فوج کو ایران پر حملے روکنے کا حکم
نیتن یاہو واشنگٹن روانہ
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو واشنگٹن روانہ ہو گئے ہیں، جہاں ان کی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات متوقع ہے۔ اسرائیلی حکومت کے مطابق دونوں لیڈر ایران، لبنان، غزہ اور وسیع تر مشرق وسطیٰ کی سیکوریٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کریں گے۔ مبصرین کے مطابق یہ ملاقات ایسے وقت ہو رہی ہے جب جنگ کے مستقبل، ممکنہ سفارتی پیش رفت اور خطے کی سلامتی کے حوالے سے عالمی سطح پر بے چینی پائی جا رہی ہے۔ اگرچہ حالیہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست حملوں میں عارضی وقفہ دیکھا گیا ہے، تاہم دونوں ممالک کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ بنیادی اختلافات بدستور برقرار ہیں۔ اسی لیے سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ عسکری اور سیاسی کشیدگی بھی خطے کی صورتحال پر اثر انداز ہو رہی ہے۔