کئی ترقیاتی کام پچھلے ۳؍ سال میں کئے گئے، مجموعی بل ڈھائی کروڑ روپے تھے جو اب تک ادا نہیں کئے۔
سنیل واگدرے۔ تصویر: آئی این این
سرکاری ترقیاتی کام مکمل کرنے کے باوجود برسوں تک واجبات ادا نہ ہونے سے ٹھیکیداروں کا مالی بحران سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ اس دوران وروڈ تعلقہ کے دیہات جاروڈ کے رہائشی۵۲؍سالہ ٹھیکیدار سنیل آنند راؤ واگدرے نے مبینہ طور پر مالی پریشانیوں سے تنگ آکر اپنے کھیت میں پھانسی لگا کر خودکشی کرلی۔ اس واقعے سے ناراض جاروڈ میں بازار مکمل طور پر بند رکھ کر ریاستی حکومت کے خلاف احتجاج بھی کیا گیا۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق، سنیل واگدرے نے ٹینڈر کے ذریعے مختلف سرکاری ترقیاتی کام مکمل کیے، لیکن تقریباً ڈھائی کروڑ روپے کے بل گزشتہ تین سال سے زیرِ التواء تھے۔ بینکوں، کریڈیٹ سوسائٹیوں اور نجی افراد سے لیے گئے قرضوں اور ان کے سود کی ادائیگی میں ناکامی کے باعث وہ شدید مالی دباؤ کا شکار تھے۔
پولیس کے مطابق، سنیل واگدرے نے خودکشی سے قبل اپنے بھتیجے کے نام ایک نوٹ لکھا تھا، جس میں خاندان کی دیکھ بھال کرنے اور دوسروں کے نام پر کیے گئے کاموں کی رقم حکومت سے وصول کرنے کی ذمہ داری کا ذکر کیا گیا تھا۔
بتایا جاتا ہے کہ سنیل واگدرے کھیت جاتے وقت اپنے موبائل فون پر ہاتھ جوڑ کر نمسکار کرنے کا اسٹیٹس لگایا تھا اور بعض جاننے والوں سے بھی رابطہ کیا تھا۔ رات گئے تک گھر واپس نہ آنے پر رشتہ داروں نے تلاش شروع کی، تقریباً ڈیڑھ بجے ان کی لاش آم کے درخت سے لٹکی ہوئی ملی۔ اطلاع ملتے ہی وروڈ پولیس نے موقع پر پہنچ کر پنچنامہ کیا۔ پسماندگان میں اہلیہ، بیٹا اوربیٹی شامل ہیں۔
ابتک ۸؍ ٹھیکیداروں نے خودکشی کی ہے،امراوتی ضلع ٹھیکیدار اسوسی ایشن کا دعویٰ
امراوتی ضلع ٹھیکیدار اسوسی ایشن کا کہنا کہ سرکاری کاموں کے بل بروقت ادا نہ ہونے اور حکومت کی غیر مساوی فنڈ مختص کرنے کی پالیسی کے باعث ٹھیکیدار مایوسی کا شکار ہیں۔ اسوسی ایشن کے مطابق، اب تک ۸؍ ٹھیکیدار خودکشی جیسا انتہائی قدم اٹھا چکے ہیںاور حکومت کی غلط پالیسی کے سبب پیدا ہونے والی مایوسی نے سنیل واگدرے کو خودکشی پر مجبور کیا ہے۔ اسوسی ایشن نے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ٹھیکیداروں کے تمام زیرِ التواء واجبات فوری طور پر ادا کیے جائیں۔