Inquilab Logo Happiest Places to Work

اندھیری :سیون ہلز اسپتال کی نجکاری کی شدید مخالفت

Updated: June 11, 2026, 9:59 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

’ اندھیری وکاس پرتشٹھان‘ کی پریس کانفرنس میںاس فیصلے کوغریبوں کے سستے علاج کا حق چھیننے کی کوشش قرار دیا گیا۔

In A Press Conference Of ‘Andheri Vikas Pratishthan’, The Decision Was Termed As An Attempt To Snatch Away The Right Of The Poor To Affordable Treatment.Photo:INN
سیون ہلز اسپتال کی نجکاری کے خلاف ’ اندھیری وکاس پرتشٹھان‘ کی پریس کانفرنس کا منظر-تصویر:آئی این این
اندھیری کا مشہور سیون ہلز اسپتال مغربی مضافات کے ان چند سرکاری اسپتالوں میں سے ایک ہے جہاں بڑی تعداد میں غریب علاج کرواتے ہیں لیکن اس کی نجکاری کا فیصلہ کیاگیا ہے بلکہ بعض کا کہنا ہے کہ امبانی گروپ کے حوالے بھی کردیا گیا ہے۔حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ حکومت کے اسی فیصلے اور جاری کوششوں کے خلاف’ اندھیری وکاس پرتشٹھان‘کی جانب سے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس کی گئی اورسخت مخالفت کی گئی کہ حکومت اس اسپتال کے نجکاری کے کسی بھی قدم سے باز رہے۔اس لئے کہ ایسی کوئی بھی کوشش غریبوں سے ان کاسستا علاج کا حق چھیننے کے مترادف ہوگی ۔اس تنظیم کی جانب سے یہ انتباہ بھی دیا گیا کہ اس کے خلاف دستخطی مہم چلائی جائے گی اور رائے عامہ ہموار کرنےکی غرض سے بڑے پیمانے پر احتجاج بھی کیا جائے گا۔اس کے علاوہ یہ بھی اعلان کیاگیا کہ جلد ہی وزیراعلیٰ   اورنائب وزرائے اعلیٰ کومیمورنڈم دیا جائےگا کہ لاکھوں شہریوںکے علاج کی سہولت اوران کے مفادات کا خیال رکھتے ہوئے حکومت نجکاری کا فیصلہ ذہن سے نکال دے ۔ 
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس طرح کی بھی خبریں عام کی جارہی ہیں کہ مذکورہ اسپتال مسز کیپری گلوبل ہولڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کو جو کہ صنعتکار مکیش امبانی گروپ کا حصہ ہے ، کو دے دیا گیا ہے۔ حالانکہ جب سابق میونسپل کمشنر بھوشن گگرانی نے اس معاہدہ پردستخط کئے تھے تو مختلف سیاسی جماعتوں کے کارپوریٹروں  نے ممبئی میونسپل کارپوریشن کی ریفارم کمیٹی میں بھی احتجاج درج کرایا تھا اور اس کی شدید مخالفت کی تھی۔یہ بھی کہاگیا تھا کہ مغربی مضافات میں اتنے بڑے پیمانے پر اور جدید ترین آلات سے آراستہ کوئی دوسرا اسپتال نہیں ہے۔ ہزاروں غریب مریض اب تک اس اسپتال سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ خاص طور پرکورونا کے دور میں سیون ہلز اسپتال نے بہت سے مریضوں کا علاج کیا تھا۔ اس لئے کسی بھی حالت میں یہ اسپتال  صنعت کار یا نجی ادارے کونہیں دیا جانا چاہئے ، اسے ممبئی میونسپل کارپوریشن کوخود چلانا چاہئے۔
پریس کانفرنس میں اندھیری وکاس پرتشٹھان کے عہدیداران راجیش شرما (سابق ڈپٹی میئر)، دلیپ راؤ مانے اور دیگر عہدیداران موجود تھے۔ ان کایہ بھی کہنا ہےکہ ممبئی میونسپل کارپوریشن   ایشیا کی امیرترین کارپوریشن ہے اور اس کے پاس ۷۶؍ہزارکروڑ روپے سے زائد فکس ڈپازٹ ہے پھربی ایم سی کی زمین پرقائم اورلاکھوں غریبوں کو ۱۰؍روپے میں۱۴؍دن تک  علاج کی سہولت مہیا کرانے والے اسپتال کی نجکاری کی کیا ضرورت ہے ؟ کیا اس طرح کا کوئی بھی قدم غریبوں کے لئےمشکل پیدا کرنے والا نہیںہوگا۔
 
 
اس تعلق سے سابق کارپوریٹر اورکانگریس کے نائب صدر محسن حیدر نےاپنی اہلیہ کارپوریٹر مہر کے حوالے سے بتایا کہ ’’امبانی گروپ کو دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا مگر اب تک دیانہیں گیا ہے کیونکہ ان کی اہلیہ اور دیگرکارپوریٹروں نےسختی سے مخالفت کرتے ہوئے میونسپل کارپوریشن میں آواز بلند کی تھی اوراس فیصلے کےخلاف کمشنر کوخط بھی دیا تھا اسی لئے اب تک نجکاری نہیںکی گئی ہے اورجب تک مخالفت کرنےوالے کارپوریٹرس کی شکایت اور مخالفت پرغور نہیںکیاجاتا اورواضح جواب نہیںدیا جاتا ،نجکاری کا فیصلہ آسان نہیں ہوگا۔‘‘ 
 
 
واضح ہوکہ اندھیر (مشرق )، مرول  اورمتصل علاقوں میں رہنے والے غریبوں کے علاج کی غرض سے میونسپل کارپوریشن کے ذریعے پلاٹ ریزور کرتے ہوئے سیون ہلز اسپتال ۲۰۱۰ء میںقائم کیا گیا تھا ۔ یہ ۱۷؍ ایکڑ قطعہ اراضی پرمحیط ہے ۔ ۱۵۰۰؍بیڈ کے اس اسپتال میںکئی الگ الگ آپریشن تھیٹر ، ۱۲۰؍آئی سی یو   اوراسٹاف کوارٹرز ہیں۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK