• Thu, 10 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اینڈریو اور ٹرسٹن ٹیٹ کو امریکی عدالت سے ضمانت نہیں ملی، برطانیہ حوالگی کا خطرہ برقرار

Updated: September 10, 2026, 6:02 PM IST | Miami

میامی کی عدالت نے دونوں بھائیوں کو پرواز کا خطرہ اور عوام کے لیے ممکنہ خطرہ قرار دیتے ہوئے حراست سے رہائی کی درخواست مسترد کردی؛ برطانیہ کو ۱۶؍ ستمبر تک حوالگی کی مکمل دستاویزات جمع کرانی ہیں۔

Andrew And Tristan Tate. Picture: INN
اینڈریو اور ٹرسٹن ٹیٹ۔ تصویر: آئی این این

امریکی عدالت نے سوشل میڈیا شخصیات اینڈریو ٹیٹ اور ٹرسٹن ٹیٹ کو ضمانت پر رہا کرنے سے انکار کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ دونوں بھائی برطانیہ حوالگی کی کارروائی مکمل ہونے تک میامی کے وفاقی حراستی مرکز میں رہیں گے۔ امریکی مجسٹریٹ جج لارین لوئس نے قرار دیا کہ دونوں یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ وہ فرار ہونے کا خطرہ نہیں رکھتے یا معاشرے کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔

عدالت کے مطابق بین الاقوامی حوالگی کے مقدمات میں ضمانت کے خلاف ایک مضبوط قانونی مفروضہ موجود ہوتا ہے اور رہائی حاصل کرنے کی ذمہ داری ملزمان پر ہوتی ہے۔ جج نے ٹیٹ برادران کی بین الاقوامی نقل و حرکت، مالی وسائل اور متعدد پاسپورٹ رکھنے سے متعلق ان کے اپنے سوشل میڈیا بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان میں ’’غیر معمولی طور پر فرار ہونے کی صلاحیت‘‘ پائی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:IMDb کی فہرستوں میں ’اسرائیل‘ کی جگہ ’مقبوضہ فلسطینی علاقے‘ درج ہونے کا انکشاف

جج نے اس دلیل کو بھی قبول نہیں کیا کہ دونوں کی انٹرنیٹ پر دکھائی جانے والی دولت محض ایک فرضی شخصیت کا حصہ ہے۔ ٹیٹ برادران نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کی آن لائن شخصیت اور دولت کے دعوے بڑھا چڑھا کر پیش کیے جاتے ہیں۔ تاہم جج نے کہا کہ دستیاب ریکارڈ میں ان کی بین الاقوامی رسائی اور وسائل انہیں فرار کا ممکنہ خطرہ بناتے ہیں۔

اینڈریو ٹیٹ، ۳۹، اور ٹرسٹن ٹیٹ، ۳۸؍، کو ۱۸؍ جولائی کو میامی میں برطانوی حکام کی حوالگی کی درخواست کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ برطانیہ میں دونوں کو مبینہ عصمت دری، جنسی حملے اور جنسی استحصال کے لیے انسانی اسمگلنگ سمیت متعدد الزامات کا سامنا ہے۔ برطانوی الزامات میں مبینہ جرائم کا عرصہ ۲۰۱۰ء سے ۲۰۱۷ء تک بتایا گیا ہے۔ دونوں بھائی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

برطانوی استغاثہ نے دونوں کے خلاف تقریباً ۶۰؍ الزامات عائد کیے ہیں۔ اینڈریو ٹیٹ کے خلاف ۷؍ عصمت دری، ۳؍ جنسی اسمگلنگ، ۳؍ حملے اور غیر اخلاقی تصاویر سے متعلق ۱۹؍ الزامات شامل ہیں، جبکہ ٹرسٹن کو عصمت دری، جنسی حملے اور جنسی اسمگلنگ سے متعلق الزامات کا سامنا ہے۔ یہ الزامات ابھی عدالت میں ثابت نہیں ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:برطانوی پابندی پر اسرائیلی اپوزیشن کا نیتن یاہو حکومت پر حملہ

ٹیٹ برادران کے وکیل جوزف مک برائیڈ نے عدالتی فیصلے پر سخت اعتراض کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ۵۳؍ دن سے امریکی حراست میں ہیں، حالانکہ ابھی برطانیہ کی جانب سے حوالگی کی مکمل دستاویزات جمع نہیں کرائی گئیں۔ انہوں نے حراست کو ’’سزا‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ برطانوی حکومت کو ۱۶؍ ستمبر کی مقررہ مدت تک اپنے مقدمے کی دستاویزات پیش کرنی ہوں گی۔

برطانوی حکومت کے پاس ۱۶؍ ستمبر تک امریکی محکمہ خارجہ کو حوالگی کی مکمل درخواست اور متعلقہ مواد جمع کرانے کی مہلت ہے۔ اس کے بعد حوالگی کا قانونی عمل کئی ماہ تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ ٹیٹ برادران کے وکلا نے عدالتی فیصلے کے خلاف ممکنہ اپیل کا عندیہ بھی دیا ہے۔

دونوں بھائیوں کو رومانیہ میں بھی الگ قانونی کارروائی کا سامنا ہے۔ ۴؍ ستمبر کو رومانیہ کے استغاثہ نے اینڈریو ٹیٹ پر نابالغوں کی اسمگلنگ، نابالغ کے ساتھ جنسی تعلق، منی لانڈرنگ اور گواہوں پر اثرانداز ہونے کے الزامات عائد کیے، جبکہ ٹرسٹن پر معاونت کا الزام لگایا گیا۔ ٹیٹ برادران نے ان الزامات کو بھی مسترد کیا ہے۔

ٹیٹ برادران سابق کِک باکسر ہیں اور سوشل میڈیا پر دولت، مردانہ برتری اور خواتین سے متعلق متنازع خیالات کی وجہ سے بڑے پیمانے پر معروف ہوئے۔ اینڈریو ٹیٹ نے خود کو ماضی میں ’’خواتین سے نفرت کرنے والا‘‘ بھی قرار دیا ہے۔ دونوں کا کہنا ہے کہ ان کی آن لائن شخصیت میں کئی باتیں محض ایک کردار کے طور پر پیش کی جاتی ہیں، جبکہ برطانوی اور امریکی حکام ان کے خلاف عائد الزامات کی بنیاد پر قانونی کارروائی آگے بڑھا رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK