اپوزیشن لیڈر یائر لاپڈ نے برطانیہ کے فیصلے کو غلط اور خطرناک قرار دیا، مگر کہا کہ اس کا سبب نیتن یاہو حکومت کی ’بڑی سفارتی ناکامی‘ ہے؛ رکن پارلیمنٹ گیلاد کریو نے وزیر خارجہ گیڈون ساعر کے جوابی اقدامات کو ’بچکانہ اور عوام پسندانہ‘ قرار دیا۔
EPAPER
Updated: September 09, 2026, 5:03 PM IST | Tel Aviv
اپوزیشن لیڈر یائر لاپڈ نے برطانیہ کے فیصلے کو غلط اور خطرناک قرار دیا، مگر کہا کہ اس کا سبب نیتن یاہو حکومت کی ’بڑی سفارتی ناکامی‘ ہے؛ رکن پارلیمنٹ گیلاد کریو نے وزیر خارجہ گیڈون ساعر کے جوابی اقدامات کو ’بچکانہ اور عوام پسندانہ‘ قرار دیا۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں سے درآمدات پر برطانیہ کی پابندی کے بعد اسرائیلی اپوزیشن نے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اپوزیشن لیڈر یائر لاپڈ اور ڈیموکریٹس پارٹی کے رکن پارلیمنٹ گیلاد کریو نے حکومت پر سفارتی محاذ پر ناکامی اور سیاسی مفادات کو ملکی مفاد پر ترجیح دینے کا الزام عائد کیا۔ گیلاد کریو نے وزیر خارجہ گیڈون ساعر کی جانب سے برطانیہ کے خلاف اعلان کردہ جوابی اقدامات کو ’’بچکانہ اور عوام پسندانہ‘‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ساعر اسرائیلی خارجہ پالیسی کو مؤثر طریقے سے چلانے میں ناکام رہے ہیں اور وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ کے قوم پرستانہ اور انتہا پسند ایجنڈے کے سامنے جھک گئے ہیں۔ کریو نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ساعر آئندہ انتخابات میں لیکود کی فہرست میں جگہ بنانے کی کوشش میں حکومت کی فلسطینی پالیسی کا حصہ بن گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ہانگ کانگ کے پہلے چیف ایگزیکٹو تنگ چی ہوا ۸۹؍ برس کی عمر میں انتقال کرگئے
کریو نے کئی ماہ سے لندن میں اسرائیلی سفیر کی عدم موجودگی کو بھی حکومت کی غفلت اور غیر پیشہ ورانہ طرزِ عمل کی مثال قرار دیا۔ ان کے مطابق ایسے وقت میں جب اسرائیل کو اہم اتحادیوں کے ساتھ سفارتی تعلقات سنبھالنے کی ضرورت ہے، حکومت کی پالیسی ملک کو مزید تنہائی کی طرف لے جارہی ہے۔ یائر لاپڈ نے برطانیہ کے بائیکاٹ اور پابندیوں کے فیصلے کو ’’سنگین غلطی‘‘ قرار دیتے ہوئے اس کی ذمہ داری بھی نیتن یاہو حکومت پر ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا کام ایسے فیصلے ہونے سے پہلے انہیں روکنا ہے، نہ کہ فیصلہ سامنے آنے کے بعد عالمی برادری کو دھمکیاں دینا۔ لاپڈ کے مطابق نیتن یاہو حکومت اسرائیل کو ’’بے مثال سفارتی تنہائی‘‘ کی طرف لے جارہی ہے۔
لاپڈ نے یہ بھی کہا کہ برطانیہ کی پابندیوں کی پالیسی غلط اور خطرناک ہے، کیونکہ ان کے بقول اس سے اسرائیل کے اندر انتہا پسند آوازوں کو تقویت مل سکتی ہے اور ۲۷؍ اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل سیاسی کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ برطانوی فیصلہ لندن کی داخلی سیاست سے متاثر ہے اور اس سے حماس اور دیگر گروہوں کو فائدہ ہوسکتا ہے۔ یہ لاپڈ کا سیاسی مؤقف ہے، جس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔ برطانیہ کے وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے ۸؍ ستمبر کو پارلیمنٹ میں اعلان کیا تھا کہ برطانیہ مقبوضہ مغربی کنارے کی اسرائیلی بستیوں سے درآمد ہونے والی اشیا پر پابندی عائد کرے گا۔ لندن نے بستیوں کی تعمیر، بنیادی ڈھانچے، مالی معاونت اور جائیداد سے متعلق سرگرمیوں میں سہولت فراہم کرنے والی کمپنیوں اور افراد پر بھی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ فلسطینیوں کے خلاف تشدد کی حمایت یا اس پر اکسانے والے اسرائیلی آبادکاروں کے خلاف مزید اقدامات کیے گئے ہیں۔
ملی بینڈ نے کہا کہ برطانوی اقدامات کا ہدف اسرائیل کے اندر معمول کی تجارت نہیں بلکہ مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں اور ان کی توسیع سے وابستہ سرگرمیاں ہیں۔ برطانیہ نے ایسے ہتھیاروں یا دیگر اشیا کے نئے برآمدی لائسنس مسترد کرنے کا بھی اعلان کیا ہے جو قبضے میں براہِ راست معاونت کرسکتے ہیں، جبکہ پہلے سے معطل ۳۰؍ ہتھیاروں کے برآمدی لائسنس برقرار رہیں گے۔ اسرائیل نے برطانیہ کے فیصلے کے جواب میں مشرقی یروشلم میں برطانوی قونصل خانے کو بند کرنے، غزہ سے متعلق ایک بین الاقوامی رابطہ مرکز سے برطانوی نمائندوں کو نکالنے اور مغربی کنارے میں فلسطینی اتھاریٹی کی فورسز کی برطانوی تربیت ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیل نے ۱۲؍ برطانوی منتخب نمائندوں اور شہریوں کے داخلے پر بھی پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دریں اثنا اسرائیلی حقوق کی تنظیموں نے برطانوی اقدام کا خیرمقدم کیا ہے اور مزید عالمی پابندیوں کا مطالبہ کیا ہے۔ سابق اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرٹ نے بھی برطانیہ کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد کے باعث ایسے اقدامات ناگزیر ہوگئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل واپس آنے والے شہریوں کی تعداد میں ۵۸؍ فیصد کی کمی: کنیسیٹ کمیٹی
فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق نیتن یاہو حکومت کے ۲۰۲۲ء کے اواخر میں اقتدار میں آنے کے بعد مغربی کنارے میں ۱۰۴؍ نئی بستیوں کی منظوری دی گئی، جبکہ ۱۶۰؍ زرعی چوکیوں کے قیام کی اطلاع ہے۔ ۲۰۲۶ء کی پہلی ششماہی میں فلسطینی ادارے نے آبادکاروں کے ۳؍ ہزار ۴۸۸؍ حملے ریکارڈ کیے، جن میں ۱۷؍ فلسطینی ہلاک اور ۲۶؍ بدو و چرواہا برادریاں مکمل یا جزوی طور پر بے گھر ہوئیں۔