• Fri, 23 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اتراکھنڈ میں مسلمانوں کے خلاف ٹارگیٹڈ تشدد، پولیس کی جانب سے امتیازی سلوک: اے پی سی آر کی رپورٹ

Updated: January 22, 2026, 10:10 PM IST | New Delhi

رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ پولیس نے امن و امان برقرار رکھنے کے نام پر اکثر مسلم رہائشیوں کے خلاف احتیاطی دفعات کے تحت مقدمات درج کئے، جبکہ عوامی اجتماعات میں اشتعال انگیز تقاریر کرنے والے ملزمین کے خلاف، ویڈیو شواہد موجود ہونے کے باوجود، بہت کم یا کوئی فوری کارروائی نہیں کی۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

’ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس‘ (اے پی سی آر) کی ایک فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں اتراکھنڈ میں مسلم سماج کے خلاف ٹارگیٹڈ تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان کے ساتھ پولیس کی نااہلی، قانون کے منتخب نفاذ اور انتظامی زیادتیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ خاص طور پر ۲۰۲۳ء کے اواخر سے ہونے والے واقعات کے تناظر میں تیار کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اترکاشی، سری نگر، گوچر، کاشی پور، ہری دوار، نینی تال، دہرادون، ادھم سنگھ نگر، ہلدوانی اور بن گجروں کے آباد علاقوں سمیت متعدد اضلاع میں مسلمانوں کے خلاف پرتشدد واقعات ریکارڈ کئے گئے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بے امنی کے واقعات کے دوران مسلمانوں کے گھروں، دکانوں اور مذہبی مقامات کو غیر متناسب طور پر نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ میں ان واقعات کے ثبوت بھی پیش کئے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اتراکھنڈ: رشی کیش میں قرآن کی تعلیم پر ہندو گروپس نے اعتراض کیا؛ مولانا نے ہراسانی کا الزام عائد کیا

دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ درج اس تشدد میں مبینہ طور پر آتش زنی، پتھراؤ، توڑ پھوڑ، بے دخلی کی دھمکیاں اور زبردستی نقل مکانی کے واقعات شامل ہیں۔ یہ پرتشدد واقعات اکثر ہندوتوا گروپس کی ریلیوں یا مسلم مذہبی شناخت سے جڑی افواہوں کے بعد پیش آئے۔ اے پی سی آر کی رپورٹ میں نوٹ کیا گیا ہے کہ کئی معاملات میں پولیس جائے واردات پر موجود ہونے کے باوجود حملوں کو روکنے میں ناکام رہی اور اس کی موجودگی نے حملوں کو ٹالنے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ مسلم برادری کے خلاف تشدد کے واقعات میں ایف آئی آر کے اندراج میں یا تو تاخیر کی گئی یا مبینہ طور پر جان بوجھ کر چند مخصوص افراد کو ہی نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹ میں مزید الزام لگایا گیا ہے کہ پولیس نے امن و امان برقرار رکھنے کے نام پر اکثر مسلم رہائشیوں کے خلاف احتیاطی دفعات کے تحت مقدمات درج کئے، جبکہ عوامی اجتماعات میں اشتعال انگیز تقریریں کرنے والے ملزمین کے خلاف، ویڈیو شواہد موجود ہونے کے باوجود، بہت کم یا کوئی فوری کارروائی نہیں کی۔ اعداد و شمار کے رجحانات کا حوالہ دیتے ہوئے اے پی سی آر نے کہا کہ فرقہ وارانہ تناؤ کے بعد احتیاطی حراستوں اور امتناعی احکامات کا نفاذ غیر متناسب طور پر مسلم رہائشیوں کے خلاف کیا گیا۔ اس کے برعکس، دائیں بازو کے ہندو گروپس سے منسلک ریلیوں کے منتظمین کو شاذ و نادر ہی ایسی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا، اسے رپورٹ میں امتیازی پولیسنگ کے طور پر نشان زد کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مالدا: مسلم شخص ایس آئی آر سماعت کیلئے اپنے دادا کی قبر کی مٹی لے کر پہنچا

رپورٹ میں مسلمانوں کی جائیدادوں کو مسمار کرنے کی دھمکیوں کے نوٹس، جائیدادوں کو سیل کرنا یا مسلم رہائشیوں کی بے دخلی کے واقعات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے جو مبینہ طور پر بعض اوقات پیشگی نوٹس یا سماعت کے بغیر کئے گئے۔ رپورٹ میں ان اقدامات کو اے پی سی آر نے ”اجتماعی سزا“ کا نام دیا ہے۔ تنظیم نے دلیل دی کہ اس طرح کے اقدامات آئینی تحفظات کو نظر انداز کرتے ہیں اور اقلیتوں کی پسماندگی کو مزید گہرا کرتے ہیں۔

جسمانی تشدد کے واقعات کے علاوہ، رپورٹ میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ بہت سے مسلم خاندان خوف کی وجہ سے عارضی طور پر اپنے گھر بار چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ اس کی وجہ سے خواتین، بچے اور دیہاڑی پر کام کرنے والے مزدور سب سے زیادہ پریشان ہوئے جنہیں تعلیم میں خلل اور روزگار کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھئے: اترپردیش: لکھنؤ میں کشمیری میوہ فروش کے ساتھ زیادتی، پاکستانی کہہ کر ہراساں کیا

اے پی سی آر نے آزادانہ عدالتی انکوائری، نفرت انگیز تقاریر کرنے والوں کے محاسبے اور مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے آئینی تحفظات پر سختی سے عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK