Inquilab Logo Happiest Places to Work

اپولو ۱۱ پر سوار امریکی خلاء بازوں کی جان بچانے والا پلاسٹک کا قلم ۸۶۷۶۰۰ ڈالر میں فروخت ہوا

Updated: July 16, 2026, 10:06 PM IST | Washington

ایک سادہ سا پلاسٹک کا قلم، نیلامی میں ۸ لاکھ ۵۷ ہزار ۶۰۰ ڈالر (تقریباً ۸ کروڑ ۳۵ لاکھ روپے) میں فروخت ہوا ہے۔ یہ قلم خلائی تاریخ کی سب سے غیر معمولی اشیاء میں سے ایک ہے۔ اس قلم نے دو خلاء بازوں کو چاند سے بحفاظت گھر واپس لانے میں غیر معمولی کردار ادا کیا تھا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ایک سادہ سا پلاسٹک کا قلم جس نے ۱۹۶۹ء میں چاند پر جانے والے امریکی خلاء بازوں نیل آرمسٹرانگ اور بز آلڈرن کی جان بچانے میں مدد کی تھی، نیلامی میں ۸ لاکھ ۵۷ ہزار ۶۰۰ ڈالر (تقریباً ۸ کروڑ ۳۵ لاکھ ۶۶ ہزار روپے) میں فروخت ہوا ہے۔ نیلامی گھر ’سودبیز‘ (Sotheby`s) نے اس قلم ۸ لاکھ سے ۱۲ لاکھ ڈالر کے درمیان فروخت ہونے کا تخمینہ لگایا تھا۔ پانچ بولی دہندگان کے درمیان مسابقت کے بعد، یہ قلم بالآخر ۸ لاکھ ۵۷ ہزار ۶۰۰ ڈالر میں فروخت ہوا۔ یہ قلم خلائی تاریخ کی سب سے غیر معمولی اشیاء میں سے ایک ہے۔ یہ ایک چھوٹی اور عام سی شئے ہے جس نے دو خلاء بازوں کو چاند سے بحفاظت گھر واپس لانے میں غیر معمولی کردار ادا کیا۔

یہ بھی پڑھئے: اسلامیات کے ممتاز امریکی اسکالر پروفیسر جان ایل ایسپوزیٹو کا انتقال

چاند پر پہلی مرتبہ انسان کو لے جانے والے تاریخی اپولو ۱۱ مشن کے دوران، جولائی ۱۹۶۹ء میں جب آرمسٹرانگ اور آلڈرن نے چاند پر پہنچے تو دونوں خلاء باز آرام کرنے ہی والے تھے کہ انہوں نے کیبن کے فرش پر ایک چھوٹا سا ٹوٹا ہوا سیاہ سوئچ دیکھا۔ یہ سوئچ اس سرکٹ بریکر کا ایک اہم حصہ تھا جو چڑھائی والے انجن (ascent engine) کو بجلی بھیجتا تھا، یہ وہی انجن تھا جس کی مدد سے انہیں چاند سے پرواز کرکے زمین پر لوٹنا تھا۔

۲۰۰۹ء میں شائع ہوئی اپنی خود نوشت ”میگنیفیشنٹ ڈیسولیشن“ (Magnificent Desolation) میں، آلڈرن نے اس خوفناک لمحے کا ذکر کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ان کا دل دہل گیا جب انہیں یہ احساس ہوا کہ وہ ٹوٹا ہوا سوئچ انجن کو اسٹارٹ کرنے والے سرکٹ بریکر کا تھا، جو چڑھائی کے انجن کو چلانے کیلئے واحد ناگزیر پرزہ تھا۔ کوئی دوسرا راستہ نہ دکھائی دیا تو آلڈرن نے ایک حل نکالا۔ انہوں نے اپنے ذاتی سامان سے ایک فیلٹ ٹپ قلم (پوائنٹر یا مارکر نما قلم) نکالا اور بجلی کے بہاؤ کا رخ بدلنے کیلئے اسے سرکٹ کے اندر ڈال دیا۔ یہ ترکیب کام کر گئی۔ سرکٹ بریکر بحال ہوگیا اور دونوں خلاء باز چاند سے روانہ ہو کر بحفاظت زمین پر واپس آنے میں کامیاب ہوئے۔

یہ بھی پڑھئے: میٹا کے برطرف ملازمین نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا

یہ قلم، اس کی اصلیت کی تصدیق کرنے والے ایک خط کے ساتھ فروخت کیا گیا جس میں آلڈرن نے مذاق میں بتایا تھا کہ سوئچ توڑنے کا ذمہ دار کون تھا۔ انہوں نے لکھا کہ ”میرا خیال ہے کہ نیل نے سوئچ توڑا تھا اور نیل کا خیال ہے کہ میں نے وہ سوئچ توڑا تھا۔“ انہوں نے مزید کہا کہ سب سے اہم بات اس مسئلے کو حل کرنا تھا تاکہ وہ بحفاظت زمین پر پہنچ سکیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK