تیل کمپنیوں کا یومیہ۵۳۰؍ کروڑ کا خسارہ موضوع بحث، پیٹرول پر ۸؍ روپے اور ڈیزل پر ۹؍ روپے فی لیٹرنقصان اٹھا رہی ہیں۔
EPAPER
Updated: September 24, 2026, 1:00 PM IST | Agency | New Delhi
تیل کمپنیوں کا یومیہ۵۳۰؍ کروڑ کا خسارہ موضوع بحث، پیٹرول پر ۸؍ روپے اور ڈیزل پر ۹؍ روپے فی لیٹرنقصان اٹھا رہی ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی بنا پر خام تیل کی آسمان چھوتی قیمتوں کے بیچ ملک میں تیل کمپنیوں کو ہونےوالا یومیہ خسارہ اب موضوع بحث بن رہا ہے جس کو دیکھتے ہوئے بازار پر نظر رکھنے والے ماہرین نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ جلد ہی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کا اعلان کیا جاسکتاہے۔ ریٹنگ ایجنسی ’آئی سی آر اے‘ (انوسٹ منٹ انفارمیشن اینڈ کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی) جو عرف عام میں ’آئیکرا‘ کے نام سے جانی جاتی ہے ، نے کہا ہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود گھریلو بازار میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں جوں کی توں رہنے کی وجہ سے سرکاری تیل مارکیٹنگ کمپنیوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اب اسمارٹ فون کیلئے گھٹیا معیار کے اسکرین گارڈ نہیں فروخت ہونگے
تیل کمپنیوں کے نقصان پر ایک نظر
آئیکرا کے مطابق انڈین آئل کارپوریشن (آئی او سی)، بھارت پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ (بی پی سی ایل) اور ہندوستان پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ (ایچ پی سی ایل) کو پیٹرول پر فی لیٹر۸؍روپے اور ڈیزل پر فی لیٹر۹؍روپے کا نقصان ہو رہا ہے، جبکہ ایل پی جی یعنی رسوئی گیس کے فی سلنڈر پر تقریباً۳۰۰؍روپے کا نقصان ہورہاہے۔
خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
آئیکرا نے نشاندہی کی ہے کہ ’’موجودہ سطح پر تیل مارکیٹنگ کمپنیوں کو روزانہ ہونے والے نقصان کا تخمینہ ۵۳۰؍ کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔‘‘مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سپلائی میں رکاوٹوں کے درمیان گزشتہ چند ہفتوں کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے کی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والا تنازع، سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے بند ہونے اور بحیرۂ احمر میں حوثی سرگرمیوں میں اضافہ ہے۔ ہندوستان کی درآمد کردہ خام تیل کے باسکٹ کی قیمت۲۱؍ ستمبر۲۰۲۶ءکو بڑھ کر ۱۱۷ء۴؍ ڈالر فی بیرل ہو گئی، جو۲۶-۲۰۲۵ء کی تقریباً ۶۶؍ ڈالر فی بیرل کی اوسط قیمت کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ بدھ کو جب یہ خبر لکھی جارہی ہے، برینٹ خام تیل کی قیمت عالمی بازار میں ۲ء۱۰۰؍ڈالر فی بیرل ہے۔ جب بھی تیل کمپنیوں کاخسارہ موضوع بحث آتا ہے تو چند دنوں بعد گھریلو بازار میں قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ٹرمپ نے انڈیا مڈل ایسٹ یورپ اقتصادی راہداری کی حمایت کردی
تیل کمپنیوں کو قرض لینا پڑ سکتا ہے
آئیکرا نے متنبہ کیا ہے کہ تیل کمپنیوں کے منافع پر دباؤ اورآمدنی میں کمی سے ان کے ورکنگ کیپٹل (روز مرہ کے کام کاج کےخرچ) کی ضروریات پوری کرنے میں دشواری پیش آسکتی ہے۔ اس سے نمٹنے کیلئے کمپنیوں کو قلیل مدتی قرض لینے کی ضرورت بھی بڑھ سکتی ہے۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ ۲۷-۲۶ء میں کمپنیوں کو نقصان کی تلافی کیلئے حکومت کی مدد بھی درکار ہوسکتی ہے۔
رسوئی گیس سلنڈر پر نقصان
آئیکرا نے کہا ہے کہ ایل پی جی بھی تیل کمپنیوں پر مالی دباؤ کا بڑاذریعہ ہے۔ مغربی ایشیا میں سپلائی میں رکاوٹوں کے بعد بین الاقوامی ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ کے سبب۳۰؍جون تک رسوئی گیس پر ۶۱؍ ہزار ۹۴۰؍ کروڑ روپے کا خسارہ ہوا ہے۔ آئیکرا کے اندازے کے مطابق۲۷-۲۰۲۶ء پہلی سہ ماہی میں ہر گھریلو سلنڈر پر تقریباً۵۰۰؍ روپے کا نقصان ہوا، جبکہ ستمبر میں یہ نقصان تقریباً ۳۰۰؍روپے فی سلنڈر رہا۔۱۶؍ ستمبر سے ڈیزل پر خصوصی اضافی ایکسائز ڈیوٹی۲۰؍روپے فی لیٹر ہے۔