دھاراوی کے مکینوںکی بازآبادکاری کیلئے ملنڈ میں واقع ڈمپنگ گرائونڈ کی خالی کرائی گئی ۱۵؍ ایکڑ کی زمین ۵؍ برس کیلئے ’ڈی آر پی(دھاراوی ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ) کو دینے کی تجویز گزشتہ روز بی ایم سی کی امپرومنٹ کمیٹی کی میٹنگ میں پیش کی گئی تھی۔
EPAPER
Updated: July 30, 2026, 12:13 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai
دھاراوی کے مکینوںکی بازآبادکاری کیلئے ملنڈ میں واقع ڈمپنگ گرائونڈ کی خالی کرائی گئی ۱۵؍ ایکڑ کی زمین ۵؍ برس کیلئے ’ڈی آر پی(دھاراوی ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ) کو دینے کی تجویز گزشتہ روز بی ایم سی کی امپرومنٹ کمیٹی کی میٹنگ میں پیش کی گئی تھی۔
دھاراوی کے مکینوں کی بازآبادکاری کیلئے ملنڈ میں واقع ڈمپنگ گرائونڈ کی خالی کرائی گئی ۱۵؍ ایکڑ کی زمین ۵؍ برس کیلئے ’ڈی آر پی(دھاراوی ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ) کو دینے کی تجویز گزشتہ روز بی ایم سی کی امپرومنٹ کمیٹی کی میٹنگ میں پیش کی گئی تھی جسے اپوزیشن کی سخت مخالفت کی وجہ سے منظوری نہیں مل سکی اور اس تجویز کو التواء میں ڈال دیا گیا ہے۔
اس ۱۵؍ ایکڑ قطعہ اراضی پر تعمیراتی کام کو انجام دینے کے لئے کاسٹنگ یارڈ، آر ایم سی (ریڈی مکس کنکریٹ) پلانٹ نصب کرنا، تعمیرات میں نصب کرنے کیلئے مختلف حصہ یہاں تعمیر کرنا تاکہ دھاراوی میں لے جاکر انہیں صرف جوڑ دیا جائے جیسے کام میں استعمال میں لانے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ زمین کے اس حصہ کو لیز پر دینے سے بی ایم سی کو کرایے کے طور پر ۱۰۳ء۴۷؍ کروڑ روپے کی آمدنی ہونے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ۲۳؍ دنوں کی مسلسل مشقت کے بعد گھاٹ سیکشن پر ریل سروس بحال
زمین کے جس ٹکڑے کو کرایے پر دیا جانا ہے، اس پر اب بھی ڈھائی سے ۳؍ لاکھ میٹرک ٹن کچرا موجود ہے جسے سائنسی طریقے صاف کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ گندگی کئی برسوں سے یہاں جمی ہوئی ہے۔ یہ تقریباً ۶۰؍ ہزار ۷۰۳؍ مربع میٹر کی جگہ ہے جسے فی مربع میٹر ۲۵۲؍ روپے کے حساب سے کرایے پر دیئے جانے کا منصوبہ ہے اور اس کرایے میں سالانہ ۶؍ فیصد کا اضافہ کیا جائے گا اور جی ایس ٹی بھی عائد ہوگا۔ اس جگہ کی صفائی کا کچھ کام اڈانی کی نوبھارت ڈیولپر بھی کرے گی جس پر تقریباً ۲۰ء۰۴؍ کروڑ روپے خرچ آئے گا۔ البتہ یہ رقم کرایے میں سے کاٹ لی جائے گی۔
اس زمین کو ۵؍ برس کے لئے ’اڈانی نوبھارت میگا ڈیولپرس پرائیویٹ لمیٹڈ‘ کو لیز پر دینے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اڈانی کمپنی دھاراوی ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کو انجام دے رہی ہے جسے دھاراوی واسیوں کی سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کی وجہ سے یہ کام سست روی سے جاری ہے۔