۱۱؍ ہزار ملازمین نے رات دن کام کیا تب جا کر کیچڑ ہٹانے اور پٹریوں کو درست کرنے کا کام پورا ہو سکا۔
EPAPER
Updated: July 30, 2026, 9:50 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
۱۱؍ ہزار ملازمین نے رات دن کام کیا تب جا کر کیچڑ ہٹانے اور پٹریوں کو درست کرنے کا کام پورا ہو سکا۔
بارش کے سبب بند ہو جانے والے کرجت لوناوالا گھاٹ سیکشن پر کام پورا ہو چکا ہے اور ممبئی پونے ریل روٹ بحال ۔ کر دی گئی ہے۔ ۱۱؍ہزار ریل ملازمین نے ۶؍جولائی سے ۲۹؍جولائی تک ایک لاکھ ۴۰؍ ہزار ۹۴۰؍ گھنٹے مسلسل کام کیا ۔تینوں لائنوں پر ٹرینوں کی آمد ورفت معمول کے مطابق شروع کرنے کا سینٹرل ریلوےنے دعویٰ کیاہے۔ اب ٹرینوں کی منسوخی ،روٹ مختصر کرنے یا روٹ بدلنے کا مسئلہ ختم ہو گیا۔ خاص طور پر کھنڈالا اور منکی ہل کے درمیان اپ لائن کو مزید محفوظ بنایا گیا اور ۶؍بجکر ۴۲؍ منٹ پرٹرینوں کی آمد ورفت شروع کردی گئی۔
یہ بھی پڑھئے: مالیگائوں: ۴؍ روز قبل موسم ندی میں غرقاب ۷؍ سالہ احتشام کی لاش بر آمد
یادرہے کہ تیزبارش کے دوران تودے اور چٹان کھسکنے کے سبب ریل پٹریوں کوکافی نقصان پہنچاتھا اورٹرینوں کی آمدورفت بند کردی گئی تھی جو۲۳؍ دن تک بند رہی۔ اس دوران مسلسل بارش کی وجہ سے تازہ لینڈ سلائیڈنگ اوراس سے ہونے والے نقصان کو کم کرنے کیلئے انجینئروں نے بارش کا پانی اور مٹی کے اضافی کٹاؤ کو روکنے کیلئے ڈھلان والے حصے پر ترپال کی وسیع چادریں لگائی ہیں۔ اسی طرح چند ایسے مقامات تھے جہاں نقصان زیادہ ہوا اوروہ تکنیکی طور پر سب سے زیادہ چیلنجنگ تھے۔ان میں کھنڈالہ منکی ہل ، منکی ہل ٹھاکر واڑی اور سرنگ نمبر ۵۱؍ (مڈ اور اپ لائن) وغیرہ شامل ہیں۔اس کےلئے پوکلین ، لمبی بوم والے پوکلین،ڈھیر لگانے کے لئے رگ مشین، جدید ٹیکنالوجی اورافرادی قوت کااستعمال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’حکومت اب بھی نہ جاگی تو طلبہ حکومت بدلنے کی طاقت بھی رکھتے ہیں‘‘
سینٹر ل ریلوے انتظامیہ کی جانب سےیہ بھی کہا گیا ہےکہ عارضی بحالی اب مکمل ہو چکی ہے، طویل مدتی منصوبہ بندی کے حساب سے مستقل اقدامات پہلے ہی جاری ہیں۔ ان میں ۱۲۰۰؍ ملی میٹر قطر کے بور کاسٹ ان سیٹو پائلز اور ڈھلان والے مقامات کی خصوصی نگرانی اور آر سی سی برقرار رکھنے والی دیواروں کی تعمیر شامل ہے۔
سینٹرل ریلوے انتظامیہ کی جانب سے اس کا اعتراف کیا گیا ہے کہ ان ۲۳؍ دنوں تک مسافروں کوکافی پریشانی ہوئی ۔اس کے باوجود انہوں نے تعاون کیا، اس کےلئے ریلوے انتظامیہ ان کا مشکور ہے۔ساتھ ہی ان کو یہ یقین دلاتا ہے کہ محفوظ، قابل اعتماد اور آرام دہ سفر کی خدمات فراہم کرنے کے ریلوے کی کوششیں مسلسل جاری رہیں گی۔