Updated: April 07, 2026, 1:58 PM IST
| Guwahati
جین زی ووٹرز کا کہنا ہے کہ وہ امیدواروں کی ماضی کی کارکردگی، خاص طور پر موجودہ اراکینِ اسمبلی کے گزشتہ پانچ برسوں کے کام کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے اُمیدواروں کی شفافیت، جواب دہی اور اپنے حلقے کے عوام کے ساتھ براہِ راست رابطے کی اہمیت پر زور دیا۔
ہیمنت بسوا شرما۔ تصویر: ایکس
آسام میں اسمبلی انتخابات سے قبل، نوجوان ووٹرز کے انتخابی رویے میں نمایاں تبدیلی دیکھنے مل رہی ہے۔ جین زی سے تعلق رکھنے والے نوجوان ووٹرز ۹ اپریل کو ہونے والے اسمبلی انتخابات میں سیاسی جماعتوں کے بجائے امیدواروں کو ترجیح دینے کا اشارہ دے رہے ہیں۔
ڈبروگڑھ یونیورسٹی، گوہاٹی یونیورسٹی اور جگن ناتھ بڑوا یونیورسٹی جیسے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے طلبہ کے ساتھ گفتگو سے پتہ چلتا ہے کہ ۱۸ سے ۲۹ سال کی عمر کے ووٹرز پارٹی سے وابستگی کے بجائے انفرادی قابلیت کی بنیاد پر امیدواروں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ نوجوان ووٹرز تعلیم، دیانتداری، جواب دہی اور عوامی روابط جیسے عوامل کو ترجیح دی دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: بی جے پی اور حامی جماعتیں ریاستوں کے حقوق پامال کرتی ہیں: کھرگے
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، آسام میں ۵ء۲ کروڑ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں، جن میں تقریباً ۲۹ فیصد ووٹرز کا تعلق ۱۸ سے ۲۹ سال کے عمر کے گروپ سے ہے۔ مزید برآں، ۳۰ سے ۳۹ سال کی عمر کے ووٹرز کی تعداد تقریباً ۷ء۲۴ فیصد ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ نوجوان ووٹرز کا انتخابی رویہ، نتائج پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ وہ امیدواروں کی ماضی کی کارکردگی، خاص طور پر موجودہ اراکینِ اسمبلی کے گزشتہ پانچ برسوں میں انجام دیئے گئے کاموں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں اور وہ پارٹی کی کامیابیوں کو اتنی اہمیت نہیں دے رہے ہیں بلکہ اُمیدواروں پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ بہت سے ووٹرز نے اُمیدواروں کی شفافیت، جواب دہی اور اپنے حلقے کے عوام کے ساتھ براہِ راست رابطے کی اہمیت پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھئے: قومی حقوق انسانی کمیشن کے ۱۰؍ چیف اور ۱۷؍ سیکریٹری جنرل میں کوئی مسلمان نہیں
کئی نوجوان ووٹرز نے موجودہ وزیرِ اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما کی قیادت میں حکومت کے تحت انفراسٹرکچر اور بھرتیوں کی شفافیت میں بہتری کا اعتراف کیا، لیکن ساتھ ہی بے روزگاری، بار بار آنے والے سیلاب، نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی) کے تعطل اور آسام معاہدے کے طویل عرصے سے زیرِ التوا نفاذ پر تشویش کا اظہار کیا۔
نوجوانوں نے فلاحی اسکیموں کی پائیداری کے بارے میں بھی خدشات ظاہر کئے۔ کچھ ووٹرز بڑھتے ہوئے ریاستی قرضوں اور طویل مدتی معاشی اثرات کے بارے میں محتاط دکھائی دیئے۔ فرقہ وارانہ بیان بازی، حفظانِ صحت کی سہولیات تک رسائی اور تعلیمی معیار جیسے مسائل کو بھی انہوں نے اجاگر کیا۔
یہ بھی پڑھئے: بسوا شرما کی اہلیہ کے پاس ۳؍ ملکوں کے پاسپورٹ!
وزیراعلیٰ شرما اور آسام کانگریس کے سربراہ گورو گگوئی سمیت کئی سیاسی لیڈران نے نوجوان ووٹرز کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو تسلیم کیا ہے۔ جوبہاٹ سے گگوئی کی ۲۰۲۴ء کی لوک سبھا جیت کو کچھ لوگوں نے امیدوار پر مبنی ووٹنگ کی مثال کے طور پر پیش کیا، جہاں کارکردگی پارٹی کے تحفظات پر حاوی رہی۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ جین زی ووٹرز روایتی شناخت پر مبنی سیاست سے کم متاثر اور انتظامیہ و ترقی پر زیادہ توجہ مرکوز کرتے نظر آتے ہیں۔ تاہم، کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پارٹی تنظیم اور فلاحی اسکیموں کے مستفید افراد اب بھی فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔ نوجوان ووٹرز کے اس انتخابی رویہ نے سیاسی پارٹیوں کو اپنی حکمتِ عملیوں پر نظرِ ثانی کرنے پر مجبور کردیا ہے۔