Inquilab Logo Happiest Places to Work

قومی حقوق انسانی کمیشن کے ۱۰؍ چیف اور ۱۷؍ سیکریٹری جنرل میں کوئی مسلمان نہیں

Updated: April 06, 2026, 5:03 PM IST | New Delhi

ہندوستان میں انسانی حقوق کے اداروں، خصوصاً نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن اور ریاستی کمیشنز میں مسلم نمائندگی نہایت کم ہونے کے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ایک نئی تحقیق کے مطابق اعلیٰ عہدوں پر مسلمانوں کی موجودگی انتہائی محدود ہے، جس پر ماہرین نے تشویش ظاہر کی ہے۔ یونائیٹڈ نیشنز ہیومن رائٹس کمیٹی نے بھی حالیہ جائزے میں اقلیتی گروہوں کے خلاف امتیازی سلوک اور تشدد پر خدشات کا اظہار کیا ہے، جس سے ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال پر بحث تیز ہو گئی ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ہندوستان میں انسانی حقوق کے اداروں میں اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کی نمائندگی سے متعلق ایک اہم بحث اس وقت شدت اختیار کر گئی ہے جب تازہ اعداد و شمار اور رپورٹس نے اس شعبے میں واضح عدم توازن کی نشاندہی کی ہے۔ معلومات کے مطابق نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن (این ایچ آر سی) اور ریاستی انسانی حقوق کمیشنز میں مسلم نمائندگی نہایت محدود ہے، جس پر ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنان نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ۱۹۹۳ء میں قیام کے بعد سے این ایچ آر سی کے تقریباً ۲۰؍ اراکین میں سے صرف ایک مسلمان رہا، جبکہ ادارے کے نوڈل افسران میں کسی مسلمان کی موجودگی نہیں پائی گئی۔ اسی طرح ریاستی سطح پر صورتحال بھی مختلف نہیں، جہاں اسٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن کے ۲۱؍ چیئرپرسنز میں سے کوئی بھی مسلمان نہیں رہا، اور مجموعی طور پر ۱۸۰؍ اعلیٰ عہدیداروں میں صرف چار مسلمان شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ناگپور میں سنسنی خیز قتل کے معاملے میں انجینئرنگ کالج کے ۳؍طالب علم گرفتار

یہ اعداد و شمار اس وسیع تر بحث کا حصہ ہیں جس میں ہندوستان میں انسانی حقوق کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ یونائیٹڈ نیشنز ہیومن رائٹس کمیٹی نے جولائی ۲۰۲۴ء میں اپنی رپورٹ میں ہندوستان کے ریکارڈ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی اقلیتیں، بشمول مسلمان، عیسائی اور سکھ، کے ساتھ امتیازی سلوک اور تشدد کے واقعات تشویشناک ہیں۔ رپورٹ میں درج فہرست ذاتوں اور قبائل کے خلاف بھی زیادتیوں کی نشاندہی کی گئی۔

کمیٹی نے خاص طور پر بعض قوانین، جیسے یو اے پی اے اور قومی سلامتی کے قانون کے استعمال پر سوال اٹھایا اور کہا کہ ان قوانین کے تحت طویل مدت تک بغیر مقدمہ حراست انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیارات سے متصادم ہو سکتی ہے۔ اسی طرح آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کے اطلاق پر بھی خدشات ظاہر کئے گئے، خاص طور پر منی پور، جموں کشمیر، اور آسام جیسے علاقوں میں۔

واضح ہو کہ این ایچ آر سی کو ۱۹۹۳ء میں ایک خود مختار ادارے کے طور پر قائم کیا گیا تھا، جس کا مقصد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نگرانی اور متاثرین کو انصاف فراہم کرنا ہے۔ یہ ادارہ شکایات کی تحقیقات، جیلوں کے دورے، اور حکومت کو سفارشات دینے کا اختیار رکھتا ہے، تاہم اس کی سفارشات قانونی طور پر لازمی نہیں ہوتیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’’مسائل کی نشاندہی کر کے اس کا حل نکالیں ‘‘، تیجسوی یادو کی بہار حکومت کو نصیحت

اعداد و شمار کے مطابق دسمبر ۲۰۲۳ء سے نومبر ۲۰۲۴ء کے درمیان این ایچ آر سی نے ۶۵؍ ہزار ۹۷۳؍ مقدمات درج کئے اور ۶۶؍ ہزار ۳۷۸؍ مقدمات نمٹائے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ادارہ فعال طور پر کام کر رہا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ نمائندگی میں عدم توازن اس کی ساکھ اور اثر پذیری کو متاثر کر سکتا ہے، خاص طور پر جب بات اقلیتی گروہوں کے مسائل کی ہو۔

محمد عبد المنان کی کتاب میں بھی اس عدم نمائندگی کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں، جس میں بتایا گیا ہے کہ این ایچ آر سی کے چیئرپرسن، سیکرٹری جنرل اور دیگر اعلیٰ عہدوں پر مسلمانوں کی شمولیت نہ ہونے کے برابر رہی ہے۔ اس تحقیق نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے کہ کیا انسانی حقوق کے ادارے واقعی تمام طبقات کی نمائندگی کر رہے ہیں یا نہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK