آسام الیکشن میں مسلمانوں اور اپوزیشن لیڈر کو نشانہ بنانے والے اے آئی ویڈیوز سے غلط معلومات پھیلانے کی اطلاعات ہیں، اس میں ریاستی حمایت یافتہ بیانئے بھی شامل ہیں۔
EPAPER
Updated: April 08, 2026, 8:58 PM IST | Guwahati
آسام الیکشن میں مسلمانوں اور اپوزیشن لیڈر کو نشانہ بنانے والے اے آئی ویڈیوز سے غلط معلومات پھیلانے کی اطلاعات ہیں، اس میں ریاستی حمایت یافتہ بیانئے بھی شامل ہیں۔
الیکشن مانیٹرنگ رپورٹ نے۲۰۲۶ء کے آسام اسمبلی انتخابات سے قبل ’’میاں‘‘( مسلم برادری) اور اپوزیشن لیڈر کو نشانہ بناتے ہوئےغیر معمولی ہم آہنگی قرار دیا ہے ۔ جس میںاے آئی سے چلنے والی غلط معلومات انتخابی اخراج اور ریاستی حمایت یافتہ بیانیے شامل ہیں۔’’ڈائیسپورا اِن ایکشن فار ہیومن رائٹس اینڈ ڈیموکریسی‘‘ کی منگل کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، فیس بک اور نسٹاگرام پر اے آئی ۴۳۲؍ سے تیار کردہ پوسٹس نے۴؍ کروڑ ۵۴؍ لاکھ ویوز حاصل کیے ، یہ ایک چھ سطحی مواد سازی کے ذریعے تیار کیا گیا، جس کے مشترکہ نیٹ ورک کی رسائی۴۰؍ کروڑ ۷۴؍ لاکھ فالورز تک تھی۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی میں پون کھیڑا کی رہائش گاہ پر آسام پولیس کا چھاپہ،’’ دستاویز‘‘ ضبط کرنے کا دعویٰ
رپورٹ کے مطابق، اکتیس تصدیق شدہ ڈیپ فیکس (deepfakes) نے کانگریس کے سی ایم امیدوار گوکُل گوگوئی کو نشانہ بنایا، جن میں انہیں جھوٹے طور پر پاکستانی ایجنٹ اور مسلم ہمدرد کے طور پر دکھایا گیا۔ یہ موادبی جے پی کے سرکاری اکاؤنٹس اور ایک تصدیق شدہ کابینی وزیرپِجوش ہزاریکاکے ہینڈل سے تقسیم کیا گیا۔چھ اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز نے گوگوئی کی اہلیہ الزبتھ کولبرن کو نشانہ بنایا، جو ایک عام شہری ہیں اور کوئی سرکاری عہدہ نہیں رکھتیں۔ ان ویڈیوز میں ذاتی اور فرقہ وارانہ مناظر دکھائے گئے۔ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا کہ حکمران جماعت کے ہینڈل سے ایک اے آئی سے تیار کردہ ویڈیو پوسٹ کی گئی جس میں وزیر اعلیٰ مسلمانوں کو گولی مارتے دکھائی دے رہے تھے۔ بعد میں یہ ویڈیو ہٹا دی گئی، لیکن مبینہ طور پر وزیرِ اعلیٰ نے قانونی جانچ سے بچنے کے لیے ایسے مواد میں زبان بدلنے کا اعتراف کیا۔بعد ازاں رپورٹ نے یہ بھی کہا کہ آسام کی مسلم برادریوں کے خلاف بیک وقت چار اخراجی کارروائیاں چلائی گئیں، غیر انسانی قرار دینا ،انتخابی اخراج فہرست سے اخراج، اور ثقافت مٹانے کی کوشش۔بعد ازاں انتخابی اخراج کی ایک مثال یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما نے عوامی طور پر اعلان کیا کہ خصوصی نظرثانی کے عمل کے ذریعے۴؍ سے۵؍ لاکھ میا ں ووٹ حذف کر دیے جائیں گے، جس کے نتیجے میں۲؍ لاکھ ۴۳؍ ہزار نام آسام کی رائے دہندگان کی فہرست سے ہٹا دیے گئے۔ اسی دوران حدود بندی نے مسلم اکثریتی حلقوں کی تعداد تقریباً ۳۵؍ سے کم کر کے۲۰؍ کر دی۔ ساتھ ہی مطالعے میں بتایا گیا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ضابطہ اخلاق کی۱۱۹؍ خلاف ورزیوں پر کوئی کارروائی نہیں کی، جن میں سے۸۴؍ کو نمائندگانِ عوام ایکٹ۱۹۵۱ء کی دفعہ۱۲۳؍ کے تحت انتہائی ٰ شدید کا درجہ دیا گیا۔ ان میں موجودہ وزیرِ اعلیٰ کی ۱۵؍ خلاف ورزیاں بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کیلئے کانگریس کے۴۰؍ اسٹار پرچارکوں کی فہرست جاری
رپورٹ کے مطابق ،سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے صفر مواد ہٹایا؛ میٹا کی اعلان کردہ اے آئی لیبلنگ پالیسی نے ضابطہ اخلاق کے نفاذ کی مدت کے دوران اے آئی سے نشان زد۱۷۲؍ پوسٹس پر صفر لیبل لگائے۔‘‘رپورٹ میں مزید کہا گیاکہ ’’آسام ماڈل کو جو چیز منفرد طور پر خطرناک بناتی ہے وہ یہ کہ یہ آسام تک ہی محدود نہیں رہے گا۔ یہاں دستاویزی شکل میں دی گئی تکنیک، رائے دہندگان کی فہرست سے اخراج ،آبادیاتی انجینئرنگ کے طور پر حدود بندی، صنعتی پیمانے پراے آئی سے تیار کردہ فرقہ وارانہ مواد کو قومی سطح پر اپنایا جا رہا ہے۔‘‘