Inquilab Logo

لوک سبھا الیکشن: چوتھے مرحلے کے ۲۱؍ فیصد امیدواروں کیخلاف مجرمانہ مقدمات درج ہیں

Updated: May 10, 2024, 8:14 PM IST | New Delhi

غیر سرکاری تنظیم اسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز کی رپورٹ کے مطابق لوک سبھا انتخابات کے چوتھے مرحلے کے ۲۱؍ امیدواروں کے خلاف مجرمانہ مقدمات درج ہیں۔ تاہم، اس مرحلے میں سیاسی پارٹیوں نے امیدواروں کے جیتنے کی قابلیت کو ترجیح دی ہے۔ ان کے انتخاب میں ان کے مجرمانہ ماضی، ان پر چلنے والے مقدمات اور انہیں عدالت سے ملی سزا کو نظر انداز کردیا گیا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

متعلقہ خبریں

یہ بھی پڑھئے: ۴۴؍ فیصد لوک سبھا ممبران کے خلاف مجرمانہ مقدمات درج ہیں: اے ڈی آر کی رپورٹ

یہ بھی پڑھئے: لوک سبھا الیکشن: دوسرے مرحلے کے ۲۱؍ فیصد امیدواروں کیخلاف مجرمانہ مقدمات درج ہیں

یہ بھی پڑھئے: لوک سبھا الیکشن: تیسرے مرحلے کے ۱۳۵۲؍ میں سے ۲۴۴؍ امیدوار پر مجرمانہ مقدمات

غیر سرکاری تنظیم اسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز نے ایک رپورٹ میں کہا کہ لوک سبھا انتخابات کے چوتھے مرحلے میں لڑنے والے ۱۷۱۰؍امیدواروں میں سے کل۳۶۰؍، یا۲۱؍ فیصد، کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے گئے ہیں۔۴؍مئی کو شائع ہونے والی اس رپورٹ میں دس ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ۱۳؍مئی کو ہونے والے انتخابات میں حصہ لینے والے ۱۷۱۷؍ امیدواروں میں سے ۱۷۱۰؍کے حلف ناموں کا تجزیہ کیا گیا ہے۔اس سے ظاہر ہوا کہ ۲۷۴؍ امیدوار سنگین فوجداری مقدمات میں ملزم ہیں جن کی سزا پانچ سال یا اس سے زیادہ ہے۔ سترہ امیدواروں کو ان کے جرائم کی سزا سنائی گئی ہے۔ خواتین کے خلاف جرائم سے متعلق مقدمات میں ۵۰؍امیدواروں کو ملزم بنایا گیا ہے اور ان میں سے ۵؍پر عصمت دری سے متعلق مقدمات میں فرد جرم عائد کی گئی ہے۔
فوجداری مقدمات والے ۳۶۰؍امیدواروں میں سے ۱۱؍نے قتل سے متعلق مقدمات کا اعتراف کیا ہے جبکہ ۳۰؍نے اقدام قتل کے مقدمات کا اعتراف کیا ہے۔ ۴۴؍امیدواروں نے نفرت انگیز تقاریر سے متعلق مقدمات کا اعتراف کیا ہے۔بڑی پارٹیوں میں، بھارتیہ جنتا پارٹی کے ۷۰؍امیدواروں میں سے ۴۰؍اور کانگریس کے ۶۱؍امیدواروں میں سے ۳۵؍نے اپنے خلاف مجرمانہ مقدمات کا اعتراف کیا ہے۔ چوتھے مرحلے میں مقابلہ کرنے والے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے تینوں امیدواروں اور ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیوسینا کے تین میں سے دو امیدواروں کے خلاف سنگین مجرمانہ مقدمات درج ہیں۔ بھارت راشٹرا سمیتی کی طرف سے میدان میں اتارے گئے ۱۷؍امیدواروں میں سے دس سنگین مجرمانہ مقدمات میں ملزم ہیں۔یہ تعداد تیلگو دیشم پارٹی کے ۱۷؍میں سے نو اور بیجو جنتا دل، راشٹریہ جنتا دل اور شیو سینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے چار میں سے دو ہیں۔یوجنا سریکا ریتھو کانگریس پارٹی کے ۲۵؍امیدواروں میں سے ۱۲؍کے خلاف فوجداری مقدمات ہیں، ترنمول کانگریس کے آٹھ امیدواروں میں سے تین اور سماج وادی پارٹی کے ۱۹؍امیدواروں میں سے سات کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: شراب پالیسی معاملہ: سپریم کورٹ سے اروند کیجریوال کو عبوری ضمانت، ۲؍ جون کو خود سپردگی کرنی ہوگی

اسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز نے یہ بھی کہا کہ چوتھے مرحلے میں پولنگ ہونے والے ۹۶؍حلقوں میں سے ۵۸؍یا ۶۰؍فیصد ریڈ الرٹ حلقے ہیں۔اگر کسی حلقے میں مقابلہ کرنے والے تین یا زیادہ امیدواروں نے اپنے خلاف فوجداری مقدمات کا اعتراف کیا ہے تو اسے’’ریڈ الر ٹ حلقے‘‘ کے طور پر درجہ بندی کیا جاتا ہے۔

اثاثوں کا تجزیہ
الیکشن واچ ڈاگ کی رپورٹ میں یہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ ۱۷۱۰؍امیدواروں میں سے ۴۷۶؍یا ۲۳؍فیصد نے ایک کروڑ روپے سے زیادہ کے اثاثوں کا اعلان کیا ہے۔مجموعی طور پر، ۲۰۵؍ امیدواروں نے ۵؍کروڑ روپے سے زیادہ کے اثاثوں کا اعلان کیا ہے، جب کہ ۱۳۳؍نے ۲؍سے ۵؍کروڑ روپے کے درمیان اثاثے ظاہر کیے ہیں۔ بی جے پی کے ۷۰؍امیدواروں میں سے کل ۶۵؍یا ۹۳؍فیصد اور کانگریس کے ۵۶؍یا ۹۲؍فیصد امیدواروں نے ایک کروڑ روپے سے زیادہ کے اثاثوں کا اعلان کیا ہے۔سب سے زیادہ اعلان کردہ اثاثوں کے ساتھ سرفہرست تین امیدواروں میں تیلگو دیشم پارٹی کے چندر شیکھر پیمسانی اور پربھاکر ریڈی ویمیریڈی اور بی جے پی لیڈر کونڈا وشویشور ریڈی ہیں۔آندھرا پردیش کے گنٹور سے انتخاب لڑنے والے پیمسانی نے ۵۷۰۵؍کروڑ روپے سے زیادہ کے اثاثوں کا اعلان کیا ہے۔ تلنگانہ کے شیویلا سے بی جے پی کے امیدوار ریڈی کے پاس ۴۵۶۸؍کروڑ روپے سے زیادہ کی جائیداد ہے۔ آندھرا پردیش کے نیلور سے انتخاب لڑنے والے ویمیریڈی کے پاس ۷۱۶؍کروڑ روپے سے زیادہ کی جائیداد ہے۔
چوتھے مرحلے میں مقابلہ کرنے والے تمام امیدواروں میں سے ۶۳۸؍یا ۳۷؍فیصد نے کہا ہے کہ ان کے پاس ۱۰؍لاکھ روپے سے کم کے اثاثے ہیں۔ چوبیس امیدواروں نے اعلان کیا ہے کہ ان کے کوئی اثاثے نہیں ہیں۔آزاد امیدوار کٹا آنند بابو، جو آندھرا پردیش کے باپٹلا سے الیکشن لڑیں گے، نے ۷؍روپے کے منقولہ اثاثوں کا اعلان کیا، جو سب سے کم ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK