اہوازشہر میں بچوں کے کینسر اسپتال کے پاس کئی امریکی میزائل رے،۲۱۱؍مریضوں کو فوراً دوسرے اسپتال منتقل کیا گیا، چابہار، کنارک اور راسک شہروں میں بھی حملے۔
EPAPER
Updated: July 17, 2026, 11:14 AM IST | Tehran
اہوازشہر میں بچوں کے کینسر اسپتال کے پاس کئی امریکی میزائل رے،۲۱۱؍مریضوں کو فوراً دوسرے اسپتال منتقل کیا گیا، چابہار، کنارک اور راسک شہروں میں بھی حملے۔
ایران کے جنوب مغربی شہر اہواز میں واقع شہید بقائی چلڈرن کینسر اسپتال کے قریب امریکی میزائل حملوں کے بعد اسپتال میں داخل۲۱۱؍ بچوں کو احتیاط کے طور پر دیگر طبی مراکز میں منتقل کر دیا گیا۔ایرانی نیوز ایجنسی فارس کے مطابق، بدھ کے روز امریکی حملوں کے دوران بچوں کے اس اسپتال کے آس پاس کئی میزائل گرے، جس سے قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔ اس کے بعد مریضوں اور طبی عملے کی حفاظت کے پیش نظر اسپتال کو عارضی طور پر خالی کرا لیا گیا۔ اسپتال میں بنیادی طور پر کینسر اور خون سے متعلق بیماریوں میں مبتلا بچوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ امریکہ کی جانب سے اسپتال کو نشانہ بنانے کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔دریں اثنا، ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جوابی کارروائی میں اردن میں واقع ایک امریکی فوجی اڈے پر ڈرون حملہ کیا ہے۔ فوجی کشیدگی کے درمیان دونوں فریقوں کے دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اقوام متحدہ نے بنگلہ دیش کی رباب فاطمہ کو افغانستان کیلئے خصوصی نمائندہ مقرر کیا
۵؍دنوں میں۳۵؍ افراد جاں بحق ، کئی سو زخمی
ایران کی وزارتِ صحت نے حالیہ امریکی حملوں کے آغاز سے اب تک کی تازہ جانی نقصان کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک۳۰۰؍ سے زائد افراد زخمی اور کم از کم۳۵؍ افراد شہید ہو چکے ہیں۔ ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں کو نشانہ بناتے ہوئے امریکی حملوں کا ایک اور (پانچواں) سلسلہ رات بھر جاری رہا، جن میں مختلف اہم اور تزویراتی مقامات کو ہدف بنایا گیا۔الجزیرہ کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب واقع سب سے بڑے جزیرے قشم اور بندر عباس میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اسی طرح ملک کی ایک اور اہم بندرگاہی شہر سیرک سے بھی دھماکوں کی خبریں ہیں، جو آبنائے ہرمز پر واقع ہےملک کے جنوب مشرقی صوبے سیستان میں بھی دھماکوں کی اطلاعات ملی ہیں، جن میں چابہار، کنارک اور راسک شہر شامل ہیں۔اہواز میں گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران کئی دھماکے رپورٹ ہوئے، جن میں سے ایک میں ایک اسپتال کو نشانہ بنایا گیا، حملے کے بعد متاثر ہونے والے اسپتال کو خالی کرا لیا گیا، جب کہ بچوں کے کینسر کے علاج کے اسپتال کو نقصان پہنچنے کی بھی اطلاعات ہیں۔
اقوام متحدہ نے امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر شدید اظہار تشویش کیا ہے، یو این سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا امریکا و ایران میں کشیدگی عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے، بڑھتی ہوئی کشیدگی کے عالمی معیشت کے لیے تباہ کن نتائج ہو سکتے ہیں، مکمل پیمانے پر جنگ چھڑی تو شہریوں کا ناقابل تلافی نقصان ہوگا، اس لیے دونوں ملکوں کو مزید کشیدگی سے گریز کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران: ٹرمپ کے تابوت میں لیٹنے کا پوسٹر آویزاں
ایران کا امریکی جارحانہ تنصیبات پر حملے جاری رکھنے کا اعلان
ایران نے اعلان کیا ہے کہ خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات اور جارحانہ انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق تہران میں فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا ہے، جبکہ دارالحکومت کے قریب پاکدشت اور پارچین میں بھی دفاعی سرگرمیوں کی اطلاعات ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق مشرقی ایران کے شہر سمنان میں حملوں کے نتیجے میں ہوائی اڈے کے بعض حصوں کو نقصان پہنچا، جبکہ خرم آباد میں بھی متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ مرکزی صوبے مارکزی کے شہر خنداب میں بھی نئے حملوں کی اطلاعات ہیں۔
جنوب مغربی ایران کے صوبے خوزستان کے شہر اندیمشک میں اسلامی انقلابی گارڈ کور نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی ’ایم کیو نائن‘ڈرون کو مار گرایا ہے۔ اس سے قبل ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں میں بھی مبینہ امریکی حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جن میں جزیرہ قشم، بندر عباس، آبنائے ہرمز کے قریب واقع شہر سیریک اور جنوب مشرقی شہر کنارک شامل ہیں۔ دوسری جانب آئی آر جی سی کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایرانی کارروائیوں کا موجودہ مرحلہ خطے میں امریکی جارحانہ انفرااسٹرکچر کو تباہ کرنے پر مرکوز ہے ۔آئی آر جی سی نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ خطے میں متعدد امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ایران کی فوج نے کہا ہے کہ اس نے آپریشن لائٹننگ کے دسویں مرحلے میں بحرین اور کویت میں موجود امریکی ریڈار اور دفاعی نظام کو نشانہ بنایا ہے۔ایران نے بحرین کے شیخ عیسیٰ ایئر بیس ،کویت کے علی السالم ایئر بیس پر امریکی افواج کے اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔