جمعہ سےاس قانون کے نفاذ پرملی اورسماجی تنظیموں اوراہم شخصیات نے کئی سوالات قائم کئے۔
EPAPER
Updated: August 26, 2026, 10:32 AM IST | Nadeem Asran/Saeed Ahmed Khan | Mumbai
جمعہ سےاس قانون کے نفاذ پرملی اورسماجی تنظیموں اوراہم شخصیات نے کئی سوالات قائم کئے۔
تبدیلیٔ مذہب سے متعلق مہاراشٹر فریڈم آف ریلیجن ایکٹ ۲۰۲۶ء کو متعارف کرایا گیا ہے اور جمعہ ۲۸؍ اگست سے اسے نافذ کرنے کا حکومتِ مہاراشٹر نے اعلان کیا ہے۔ اس کی ملی، سماجی اور خواتین کی تنظیموں کی جانب سے شدید مخالفت کی جارہی ہے۔ گزشتہ روز ۱۸؍ تنظیموں نے اس کے خلاف پریس کانفرنس کی اور اس تعلق سے حکومت کی عجلت پر یہ یاد دلایا کہ دیگر ریاستوں میں اس قانون کے نفاذ کے خلاف کئی پٹیشن سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں، عدالت کے فیصلے سے قبل اس قانون کو مہاراشٹر میں نہ تھوپا جائے۔
یہ بھی پڑھئے: میلاد کانفرنس میں نوجوانوں کی اصلاح اوراتحادِ امت پرزور
ذمہ دارشخصیات نے اس قانون کے تعلق سے یہ الزام عائد کیا کہ یہ قانون شہریوں کی مذہبی آزادی، ذاتی پسند، شادی، عقیدہ اور رازداری وغیرہ کے حقوق میں حکومت کی بےجا مداخلت کو بڑھا سکتا ہے۔ یہ قانون آئینی اقدار، جمہوری عمل اور سماجی ہم آہنگی پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے اورسب سے اہم یہ کہ حکومت نے قابل اعتماد ڈیٹا جاری نہیں کیا ہے جس سے یہ ثابت ہوکہ مہاراشٹر میں بڑے پیمانے پر واقعی جبراً یا دھوکے سے تبدیلیٔ مذہب کرایا گیا ہے، پھر اس قانون کی آخر ضرورت کیا ہے ؟
یہ بھی پڑھئے: مراٹھی بولنےمیں ناکامی پر نوٹس کیخلاف آٹو- ٹیکسی یونین ہائی کورٹ سے رجوع ہوگی
گاندھی جی کے پڑپوتے تشار گاندھی نے شہریوں سے اپیل کی کہ ’’وہ اس کے خلاف جمہوری طریقے سے اپنی آواز بلند کریں۔ ‘‘انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’یہ کسی ایک مذہب یا برادری کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہر شہری کے آئینی حقوق پر حملہ ہے اگر اس معاملے کو صرف مسلمانوں، عیسائیوں یا کسی اور کمیونٹی تک محدود سمجھ کر نظر انداز کیا گیا تو یہ مستقبل میں کسی بھی شہری کے لئے خطرناک ہو سکتا ہے۔ ‘‘
ہائی کورٹ سے رجوع ہونےکی تیاری
تبدیلی مذہب قانو ن کیخلاف اقلیتی طبقہ میں شدید ناراضگی اور غم و غصہ پایا جارہا ہے ۔ شہر کی کئی ملی ، سماجی ، فلاحی اور سیاسی تنظیمیں اس قانون کیخلاف بامبے ہائی کورٹ سے رجوع ہونے کی تیاری کررہی ہیں جن میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر اور ونچت بہو جن اگھاڑی شامل ہیں۔