Inquilab Logo Happiest Places to Work

حکومتی ادارہ ’امرت‘ کی اسکیموں سے مسلم نوجوانوں کو محروم رکھنے کی کوشش

Updated: June 18, 2026, 2:50 PM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

’’ڈرون پائلٹ ٹریننگ ‘‘اسکیم میں صرف ہندو مذہب کے امیدواروں کو اہل قرار دیا گیا ہے، رکن اسمبلی رئیس شیخ نے شکایت کی۔

File photo. Photo: INN
فائل فوٹو۔ تصویر: آئی این این

ریاستی حکومت کے دیگر پسماندہ بہوجن کلیان محکمے کے تحت آنے والا ادارہ ’مہاراشٹر ریسرچ، اپ لفٹمنٹ اینڈ ٹریننگ(امرت)‘ کی جانب سے معاشی طو رپر کمزور طبقے ( ای ڈبلیو ایس) کے نوجوانوں کو مختلف پیشہ ورانہ کورس کی تربیت دی جاتی ہے۔ اس ادارے کے تحت سبھی طبقوں کو استفادہ کرنے کی سہولت ہے اس کےباوجود امرت کے تحت ’ڈرون پائلٹ‘ ٹریننگ کیلئے جو آن لائن درخواست دینے کی اپیل کی ہے لیکن اس تربیتی کورس کیلئے صرف ہندو مذہب کے امیدواروں کو ہی اہل قرار دیاگیا ہے جبکہ مسلم مذہب کے درخواست گزاروں کے فارم پورٹل پر قبول نہیں کئے جا رہے ہیں۔ اس کی شکایت جب سماجوادی پارٹی کے بھیونڈی(مشرق )حلقہ کے رکن اسمبلی رئیس شیخ کو ملی تو انہوں نے وزیر اتل ساوے اور امرت کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر سے شکایت کی اور امرت کیلئے مسلم نوجوانوں کیلئے دروازے بند کرنے کو غیر قانونی قرار دیا۔

یہ بھی پڑھئے: مبہم قوانین سماجی تانے بانے بکھیر دیتے ہیں، باہمی رواداری کو نقصان پہنچاتے ہیں

اس سلسلے میں معلومات دیتے ہوئے رئیس شیخ نے کہا کہ ’’امرت ادارے نے اوپن کیٹیگری کے معاشی طور پر کمزور طبقے (ای ڈبلیو ایس)کے امیدواروں کیلئے’ڈرون پائلٹ‘کی ٹریننگ کیلئے ۳۰؍ جون تک درخواستیں طلب کی ہیں۔ تاہم جب کوئی خواہشمند پورٹل پر فارم پُرکرنے جاتا ہے تو وہاں سب سے پہلے مذہب اور ذات کی معلومات پوچھی جاتی ہے۔ پورٹل پر صرف ہندو مذہب کی ذاتوں کے آپشنز موجود ہیں۔ اس وجہ سے مسلم مذہب کے درخواست گزاروں کے فارم پورٹل قبول نہیں کر رہا ہے۔‘‘

نمائندۂ انقلاب نے جب امرت پورٹل:

amrutdronemission.com

پر جاکر رجسٹریشن کرنے کی کوشش کی تو انگریزی اور مراٹھی میں یہ پیغام سامنے آیا ’کیا آپ حکومت کی پالیسی کے مطابق امرت کورس کیلئے رجسٹریشن کے اہل ہیں؟’ ’ہاں‘ چننے پر۲۳؍ ذاتوں کی فہرست نیچے کھل جاتی ہےاور ان کے علاوہ دیگر بھی درج ہے۔درج کی گئی ذاتوںمیں ہندو نیپالی ، راجپوت اور جاٹ جیسی ذاتیں بھی شامل ہیں لیکن ان میں مسلمان نہیں لکھا ہے ۔ دیگر چننے پر درخواست گزار کو ’نااہل‘ میں شمار کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: کھانے کی اشیاء اخبارات میں دینے والوں پر کارروائی

قوانین کے خلاف فارم بنایا گیا 

رکن اسمبلی رئیس شیخ کے بقول ’’اس سلسلے میں میرے پاس سیکڑوں شکایات موصول ہوئی ہیں۔ ’امرت‘ ادارہ اوپن کیٹیگری کے کمزور طبقات کیلئے ہے۔یہ ادارہ حکومت کا ایک خود مختار ادارہ ہے اور ادارے کے قیام سے متعلق سرکاری فیصلے ( بتاریخ ۲۲؍ اگست ۲۰۱۹ء) میں کہیں بھی کسی خاص مذہب کا ذکر نہیں ہے۔ اوپن کیٹیگری کی مختلف ذاتوں کیلئے ٹریننگ منعقد کرناامرت کا مقصد ہے۔ اس لئے ’ڈرون پائلٹ‘ ٹریننگ کیلئے مانگے جا رہے فارم قوانین کے مطابق نہیں ہیں۔‘‘ رئیس شیخ نے مطالبہ کیاکہ مسلم کمیونٹی کے نوجوانوں کو اس اسکیم سے محروم نہ رکھاجائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK