آسٹریلیا میں اسرائیل کے صدر کو داخلے کی ممانعت کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے، قومی امام کونسل اور دیگر گروپوں نے دورے کی مخالفت میں درخواست دائر کی ہے۔
EPAPER
Updated: January 31, 2026, 10:36 AM IST | Canberra
آسٹریلیا میں اسرائیل کے صدر کو داخلے کی ممانعت کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے، قومی امام کونسل اور دیگر گروپوں نے دورے کی مخالفت میں درخواست دائر کی ہے۔
اسرائیلی صدر آئزک ہرٹزوگ کو اگلے مہینے آسٹریلیا میں داخل ہونے سے روکنے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے، جس کے تحت سول سوسائٹی گروپوں کے ایک اتحاد نے قانونی درخواست دائر کرکے حکام سے آئزک ہرٹزوگ کو ویزا دینے سے انکار اور آسٹریلوی قانون کے تحت مجرمانہ تحقیقات کرنے کی اپیل کی ہے۔ آسٹریلوی نیشنل امامز کونسل (ANIC) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، یہ درخواست آسٹریلوی نیشنل امامز کونسل، یہودی کونسل آف آسٹریلیا اور ہند رجب فاؤنڈیشن نے اٹارنی جنرل، وزیر داخلہ اور وفاقی پولیس کے نام جمع کرائی ہے۔انہوں نے حکام سے ہرٹزوگ کی آسٹریلیا آمد کو مسترد کرنے اور یہ جانچ کرنے کا مطالبہ کیا کہ کیا ان کے عوامی بیان اور رویے نسل کشی کی تحریک، جنگی جرائم میں معاونت اور غیر قانونی نفرت انگیز تقریر کے زمرے میں آتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کے خلاف اپنی سرزمین یا فضائی حدود استعمال نہیں ہونے دیں گے: آذربائیجان
دریں اثناء ایک سینئر کونسلر کی تیار کردہ اس درخواست میں ہرٹزوگ کے سرکاری عہدے کے دوران دستاویز کیے گئے عوامی بیانات کا حوالہ دیا گیا ہے۔گروپوں نے ہرٹزوگ پر الزام لگایا کہ انہوں نے اقوام متحدہ کی ایجنسیوں اور قحط کا جائزہ لینے والے اداروں کی طرف سے غزہ میں بڑے پیمانے پر بھوک اور شہریوں کی تکالیف کی تصدیق کے باوجود غزہ پٹی میں انسانی بحران کے پیمانے کو بار بار نظرانداز یا کم تر کر کے پیش کیا۔تنظیموں نے خبردار کیا کہ ہرٹزوگ کے دورے کی اجازت سماجی منافرت میں مزید شدت پیدا کر سکتی ہے، آسٹریلیا کی پر امن فضاکو متاثر کر سکتی ہے اورمعاشرے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ تاہم حکام نے اب تک اس درخواست پر سرکاری طور پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی فوج کا پہلی بار اعتراف، غزہ میں ۷۱؍ ہزار سے زائد فلسطینی شہید
بعد ازاں آسٹریلیا کے ممتاز انصاف وکلاء نے گزشتہ جمعے کو بھی وفاقی پولیس سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ فروری میں کینبرا کے دورے سے قبل ہرٹزوگ کے خلاف نسل کشی کی تحریک کے الزامات پر تحقیقات کریں۔آسٹریلین سنٹر فار انٹرنیشنل جسٹس (ACIJ) نے تحقیقات کی رسمی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ نسل کشی کی تحریک کے الزامات کا سامنا کرنے والے ہرٹزوگ کا بغیر کسی نتیجے کے آسٹریلیا میں داخل ہونا قابل قبول نہیں ہوگا۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ بونڈی بیچ حملے کے بعد ہرٹزوگ کو وزیر اعظم انتھونی البانیزی نے مدعو کیا تھا، جس میں۱۵؍ افراد ہلاک اور۴۲؍ زخمی ہوئے تھے۔جبکہ غزہ پٹی میں جنگ کے حوالے سے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی خصوصی تحقیقاتی کمیشن نے گزشتہ سال پایا کہ اسرائیل نسل کشی کر رہا ہے، اور ۷؍اکتوبر۲۰۲۳ء کو حماس کے حملے کے بعد ہرٹزوگ کے بیانات نسل کشی کے ارادے کے ثبوت ہیں۔