Updated: August 13, 2026, 5:06 PM IST
| Canberra
آسٹریلیا میں میٹا نے حکومت کی سوشل میڈیا استعمال کی عمر مقرر کئے جانے کی تاریخ سے قبل ہی ۷؍ لاکھ ۵۶؍ ہزار نوعمروں کے اکاؤنٹ ہٹا دئے، آسٹریلوی حکومتی اعداد و شمار اور متعدد آزاد مطالعات سے پتہ چلا ہے کہ پابندی کے پہلے تین مہینوں میں۱۶؍ سال سے کم عمر کے۸۰؍ فیصد سے زیادہ بچے اب بھی سوشل میڈیا پر موجود تھے۔
فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا نے جمعرات کو کہا کہ اس نے نوعمر اکاؤنٹس پر دنیا کی پہلی پابندی کے بعد سے ۷؍ لاکھ ۵۰؍ ہزار سے زیادہ اکاؤنٹس ہٹا دیے ہیں جن کے بارے میں اسے شبہ تھا کہ وہ۱۶؍ سال سے کم عمر آسٹریلوی شہریوں کے ہیں، اور ممکنہ ریگولیٹری مداخلت کے پیشِ نظر مزید کارروائی کا وعدہ کیا۔کمپنی نے کہا کہ اس نے دسمبر میں آسٹریلوی سوشل میڈیا پابندی کے نافذ ہونے سے ٹھیک پہلے سے لے کر جون تک۴؍ لاکھ ۶۲؍ ہزار مشکوک انسٹاگرام اکاؤنٹس اور۲؍ لاکھ ۹۴؍ہزار مشکوک فیس بک اکاؤنٹس کو غیر فعال کر دیا، جبکہ جنوری تک اس نے۳؍ لاکھ ۳۱؍ ہزار انسٹاگرام اکاؤنٹس اورایک لاکھ ۷۳؍ ہزار فیس بک اکاؤنٹس ہٹانے کا دعویٰ کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ۱۲؍ اگست سورج گہن: اسپین میں ۱۲۱؍ سال، آئس لینڈ میں ۵۹۳؍ سال بعد مکمل گہن
بعد ازاں دنیا کی سب سے بڑی سوشل میڈیا کمپنی نے کہا ہے کہ وہ اس قانون کی تعمیل کرنا چاہتی ہے جس کی اس اور دیگر پلیٹ فارمز نے زبردست مخالفت کی ہے، بالکل اسی وقت جب آسٹریلوی انٹرنیٹ ریگولیٹر پلیٹ فارمز کے خلاف نفاذ کا مقدمہ دائر کرنے پر غور کر رہا ہے، جن میں میٹا کی ملکیت والے کچھ پلیٹ فارمز بھی شامل ہیں، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے قانون کی تعمیل کے لیے موثر اقدامات نہیں کیے۔جبکہ کسی دوسرے پلیٹ فارم نے میٹا کی دی گئی تاریخ کی حد سے مطابقت رکھنے والا تعمیل ڈیٹا جاری نہیں کیا، لیکن آسٹریلوی حکومتی اعداد و شمار اور متعدد آزاد مطالعات سے پتہ چلا ہے کہ پابندی کے پہلے تین مہینوں میں۱۶؍ سال سے کم عمر کے۸۰؍ فیصد سے زیادہ بچے اب بھی سوشل میڈیا پر موجود تھے۔
واضح رہے کہ آسٹریلوی حکومت نے۱۰؍ دسمبر کو نافذ ہونے والا یہ تاریخی قانون بچوں اور کم عمر، نوعمروں کی جسمانی اور ذہنی صحت پر سوشل میڈیا کے اثرات کے خدشات کے پیشِ نظر تجویز کیا تھا۔دنیا بھر کے دیگر ممالک اسی طرح کی عمر کی پابندیوں پر غور کر رہے ہیں، تاہم آسٹریلیا نے پلیٹ فارموں پر جان بوجھ کر پابندی کو ناکام بنانے کا الزام عائد کیا ہے، اور اس نے ایک قانون متعارف کرایا ہے جس کے تحت تعمیل نہ کرنے پر زیادہ سے زیادہ جرمانہ دوگنا کر کے۹۹؍ ملین آسٹریلوی ڈالر (۶۹؍ اعشاریہ ۷۵؍ملین امریکی ڈالر) کر دیا گیا ہے اور ریگولیٹر کو دستاویزات تک رسائی کے مزید اختیارات دے دیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ کی تباہ حال عمارتوں سے لاشیں نکالنے کا کام شروع
جمعہ کو پارلیمانی سماعت
دریں اثناء میٹا، ٹک ٹاک، یوٹیوب کے مالک گوگل اور اسنیپ کی اسنیپ چیٹ کے نمائندوں کے ساتھ ریگولیٹری اور حکومتی افسران سے جمعہ کو ایک پارلیمانی انکوائری میں ان تبدیلیوں کے بارے میں شہادت دینے کی توقع ہے۔میٹا نے ایک بیان میں کہا،’’نفاذ جاری ہے، اور یہ اعداد و شمار بڑھتے رہیں گے۔‘‘کمپنی نے مزید کہا، ’’ہم آسٹریلوی حکومت کے اس ہدف سے متفق ہیں کہ نوجوانوں کو آن لائن محفوظ اور عمر کے مطابق تجربات میسر ہوں، اور ہم قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں۔‘‘ ۲۰۲۵ءمیں آسٹریلیا میں عمر کی تصدیق کی ٹیکنالوجی کے ٹرائل سے پتا چلا کہ مارکیٹ میں موجود مصنوعات پابندی کو مؤثر طریقے سے سپورٹ کر سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اقوام متحدہ رسمی طرز عمل سے آگے بڑھے: فلسطینی سفیر
مزید برآں زیادہ تر بڑے پلیٹ فارمز، بشمول میٹا کے، نے تصویر پر مبنی عمر کا اندازہ لگانے والا سافٹ ویئر متعارف کرایا، حالانکہ وہ کہتے ہیں کہ وہ عموماً پہلے صارفین کو عمر کا قیاس (عمر کا اندازہ ان کی آن لائن سرگرمی کی بنیاد پر) سے گزارتے ہیں۔میٹا نے کہا کہ وہ مصنوعی ذہانت کا استعمال صارف پروفائلز کا تجزیہ کرنے کے لیے کر رہا ہے تاکہ سیاق و سباق کے اشارے مل سکیں کہ کوئی اکاؤنٹ ۱۶؍ سال سے کم عمر شخص کا ہو سکتا ہے، جیسے سالگرہ کی تقریبات یا اسکول کی جماعتوں کا ذکر۔‘‘ کمپنی نے مزید کہا کہ اس نے کسی شخص کے لیے اگر اس کا گزشتہ اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر دیا گیا تھا تو نیا اکاؤنٹ بنانے کی مزید کوششوں کا آپشن ختم کر دیا ہے۔