آر ٹی آئی درخواستوں پر کارروائی نہ ہونے سے دل برداشتہ کارکن کا لرزہ خیز اقدام، ایکناتھ شندے سے ملاقات ہونے تک احتجاج جاری رکھنے کا انتباہ۔
EPAPER
Updated: May 21, 2026, 7:06 PM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi
آر ٹی آئی درخواستوں پر کارروائی نہ ہونے سے دل برداشتہ کارکن کا لرزہ خیز اقدام، ایکناتھ شندے سے ملاقات ہونے تک احتجاج جاری رکھنے کا انتباہ۔
بھیونڈی-کلیان روڈ پر بدھ کے روز اُس وقت سنسنی خیز صورتحال پیدا ہوگئی جب ایوت محل ضلع کے ایک آر ٹی آئی کارکن نے تقریباً۱۵۰؍ فٹ بلند موبائل ٹاور پر چڑھ کر غیر معینہ مدت کا احتجاج شروع کردیا۔ احتجاجی کارکن نے اپنے آبائی گاؤں کی گرام پنچایت انتظامیہ پر ناانصافی، سرکاری لاپروائی اور معلومات چھپانے کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق۴۸؍سالہ سماجی کارکن شیام ماروتی گائیکواڑ جو ایوت محل ضلع کے ڈگرس تعلقہ کے اساپور گاؤں کے رہنے والے ہیں، بدھ کی صبح بھیونڈی تعلقہ کے پمپلاس گاؤں کے قریب واقع موبائل ٹاور پر چڑھ گئے اور پولیس و انتظامیہ کی مسلسل اپیلوں کے باوجود نیچے آنے سے انکار کردیا۔گائیکواڑ نے ٹاور کے اوپر سے متعدد تحریری درخواستیں نیچے پھینکیں جن میں انہوں نے الزام لگایا کہ گرام پنچایت حکام، گرام سیوک، بلاک ڈیولپمنٹ افسران اور پولیس اہلکار آر ٹی آئی قانون کے تحت مانگی گئی معلومات فراہم نہیں کر رہے اور انہیں انصاف سے محروم رکھا جا رہا ہے۔اپنے مکتوب میں انہوں نے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ اساپور گرام پنچایت میں مبینہ بے ضابطگیوں کی جانچ کر کے ذمہ دار افسران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعدد شکایات اور درخواستوں کے باوجود متعلقہ محکموں نے کوئی کارروائی نہیں کی جس کے باعث انہیں یہ انتہائی قدم اٹھانا پڑا۔کارکن نے الزام لگایا کہ گرام پنچایت دفتر سے رہائشی ریکارڈ کے بعض اہم دستاویزات غائب ہیں جبکہ کئی سرکاری ریکارڈ میں تضادات موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:اٹلی: جیلوں میں بھیڑ بھاڑ کی شرح ۱۳۹؍ فیصد سے تجاوز، خودکشیوں، تشدد میں اضافہ
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ گاؤں کے نقشے اور ریکارڈ دستیاب نہ ہونے کے سبب ان کا مکان اب تک ان کے نام پر درج نہیں ہوسکا جس کی وجہ سے انہیں مسلسل پریشانی اور امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ذرائع کے مطابق احتجاجی کارکن نے قومی پرچم، ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کی تصویر، ایک میگا فون اور پیٹرول کی بوتل بھی اپنے ساتھ رکھی ہوئی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ انہوں نے احتجاج کے لئے بھیونڈی کا انتخاب اس وجہ سے کیا کیونکہ تھانے ضلع نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کا سیاسی گڑھ ہے۔ انہوں نے مبینہ طور پر اعلان کیا کہ جب تک شندے ذاتی طور پر مداخلت نہیں کریں گے، وہ احتجاج ختم نہیں کریں گے۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، فائر بریگیڈ اور ڈیزاسٹر رسپانس کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ پورے دن ٹاور کے نیچے بھاری پولیس بندوبست تعینات رہا جبکہ افسران مسلسل فون پر رابطہ کر کے انہیں محفوظ طریقے سے نیچے آنے کی اپیل کرتے رہے۔دیر شام تک کارکن ٹاور پر موجود تھے جبکہ موقع پر بڑی تعداد میں لوگوں کا ہجوم جمع ہوگیا، جس کے باعث علاقے میں کشیدگی کا ماحول پیدا ہوگیا۔