• Thu, 03 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بلیا:ایک پاؤں پر اسکول جانے والی راگنی کو انتظامیہ کا تحفہ، ٹرائی سائیکل دی گئی

Updated: September 02, 2026, 10:03 PM IST | Ballia

بلیا، اتر پردیش کی ۷؍سالہ راگنی نے حادثے میں ایک پاؤں گنوانے کے باوجود تعلیم حاصل کرنے کا حوصلہ نہیں ہارا اور اسکول جانے کیلئے مسلسل جدوجہد کرتی رہی۔اس کی جدوجہد رنگ لائی اور ضلع انتظامیہ نے اس کی مشکل آسان کرتے ہوئے اسے ٹرائی سائیکل فراہم کردی، جس سے اب اس کا اسکول تک کا سفر آسان ہوگیا ہے۔

Ballia DM is standing next to Ragini, villagers are also seen around. Photo: X
بلیا کے ڈی ایم راگنی کے پاس کھڑے ہیں،اطراف میں گاؤں والے بھی نظر آرہے ہیں۔تصویر: ایکس

اتر پردیش کے ضلع بلیا میں منئیر بلاک کے تحت رانی پور دگھیڑا گاؤں کی رہنے والی ۷؍سالہ راگنی نے سڑک حادثے میں اپنا ایک پاؤں گنوا دیا تھا، لیکن اس کے بلند حوصلے کے آگے تمام مشکلات چھوٹی نظر آنے لگی ہیں۔ جس عمر میں بچوں کے کندھوں پر اسکول کا بستہ اور آنکھوں میں خواب ہوتے ہیں، اس عمر میں راگنی ایک پاؤں کے سہارے زندگی اور تعلیم دونوں کیلئے جدوجہد کر رہی ہے۔ اس کا اسکول گھر سے محض ۴۰۰؍ میٹر کے فاصلے پر ہے، لیکن اس کیلئے یہ چھوٹا سا راستہ کسی لمبی اور مشکل جنگ سے کم نہیں۔ وہ راستے میں کئی بار گرتی ہے، بیٹھ کر روتی ہے، لیکن پھر بھی ہمت جٹا کر اٹھتی ہے اور اسکول جانے کی کوشش کرتی ہے۔ راگنی کی بس ایک ہی خواہش ہے کہ وہ بھی دوسرے بچوں کی طرح پڑھے اور اپنے پیروں پر کھڑی ہو۔

یہ بھی پڑھئے: ایئر وائس مارشل شکتی شرما ملک کی مسلح افواج میں پہلی خاتون افسر بنیں

راگنی کی والدہ ببیتا نے بتایا کہ وہ گاؤں کے ہی پرائمری اسکول میں پہلی جماعت کی طالبہ ہے۔ جب محلے کے بچے بستہ لے کر گھر کے سامنے سے گزرتے ہیں تو راگنی رو کر اسکول جانے کی ضد کرتی ہے۔ ۴۰۰؍ میٹر کا یہ سفر اسے ۴۰۰؍ کلومیٹر کے برابر محسوس ہوتا ہے۔ کبھی گھر کا کوئی فرد اسے اسکول چھوڑ آتا ہے تو کبھی وہ خود ایک ہی پاؤں پر کودتے ہوئے نکل پڑتی ہے۔ اس سفر کے دوران وہ کئی بار زمین پر بیٹھ کر روتی ہے اور اپنی قسمت پر سوال اٹھاتی ہے۔ اس کے خاندان کی مالی حالت انتہائی خراب ہے اور والد مزدوری کرکے گھر کا گزر بسر کرتے ہیں۔ راگنی کو مصنوعی پاؤں یا ٹرائی سائیکل کی ضرورت تھی تاکہ اس کا اسکول جانے کا راستہ آسان ہوسکے۔

یہ بھی پڑھئے: نئی دہلی: بسوں کیلئے سخت حفاظتی ضابطے، پردے اور غیر مجاز اسٹاپ پر پابندی

راگنی کی یہ درد بھری کہانی سامنے آنے کے بعد سرکاری نظام بھی حرکت میں آیا۔ بلیا کے بیسک ایجوکیشن آفیسر منیش کمار سنگھ نے بچی کے بارے میں معلومات ملنے کے بعد اسے مصنوعی پاؤں فراہم کرنے اور سرکاری سہولیات کا فائدہ پہنچانے کا یقین دلایا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اس کی تعلیم جاری رکھنے کیلئے مالی مدد اور اگر ممکن ہو تو طبی علاج کا انتظام کرنے کی بات بھی کہی گئی تھی۔اب راگنی کی زندگی میں ایک بڑی آسانی آگئی ہے۔ راگنی کی اسکول جانے کی جدوجہد اور ٹرائی سائیکل کیلئے اس کی جذباتی اپیل سامنے آنے کے بعد بلیا کے ضلع مجسٹریٹ منگلّا پرساد سنگھ نے معاملے کا فوری نوٹس لیا۔ ڈی ایم خود راگنی کے گاؤں پہنچے اور اسے ٹرائی سائیکل فراہم کی، جس سے اب اس کیلئے ۴۰۰؍ میٹر کا اسکول تک کا سفر آسان ہوجائے گا۔ ڈی ایم نے راگنی کو پڑھائی کا سامان اور چاکلیٹس بھی دیئے۔ انتظامیہ کی جانب سے اس کا طبی معائنہ بھی کرایا گیا ہے اور مستقبل میں بھی اس کی ضرورت کے مطابق مدد جاری رکھنے کا یقین دلایا گیا ہے۔ساتھ ہی انتظامیہ نے اسے معذوری کا سرٹیفکیٹ بھی جاری کیا اور کہا کہ اس کے اسکول جانے والے راستے پر مرمت کا کام کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: شاہ رخ خان وی آئی کے نئے برانڈ ایمبیسیڈر، کمپنی نے نیا لوگو بھی متعارف کرا دیا

بتا دیں کہ راگنی نے ڈی ایم سے ٹرائی سائیکل کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ آسانی سے اسکول جانا چاہتی ہے اور روز پڑھنے آئے گی۔ ٹرائی سائیکل ملنے کے بعد اس کی خوشی دیدنی تھی۔  وہ پڑھ لکھ کر ڈاکٹر بننا چاہتی ہے۔ ایک پاؤں کھونے کے باوجود تعلیم حاصل کرنے کا اس کا عزم نہ صرف اس کے خاندان بلکہ پورے معاشرے کیلئے حوصلے اور امید کی مثال بن گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK