’ملک کے موجودہ حالات اور ہماری ذمہ داریاں‘ کے عنوان سے منعقدہ مذاکرہ میں آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے مسائل کا مقابلہ کرنے پر اتفاق۔
EPAPER
Updated: July 28, 2026, 12:30 PM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi
’ملک کے موجودہ حالات اور ہماری ذمہ داریاں‘ کے عنوان سے منعقدہ مذاکرہ میں آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے مسائل کا مقابلہ کرنے پر اتفاق۔
ملک کو درپیش سیاسی، سماجی، تعلیمی اور آئینی چیلنجوں کے تناظر میں یہاں ایک اہم فکری مذاکرہ منعقد ہوا، جہاں مقررین نے اختلافِ رائے کے باوجود آئین، قانون، تعلیم، اتحاد اور قومی ذمہ داری کو مسائل کے حل کا بنیادی راستہ قرار دیا۔ لوک ہند پارٹی اور بھیونڈی ایکشن فورس کے مشترکہ زیرِ اہتمام ’ملک کے موجودہ حالات اور ہماری ذمہ داریاں‘ کے عنوان سے منعقدہ اس مجلسِ مذاکرہ میں دانشوروں، صحافیوں، علما، سماجی کارکنوں، تعلیم یافتہ نوجوانوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
ملک مختلف مسائل سے گھرا ہوا ہے
معروف صحافی، محقق اور مصنف شمیم طارق نے اپنے خطاب میں ملک کے موجودہ حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے مطالبات کے تناظر میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ پہلے ہی آ جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے بڑھتے ہوئے سائبر فراڈ، عوام کو بنیادی خدمات کے لئے مختلف دفاتر کے باہر طویل قطاروں میں کھڑے رہنے کی مجبوری اور انتظامی بے ترتیبی کو سنگین مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’ملک مختلف مسائل سے گھرا ہوا ہے اور بھیونڈی تو مسائل کا گڑھ بن چکا ہے۔‘‘ انہوں نے حاضرین کے سوالات کے مدلل اور اطمینان بخش جوابات بھی دئیے۔
یہ بھی پڑھئے: ہائی کورٹ نے وقف پراپرٹی کو ’دشمن کی ملکیت‘ قراردینے کیخلاف فیصلہ سنایا
نوجوانوں کی فعال شرکت وقت کی اہم ضرورت
ممبئی اردو نیوز کے مدیر شکیل رشید نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل کیلئے نوجوانوں کی فعال شرکت وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان صرف اپنی برادری کے مسائل تک محدود نہ رہیں بلکہ تمام شہریوں کے مشترکہ مسائل کے حل کے لئے چلنے والی عوامی تحریکوں میں حصہ لیں کیونکہ مضبوط جمہوریت اور قومی اتحاد اسی شعور سے پروان چڑھتا ہے۔
مذاکرے کے دوران سوال و جواب کی نشست بھی منعقد ہوئی، جس میں بھیونڈی ایکشن فورس کے روحِ رواں قاسم انصاری نے ممکنہ ’وندے ماترم‘ قانون اور دیگر مجوزہ قوانین کے تناظر میں عوامی حکمت عملی سے متعلق سوال کیا۔ صمدیہ ہائی اسکول کے پرنسپل ساجد صدیقی سمیت دیگر شرکا کے سوالات کے جواب میں مقررین نے زور دیا کہ ہر چیلنج کا مقابلہ آئینی، قانونی اور جمہوری دائرے میں رہتے ہوئے صبر، حکمت اور اتحاد کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔
قوم کی ترقی نعروں سے نہیں بلکہ ا جتماعی جدوجہد سے ممکن
اختتامی خطاب میں لوک ہند پارٹی کے قومی صدر الحاج بدیع الزمان خان نے کہا کہ قوموں کی ترقی نعروں سے نہیں بلکہ تعلیم، کردار، اتحاد، ایثار، مسلسل محنت اور اجتماعی جدوجہد سے ممکن ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ہم سب کا مشترکہ وطن ہے اور اس کی ترقی، امن، استحکام اور آئین و قانون کا احترام ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے باہمی بھائی چارے، آئین کی پاسداری،معاشی خود کفالت، جدید تعلیم، ٹیکنالوجی، سیاسی شعور، قومی اتحاد اور سماجی خدمت کو کامیاب قوم کی بنیاد قرار دیتے ہوئے نوجوانوں کو تجارت، صنعت، ہنرمندی اور جدید ٹیکنالوجی کی جانب آگے بڑھنے کی تلقین کی۔
یہ بھی پڑھئے: پرائمری اسکولوں کے اساتذہ کو بی ایل او کی ڈیوٹی دینے کے خلاف عرضی
سوال و جواب کی نشست میں ایم ابوبکر کے اس سوال پر کہ کیا حب الوطنی کے راستے میں مذہب رکاوٹ بنتا ہے؟ شمیم طارق نے کہا کہ وطن سے محبت ہر ذمہ دار شہری کی فطری ذمہ داری ہے، تاہم مسلمان عبادت صرف اللہ تعالیٰ کی کرتے ہیں، اس لئے حب الوطنی اور وطن پرستی کے فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ مذاکرے کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ موجودہ قومی حالات میں اختلافات سے بالاتر ہو کر آئین و قانون کی پاسداری، تعلیم کے فروغ، معاشی خود کفالت، سماجی خدمت اور قومی یکجہتی کو مضبوط بنانا ہی ایک پُرامن، مستحکم اور ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کی ضمانت ہے۔پروگرام کا آغاز مولانا اسعد قاسمی کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جبکہ معروف شاعر سیماب انور نے نظامت کے فرائض انجام دئیے۔پروگرام میں گلوکار سہیل انصاری نے حب الوطنی پر مبنی نغمہ پیش کیا جسے حاضرین نے خوب سراہا۔