Updated: February 09, 2026, 9:55 PM IST
| Dhaka
بنگلہ دیش میں ۱۲؍ فروری کو ہونے والے عام انتخابات سے قبل انتخابی مہم اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ سیاسی جماعتیں ۲۰۲۴ء کی عوامی بغاوت کو اپنی سیاسی شناخت کا مرکز بنا رہی ہیں، جس نے شیخ حسینہ کی طویل حکمرانی کا خاتمہ کیا تھا۔ ایک طرف بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اقتدار کی مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آئی ہے، تو دوسری جانب جماعتِ اسلامی اور اس کے اتحادی خود کو انقلاب کے اصل وارث کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ اسی دوران مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ منظم آن لائن ڈس انفارمیشن، بالخصوص بیرونی ذرائع سے آنے والی مہمات، انتخابی عمل کی شفافیت کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہیں۔
بنگلہ دیش میں عام انتخابات سے صرف چند دن قبل سیاسی سرگرمیاں اپنے عروج پر پہنچ چکی ہیں، جہاں تقریباً ہر جماعت ۲۰۲۴ء کی عوامی بغاوت کو اپنی مہم کا مرکزی حوالہ بنا رہی ہے۔ یہی وہ تحریک تھی جس نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی پندرہ سالہ حکمرانی کا خاتمہ کیا اور ملک کو ایک عبوری سیاسی دور میں داخل کیا۔ دارالحکومت ڈھاکا میں گزشتہ ہفتوں مختلف سیاسی جماعتوں کے جلسوں میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ پارٹی جھنڈوں، انقلابی نعروں اور سخت سیکیورٹی انتظامات کے درمیان ہونے والی یہ ریلیاں اس بات کی علامت ہیں کہ ۱۷۰؍ ملین آبادی والا یہ ملک ایک بار پھر ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ اس انتخاب میں نیا پارلیمان منتخب کیا جائے گا، جبکہ سابق حکمراں جماعت عوامی لیگ کو عبوری حکومت کی جانب سے انتخابی عمل سے باہر رکھا گیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اس وقت سب سے مضبوط امیدوار سمجھی جا رہی ہے۔ پارٹی کی قیادت طارق رحمان کے ہاتھ میں ہے، جو دسمبر میں ۱۷؍ برس کی جلاوطنی کے بعد وطن واپس آئے۔ اتوار کو انہوں نے ڈھاکا کے میرپور علاقے میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کیا، جہاں انہوں نے اپنے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ مقامی امیدوار کی کامیابی کو یقینی بنائیں تاکہ منتخب ہونے کے بعد عوامی مسائل پر توجہ دی جا سکے۔
یہ بھی پڑھئے: سپر باؤل ۲۶ء: بیڈ بنی کا پیغامِ اتحاد، ٹرمپ کی تنقید، گلوکار کا انسٹاگرام خاموش
طارق رحمان نے اپنی تقریر میں حریف جماعتوں پر براہِ راست حملوں سے گریز کیا، لیکن یہ واضح کیا کہ عوام کی بہتری ذاتی یا جماعتی تنازعات سے بالاتر ہونی چاہیے۔ ان کی ریلی کے دوران پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی اور ڈرونز کے ذریعے نگرانی کی جا رہی تھی، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکام کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کیلئے محتاط ہیں۔ دوسری جانب جماعتِ اسلامی کے سربراہ شفیق الرحمن نے ڈھاکا کے ایک ایسے حلقے میں جلسہ کیا جو ۲۰۲۴ء کی بغاوت کے دوران نمایاں رہا تھا۔ انہوں نے سابق حکومت پر جبر اور بدعنوانی کے الزامات دہراتے ہوئے کہا کہ اقتدار کی تبدیلی کے فوراً بعد بھی عام لوگوں کو مکمل انصاف نہیں ملا۔ ان کے مطابق، بعض پرانے سیاسی کردار دوبارہ طاقتور ہو گئے ہیں اور بدعنوانی نئی شکلوں میں واپس آ رہی ہے۔ جماعتِ اسلامی نے نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کے ساتھ اتحاد کیا ہے، جس کی قیادت وہ طلبہ کر رہے ہیں جنہوں نے ۲۰۲۴ء کی تحریک میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ای سی پی کے لیڈروں نے الزام لگایا کہ ملک کی بڑی جماعتیں برسوں سے سیاسی طاقت کو ذاتی فائدے کیلئے استعمال کرتی رہی ہیں، اور انہوں نے وعدہ کیا کہ اگر انہیں موقع ملا تو وہ مقامی سطح پر شفاف طرزِ حکمرانی کو فروغ دیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: ڈلاس پر امریکی قانون ساز کا متنازع بیان، ’اسلامائزیشن‘ کے دعوے پر شدید ردِعمل
جلسوں میں ۲۰۲۴ء کی تحریک کے نعرے ایک بار پھر سنائی دیے،’’انقلاب زندہ باد‘‘ اور ’’غلامی یا آزادی‘‘، جہاں حاضرین نے آزادی کے حق میں جواب دیا۔ کئی بزرگ ووٹروں نے کہا کہ وہ طویل عرصے بعد ووٹ ڈالنے کا ارادہ رکھتے ہیں کیونکہ انہیں امید ہے کہ یہ انتخاب ایک منصفانہ اور پرامن مستقبل کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ سیاسی عمل کو درپیش سب سے بڑا نیا چیلنج منظم ڈس انفارمیشن ہے۔ ماہرین کے مطابق، سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں جھوٹی معلومات پھیلائی جا رہی ہیں، جن میں خاص طور پر اقلیتوں پر حملوں سے متعلق دعوے شامل ہیں۔ عبوری حکومت کے سربراہ اور نوبیل انعام یافتہ محمد یونس نے اس صورتحال کو ’’غلط معلومات کے سیلاب‘‘ سے تعبیر کیا اور اقوام متحدہ سے تعاون طلب کیا ہے۔ تحقیقی اداروں اور فیکٹ چیکنگ تنظیموں کے مطابق، ’’ہندو نسل کشی‘‘ جیسے نعروں کے تحت پھیلنے والا زیادہ تر مواد منظم نیٹ ورکس کے ذریعے گردش میں آیا، جس میں جدید اے آئی ٹیکنالوجی کا استعمال بھی دیکھا گیا۔ پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق، اقلیتوں سے متعلق رپورٹ ہونے والے واقعات میں سے صرف ایک محدود حصہ فرقہ وارانہ نوعیت کا تھا، تاہم آن لائن مہمات نے اس تاثر کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔
یہ بھی پڑھئے: تھائی لینڈ انتخابات: بھوم جے تھائی پارٹی کو فیصلہ کن فتح، نیا حکومتی دور متوقع
الیکشن کمیشن نے سوشل میڈیا کی نگرانی کیلئے خصوصی یونٹ قائم کی ہے اور بڑی ٹیک کمپنیوں کے ساتھ رابطہ بڑھایا ہے، لیکن حکام تسلیم کرتے ہیں کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مواد کی رفتار اور حجم ایک مستقل چیلنج ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں اسمارٹ فون کا استعمال تیزی سے بڑھا ہے، اس لئے جعلی ویڈیوز اور تصاویر ووٹروں کے فیصلے کو متاثر کر سکتی ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، ۱۲؍ فروری کا انتخاب اس بات کا بھی امتحان ہے کہ آیا بنگلہ دیش ۲۰۲۴ء کی بغاوت کے بعد جمہوری استحکام، شفاف معلومات اور آزاد انتخاب کی راہ پر گامزن ہو پاتا ہے۔ یہ صرف حکومت کی تبدیلی کا سوال نہیں، بلکہ اس بات کا فیصلہ بھی ہے کہ ملک کس سمت میں آگے بڑھے گا۔